پیمرا کی آنکھیں اور بے شرمی و بے باکی کی لغت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔ مگر کہاں ہوتی ہے۔ ؟

جی ہمیں پیمرا نے ایک بار پھر یہ سوچنے پہ مجبور کر دیا ہے۔ دل نا امید، آدھے عنوان کی آدھی کہانی اتنی وزنی ہے کہ جیسے معاشرے کی دم پہ پاؤں آ گیا ہو۔ اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ کہانی ہمارے ملک یا سماج کی نہیں۔ تو دو ٹوک بات یہ ہے کہ یہ کہانی آپ کے سماج ہی کی ہے اور آپ کی ہی ہے۔ لیکن آپ اپنا یہ حسین و جمیل چہرہ دیکھنا نہیں چاہتے۔

جان من، جان جاں، جان جگر، جان تمنا آپ کہیں تو محبت۔ میں کہوں تو فحاشی۔ صوفیانہ کلام بیک وقت حقیقی و مجازی معنی دیتے ہیں۔ جیسے یہ محبت بھرے الفاظ دے رہے ہیں۔ ہائے مگر

آپ کا کتا ٹامی اور میرا کتا، کتا۔

اب تو ایسا نہ کریں۔ کتا، کتا ہی ہوتا ہے۔ نسل کے فرق سے دم سب ہلاتے ہیں۔ اگر بات کی جائے بولڈنیس کی تو مان لیتے ہیں، اور اگر بات کی جائے بے شرمی کی تو معاف کیجیے آپ قصور وار ہیں۔ آپ کی آنکھیں اور ذہن کو دو ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔

جیسے ڈرامے کا ایک ڈائیلاگ ہے ”مجھے جانور پسند ہیں لیکن دو ٹانگوں والے‘‘ اگر لکھنے والی دو ٹانگوں کے ساتھ جانور اور ان دو ٹانگوں کی درمیانی دم پہ پیر نہ رکھ دیتی تو یہی اس کا کمال ہوتا۔ مگر اس نے معاشرے کی اس نبض پہ ہاتھ رکھا ہے۔ جو تیز چلتی ہے اور اسے ہر پل ڈاکٹر کے بہانے سے فرار چاہیے ہوتا ہے۔

اجی کیا کیجیے۔ جب بات علامت میں کی جائے تو ٹھاہ کر کے کیوں لگتی ہے؟ تب آپ کیوں نہیں دیکھ پاتے جب مختلف ڈراموں میں سین کی سچائی دکھانے کے لئے ٹیم حسین ٹانگوں کا دیدار کروا دیتی ہے۔ ان حسین پنڈلیوں سے کیا کسی کے جذبات میں آگ نہیں لگتی۔

اجی لگتی ہے تو لگتی رہے۔ چلو سب دا بھلا تے سب دی خیر تو ہو گئی۔ یہ بے شرمی ہمیں قبول ہے۔ مگر یہ بے باکی ہم قبول نہیں کرتے۔ جب ہم طریقے سلیقے کے ساتھ ایک بے باک موضوع پہ بات کر کے سماج کو یہ بتا سکیں کہ آپ کے بچوں کے ساتھ ایسا بھی ہو سکتا ہے، محتاط رہیے۔ کیونکہ یہ ہو رہا ہے، کیونکہ یہ بکتا ہے، کیونکہ یہ خریدا جاتا ہے، کیونکہ ہم خود بھی فروخت کر سکتے ہیں، مجبوری کچھ بھی کروا سکتی ہے۔ یا دشمنی کسی بھی صورت سامنے آ سکتی ہے، ہوس کی گندی آنکھیں بھی باپردہ ہو کر برہنہ ناچ سکتی ہیں۔ بس اتنا سا ہی تو ہوا ہے۔

”یہ مجبور لوگوں کا کام ہے،‘‘ ہائے آپ کتنے مجبور کر دیے گئے ہیں۔ سرکار بند کر دیجیے ڈرامے کو۔ کیونکہ جو بات پہنچانی تھی پہنچ چکی ہے۔ جو رہ گئی تھی آپ کی پابندی نے پہنچا دی ہے۔ اب وہ لوگ بھی ڈرامہ دیکھ رہے ہیں جو ڈرامہ نہیں دیکھتے۔ اب یہ ڈرامہ یو ٹیوب پہ بھی چل جائے گا۔ اب اس کو چینل کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ اور جی وہ جو آپ دیکھنا چاہ رہے ہیں۔ چاہ کر بھی نہیں ہو گا۔اس کے لیے شدید قسم کی معذرت کیونکہ وہ دکھانا اس ڈرامے کی ٹیم کا مقصد ہی نہیں، شاید آپ کی ضرورت ہو۔

ویسے قسم سے بے شرمی اور بے باکی میں بہت فرق ہے۔ ان کی لغت بھی الگ ہے۔ نفسیات بھی الگ اور اعمال بھی الگ۔ مگر لگتا کچھ یوں ہے کہ یہ تینوں موضوع اور مضامین آپ کے علم فلکیات سے نیچے کے ہیں۔

” (لڑکیاں ) بے نام لوگوں کے گندے رویوں سے ڈرتی ہیں،‘‘  کتنا سچا مکالمہ ہے۔ جی ہماری بچیاں بے نام لوگوں کے گندے رویوں سے ڈرتی ہیں اور ہمارے بچے اپنے ہی والدین کے گندے رویوں سے نالاں ہیں، ہم کیوں نہیں ماننا چاہتے؟ ہم اپنے بچوں کو اپنے مالکانہ رویوں سے گھروں سے بھاگنے پہ مجبور کر کے، جرائم کی پیداوار میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں، ہم کیوں نہیں مانتے؟ ہم کیوں نہیں مانتے کہ ہم چوبیس کیرٹ کے نرم سونے سے جڑے جھمکے ہماری ماں کو بیٹا پیدا کر کے، اسے بیاہنے پر چاہیے ہوتے ہیں؟ ہم کیوں نہیں مانتے کہ ہم کوالیفائڈ جہالت کی طرف جا چکے ہیں۔

ہم کیوں نہیں مانتے کہ ہم ہوس میں بھی عجیب رویوں کے حامل ہیں کہ سکول جاتی بچیاں بس گلی محلے کے انکلز کی کمزور آنکھوں اور بد نظری کا نشانہ رہیں؟ ہم کیسے باپ ہیں کہ دوست نے کہا میری بیٹی نہیں پڑھے گی، تو نہیں پڑھے گی۔ ہمیں کیوں اپنے خون سے زیادہ دوست و محلے کے گندی آنکھوں والے منحوسوں پہ یقین ہے؟ ہم کیوں اپنے عوام کو یہ شعور نہ دیں کہ بھئی اپنے بچوں کو ان کے شوق کے لئے پڑھاؤ۔ ورنہ ممکن ہے آپ کی بیٹی بھی پہلی رات کو واپس لوٹا دی جائے کہ آپ باراتیوں کو ڈکار مارنے کے لئے بوتل نہیں پلا سکے۔

یہ آپ کے وہ حسین لاشعوری منصوبے ہیں۔ جو اس ڈرامے کی بابت عیاں ہوئے ہیں۔

اس ملک میں فن کاری کی قدر نہیں، ورنہ شاید ہم آپ کے ان اقدام کی قدر ضرور کرتے۔ مائی سویٹ پیمرا پلیز، ایک دن بیٹھ کر دنیا کے ہر ملک کے کارٹون دیکھیے گا۔ اور ایک دن بیٹھ کر ٹھنڈے دل سے سوچیے گا کہ کیا یہ سب سچ مچ، سچ نہیں ہے؟ دل تو کرتا ہے دل کی لگی لکھ ڈالوں مگر حیا روک لیتی ہے کہ بے شرمی و بے باکی کی لغت میں بھی شاید ہم وحدانیت ہی کے قائل لگتے ہیں۔

آہ! مصنفہ لڑکی میری طرف سے تمہیں اور تمہاری ٹیم کو پیشگی ایوارڈ قبول ہو۔ مجھے اپنے بچپن کی سپورٹس گرل یاد آ گئی۔ وہ ٹینس کا ہارڈ بال، اور بھاری ریکٹ۔ جوانی لڑکے کی ہو یا لڑکی کی، بہت توانا ہوتی ہے۔ اس توانائی کو اخراج چاہیے ہوتا ہے۔ جسمانی کھیل کود دماغ اور جسم کو صحت مند رکھتے ہیں اور جنسی پیش قدمی سے محفوظ رکھتے ہوئے جنسی مسائل سے بھی دور کر دیتے ہیں۔

آج کے دور میں ڈبیوں جیسے سکول دماغ کا ڈبہ تو شاید بھر دیتے ہوں، جسم کا پُتلا تڑپتا رہ جاتا ہے۔ تم نے یہاں اس بات کو اتنے حسین انداز میں بیان کیا ہے کہ کھیلوں کے میدان مسکرا اٹھے ہیں۔ ہمارے بچوں کو اب پی ایس ایل کے سوا کھیلوں کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں۔

ویسے آپس کی بات ہے تین مضبوط کردار اس ڈرامے میں نہ ہوتے تو یہ پھندا تمہارے گلے میں نہ ہوتا۔ تم نے ان تین کرداروں سے، معاشرے کے کرداروں کے ”پھٹے چک‘‘ دیے ہیں۔

اور اس وقت سب منافق حالت اضطراب میں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply