اگر اداکارہ میرا پاکستانی وزیراعظم ہوتیں؟


میرا جی کو کون نہیں جانتا، وہ ہمارے ملک کی ایک سپر سٹار ہیں۔ انھوں نے کئی فلموں میں کام کیا اور بہت شہرت کمائی۔ ان کی وجہ شہرت ان کے کچھ انٹرویو بھی جہاں انھوں نے کچھ لوگوں کے بقول بے پر کی اڑائی ہیں۔ سو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ان کی فلموں سے زیادہ اب ان کے لطیفے مشہور ہیں۔ اتفاق یہ ہے اسی طرح کہ صورتحال کا سامنا کچھ اور سپر اسٹار ٹائپ کے لوگوں کو بھی ہے جو میرا سے بھی زیادہ مشہور ہیں، بہت بڑے عہدوں پر ہیں اور بے دھڑک بونگیاں مارتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس وقت میرا جی کا ایک کلپ چل رہا ہے جس میں انہوں اردو شاعری پڑھنے کی ایک ناکام کوشش کی ہے۔ میرا جی کی انگریزی کا مذاق تو بنتا ہی تھا اب اردو کا بھی بننا شروع ہو گیا۔ لوگوں نے کئی طرح کے تبصرے کیے کچھ لوگوں (راقم الحروف) سمیت نے یہ بھی کہا کہ شاید میرا جی وزیراعظم بننا چاہتی ہیں۔

ویسے اس میں کوئی حرج تو نہیں خاص طور پر موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے، پاکستان کے ہر شہری کی طرح ان کا بھی حق ہے وہ بھی وزیراعظم بننے کی خواہش کریں۔

ایک لمحے کو ذرا سوچیں کہ اگر میرا واقعی پاکستان کو وزیراعظم ہوتیں تو کیا ہوتا؟ ان کا بیانیہ کیا ہوتا؟ شاید یہ کہ اس ملک سے حرام خوری کو ختم کیا جائے اور تمام اداکاروں کو ان کا حق ملے۔ سب سے پہلے تو وہ شاید ان لوگوں کو بھرتی کرتیں جو ان کے امیج کو بہتر طور پر اجاگر کر سکیں۔ اگر کوئی تھوڑی بہت کارکردگی ہو اس کو نمایاں کر کے پیش کر سکیں۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ شوبز کی دنیا میں عام طور سکرین پر جلوہ گر ہونے والوں کو شائقین کی تالیوں کی عادت تو ہوتی ہے مگر مخالفین سے بھی ہوشیار رہنا ہوتا ہے۔ اسی لئے ان کے آپس کے لڑائی جھگڑے چلتے رہتے ہیں۔ اگر میرا جی وزیراعظم ہوتیں تو امکان یہی ہے کہ وہ ان تمام مخالفین کو ہمہ وقت تگڑا جواب دینے کے لئے ان سے بھی زیادہ بد زبان لوگوں کو ترجمان مقرر کر دیتیں۔ ہمارے یہاں ویسے قریبی رشتہ داروں، دوستوں اور قریبی رشتہ داروں کے دوستوں کو نوازنے کا ایک طریقہ تو ہے مگر کیا میرا جی کسی سابق طبلچی کو کسی اہم عہدے پر لگا دیتیں؟ یہ ہم نہیں جانتے خیال یہ ہے کہ میرٹ کا اس قدر برا حال تو میرا جی کے عہد میں نہ ہوتا۔

ہاں فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے فروغ کے لئے بھرپور کام کرتیں اور لوگ مانتے بھی ، کیوں کی ان کا تعلق فلم سے ہے۔ وہ ملکی اور غیر ملکی ڈراموں کو پروموٹ کرتیں، باہر سے آنے والے پروڈیوسروں سے سارے اہم معاملات چھوڑ کر میٹنگز کرتیں اور گانوں سے ملک کا امیج بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کرتیں۔

اگر میرا جی وزیراعظم ہوتیں تو لوگ سوچتے کہ بھئی ایک فلم اسٹار کو اتنے ووٹ کیسے مل گئے، یہ بات حالانکہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ میرا کی جدوجہد کم از کم پچیس سال کی تو ہے۔ اپوزیشن ان پر الزام لگاتیں کہ ان کو عوام نے نہیں بلکہ مخصوص حلقوں نے منتخب کیا ہے۔ شاید وہ ان کو سلیکٹیڈ بھی کہہ دیتے؟ مگر سوال یہ ہے کہ کیا میرا جی پارلیمنٹ میں بھی آتیں؟ جتنی ان کی انگریزی اردو کی استعداد ہے ، ان کو یہ خدشہ ہوتا کہ پارلیمنٹ میں ان کا مذاق اڑایا جائے گا۔ اس لئے ان کی غالباً پوری کوشش ہوتی کہ وہ پارلیمنٹ کا رخ نہ کریں۔

میرا جی کو معاشیات کا بھی کیا پتہ؟ کیا وہ اتنے پڑھے لکھے بیوروکریٹس مشکل زبان سمجھ لیتیں؟ کیا وہ کوئی ایسی بات کر پاتیں جس پر یہ قابل بیوروکریٹ سر ہلا تے؟ غالباً نہیں وہ تو ان پر ہی اکتفا کرتیں اور ملک کو جیسا تیسا چلنے دیتیں۔ وہ شاید کارپوریٹ سیکٹر کے کسی بھی ناکام سے سی ای او کو ملک کا مسیحا سمجھ لیتیں،  کیوں کہ ان کی مشکل باتیں عام طور پر سمجھنا دشوار ہوتا ہے اور وہ یہ فیصلہ کر لیتیں کہ یہی ہے مسیحا اس قوم کا؟ یا وہ آئی ایم ایف کے لوگوں کو اہم ترین عہدوں پر لگا کہ سوچ لیتیں کہ یہ جانیں  اور لوگ جانیں۔ لوگ مہنگائی کا شکوہ کرتے، معاشی بدحالی کا شکوہ کرتے تو انگریزی میں کہتیں ’’آئی ڈونٹ نو دس اس بیکاس آف لاسٹ گورمنٹ۔‘‘

یعنی ہماری گورنمنٹ نہیں بکی پہلی والی بک گئی تھی

فلم انڈسٹری سے تعلق اور ہیروئن ہونے کی وجہ سے وہ سیاسی جوڑ توڑ تو خوب کر لیتیں، امکان ہے کہ ان کا زیادہ تر وقت اپنے مخالفیں کی نیندیں حرام کرنے میں لگ جاتا۔ مگر وہ روز اپنا بیانیہ دھراتیں کہ ہم اس ملک سے حرام خوری کا خاتمہ کر دیں گے۔ گزشتہ حکومت میں سب انگریزی بولتے تھے، کسی کو کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں ، اب سب جیل جائیں گے۔

میرا جی اداکارہ بہت عمدہ ہیں ، عالمی فورم پر کھڑے ہو کر وہ تقریر کرنے کی وہ ایسی ایکٹنگ کرتیں کہ سارے جہاں میں ہماری دھوم مچ جاتی۔ ہاں امکان یہ ہے کہ معاملات کی سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے تمام دوست ممالک سے ہمارے تعلقات بگڑ جاتے۔ کچھ تو ہم پر ویزے کی پابندیاں بھی عائد کر دیتے۔ کیونکہ میرا اتنے مشکل معاملات نہ سمجھ پاتیں ، اس لئے آس پاس کے لوگ بس اپنی مرضی کرتے اور ملک میں کرپشن بڑھ جاتی۔ مگر ہمیں یہ تو تسلی ہوتی کہ سب کرپٹ ہیں تو کیا،  میرا جی خود اتنی ایمان دار جو ہیں۔

ہمیں پتہ ہے کہ سائنس اور جغرافیہ گو کہ میرا جی نے پڑھ رکھا ہے مگر ان علوم پر انہیں عبور حاصل نہیں۔ مگر کیا وہ باہر کس ملک میں جا کر یہ کہہ دیتیں کہ تائیوان اور امریکہ کی سرحد آپس میں ملتی ہے؟ یا یہ کر انڈونیشیا اور نائجیریا جنگ عظیم دوم میں ایک دوسرے کے خلاف تھے؟ ایسا غالباً نہ ہوتا کیوں کہ وہ محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کسی پرچی کا سہارا لیتیں اور ملک کی ہنسی نہ اڑتی۔

سائنس پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے  وہ یہ کبھی نہ کہتیں کہ ٹرین آواز کی رفتار (جو سائنسی طور پر ممکن بھی ہے ) سے چلتی ہیں۔ لائٹ آف اسپیڈ کیا ہوتی ہے ، میرا نہیں جانتیں مگر یہ تو ہم بھی نہیں جانتے۔ امکان ہے کہ وہ کوئی احمقانہ بات کر دیتیں مگر سوال یہ ہے کہ وہ بات کس قدر احمقانہ ہو سکتی تھی؟ یہ درخت رات میں ہیلیم یا نائٹروجن چھوڑتے ہیں؟

کیا میرا جی یہ بھی کہتیں کہ وہ لاشوں سے بلیک میل نہ ہوں گی؟ یا جا کر ماؤں اور بہنوں کو مشکل وقت میں گلے لگاتیں؟

اب آپ کچھ بھی کہیں ، میرا جی کی نیت پر تو کوئی شک نہیں کر سکتا ، انہوں نے جس فلم میں کام کیا، پوری محنت سے کیا۔ ان کی کئی فلمیں کامیاب بھی ہیں۔ میرا جی پر کرپشن کا الزام بھی نہیں ہے؟ تو ایک چانس ان کو بھی نہ دے دیں ، ویسے اب اس سے برا حال اور کیا ہو گا؟

Facebook Comments HS