کچھ سائیں فقیر محمد اور استاد کی ذاتی عصبیت کے بارے میں
میں چوتھی جماعت میں تھا جب پہلی بار مجھے سائیں فقیر محمد کی کلاس میں منتقل کیا گیا۔ وہ ریاضی پڑھاتے تھے۔ یوں تو سائیں فقیر محمد مسلکاً دیوبندی، باریش اور نماز پنجگانہ کے پابند تھے، مگر ان کا کہنا تھا کہ مضمون پڑھاتے وقت ایک استاد کا مسلک اس کا مضمون ہوتا ہے جس کو خوش اسلوبی سے پڑھانا ہی اس کی مسلکی ذمہ داری ہے۔ تاہم کلاس ٹیچر ہونے کے ناتے وہ سب کی اخلاقی تربیت کو بھی اپنی منصبی ذمہ داریوں کا جزو سمجھتے تھے۔ اس لئے سچ گوئی، صلہ رحمی، رواداری اور خالق سے قربت رکھنے پر خاصا زور دیتے تھے۔
میرے چوتھی جماعت میں آنے تک ہمارے اسکول کی عمارت زبوں حالی کا شکار ہو چکی تھی، اس لئے نئی عمارت کی تعمیر کا کام شروع کیا جا چکا تھا اور ہمیں ساتھ والے گرلز اسکول میں دوسری شفٹ میں پڑھنے کے لئے منتقل کیا گیا۔ دوسری شفٹ کا دوسرا وقفہ عین نماز عصر کے وقت ہوتا تھا۔ شہر کی سب سے بڑی جامع مسجد کیونکہ اسکول کی عمارت سے ملحق تھی اس لئے سائیں فقیر محمد کا اصرار ہوتا تھا کہ ان کی کلاس کے سارے مسلمان بچے نماز عصر باجماعت ادا کرنے کے لئے مسجد آئیں۔
ہم چند دوست جو کہ شیعہ مسلک سے تھے، انہوں نے مسلک کا بہانہ بنا کے نماز پہ نہ جانے کا منصوبہ بنایا تاکہ وقفے کے دوران کھیل کود سکیں۔ پر سائیں فقیر محمد نے یہ کہہ کر سارا پلان چوپٹ کر دیا کہ مسجد کا کوئی مسلک نہیں ہوتا۔ اس لئے آپ وہاں چاہیں تو جماعت کے ساتھ یا پھر انفرادی طور پہ اپنے طریقے سے نماز ادا کر سکتے ہیں، پر نماز ترک کرنا اچھی بات نہیں۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ ہمارے اصرار پہ مسجد کے دالان میں خاص طور پہ دری بچھائی جاتی تھی، تاکہ ہم اپنے طریقے سے وہاں نماز ادا کر سکیں۔ اور بعد ازاں مسجد کے خطیب صاحب ہم کو دور سے آتا دیکھ کر مسجد کے خادمین کو آواز لگاتے تھے۔ ”بھائی دالان میں صف لگاؤ، وہ علیؑ سائیں (کرم اللہ وجہ الکریم ) کے مرید آرہے ہیں نماز کے لئے“ ۔
میرے والد مرحوم جو کہ پیشے سے ترکھان تھے اور ٖریاست کے شاہی محل (فیض محل) کی تعمیر و تزئین کے ساتھ، سرکاری امام باڑہ (بڑا علم) اور شہر کی مرکزی جامع مسجد کی تعمیر و تزئین میں ہمارے نانا کے بڑے بھائی کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ انہوں نے ایک بار بتایا تھا کہ جامع مسجد ریاست (پرنسلی اسٹیٹ) کے زمانے میں ہزہائینیس سرکار میر صاحب جو کہ شیعہ تھے، نے بنوا کے ریاست کے ہی کارندے سرائی صاحب کی زیر نگرانی ان کو سونپی تھی جو کہ سنی مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور وہاں جماعت بھی سنی مسلک کی ہوا کرتی تھی۔ چونکہ مسجد شہر کے وسط میں واقع تھی اس لئے محرم میں شہر کے مرکزی جلوس تعزیہ کا پہلا پڑاؤ اسی مسجد کے صحن میں ہوا کرتا تھا، جہاں عزاداروں کو میٹھی سبیل سے سیراب کیا جاتا تھا۔
پر اب حالات ویسے نہیں رہے، برسوں کی ترویج بغض و عناد رنگ لائی ہے اور آج معاندت، مسکن رواداری کو روندتی ہوئی نفرت کی راہداری پر ایک فیل مست کی مانند رواں دواں ہے۔ اور اس راہداری پر کی گئی تعمیر و تزئین پر کی گئی برسوں کی سرمایہ کاری، جو کہ شاید ہمارے ہمسائے چین کی معاونت سے بنائی جانے والی راہداری سے کئی گنا زیادہ تھی، جس کی رنگت آج سرمئی ہو چلی ہے اور ہمیں لالے پڑے ہوئے ہیں کہ کہیں یہ سرمئی رنگ سیاہ نہ پڑ جائے۔
برسوں پہ محیط اس ترویج بغض و عناد کے نتائج مجھے پہلی بار تب دیکھنے کو ملے، جب کچھ برس پہلے ہمارے ایک دوست کے عزیز کا انتقال ہو گیا اور اس کی نماز جنازہ کا اہتمام اسی جامع مسجد میں کیا گیا جس کا ذکر میں نے ابھی کیا۔ مسجد کی تعمیر نو دو دہائیاں پہلے ہوئی تھی اور مجھے مسجد کے اندر گئے ہوئے بھی کئی برس گزر چکے تھے، اس لئے موقع غنیمت جانا، کیونکہ تب تک نماز جنازہ واحد ایسی نماز بچ گئی تھی کہ جہاں سب لوگ بنا کسی مسلکی تعصب کے ایک صف میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے، اس لئے ہم بھی پہنچ گئے نماز جنازہ پڑھنے۔
ابھی ہم مسجد کے باہر ہی کھڑے تھے کے یکایک اعلان ہوا کہ ”نماز جنازہ کے لئے باہر کھڑے ہوئے افراد اندر تشریف لے آئیں البتہ ہاتھ کھول کے نماز پڑھنے والے حضرات مسجد میں داخل ہونے کی زحمت نہ کریں“ ۔ یہ اعلان سنتے ہی مجھے سائیں فقیر محمد کا وہ جملہ بہت یاد آیا کہ ”مسجد کا کوئی مسلک نہیں ہوتا“ ۔
لیکن اب ہر چیز کا مسلک بن چکا ہے۔ شیعہ مسجد، سنی مسجد، بریلوی مسجد، دیوبندی مسجد، اہل حدیث مسجد ، الغرض جیسے تقسیم کے وقت ”ہندو پانی“ ، ”مسلم پانی“ کی صدائیں لگی تھیں، ویسے ہی آج نذر و نیاز اور خیرات کے چاول، سبیل اور اللہ والا پانی بٹ چکے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو جہنم اور خود کو جنت کی بشارت دیتا پایا جاتا ہے۔
میرے اسکول کا دوست برہم پرکاش، جس نے نویں جماعت میں اخلاقیات کے بجائے اپنی مرضی سے اسلامیات مضمون لیا اور اس میں سب سے زیادہ نمبر لئے، ایک دن جب ہم کالج میں بیٹھے شہر میں ہونے والے پہلے فرقہ وارانہ تصادم پہ بات کر رہے تھے تو اس نے کہا کہ پتا ہے آج کل تم لوگوں کا ایسا حال کیوں ہے؟ وہ اس لئے کہ آج کل جگہ جگہ شیعہ، سنی، وہابی الغرض ہر مسلک کی مسجد موجود ہے، اگر نہیں ہے تو اللہ اور اللہ والوں کی مسجد کہیں بھی نہیں ہے اور شاید اسی لئے تم لوگوں کی دعائیں بھی قبول نہیں ہو رہیں اور تم گروہ در گروہ بٹتے چلے جا رہے ہو۔ اس پر میں نے اس کا منہ چڑا کے کہا تھا۔ کیا مطلب ہے تمہارا؟ کیا ہم شیعہ اور سنی اللہ والے نہیں ہیں؟ اس پر اس نے مسکرا کے کہا تھا ہاں تم سب تو اللہ والے ہی ہو پر شاید اب اللہ تمہارا نہیں رہا۔
اس وقت بظاہر یہ چند نوجوانوں کے بیچ ہونے والی ایک سادہ سی گفتگو تھی، لیکن آج برسوں بعد سمجھ میں آتا ہے کہ برہم پرکاش نے بخوبی اس بات کی طرف ہماری توجہ دلانے کی کوشش کی کہ کیسے ہم خود ہی اس خنجر کو آب دے رہے ہیں جو ہماری وحدت کی جڑیں کاٹ رہا ہے اور کس طرح ہمارے اعلیٰ شعار امن، بھائی چارے، محبت، رواداری اور درگزر کا وجود مٹ رہا ہے۔ اور اب ہم بس اپنے کام کے مسلمان اور نام کے انسان رہ گئے ہیں۔
ان تمام بدلے ہوئے نامساعد حالات کا اگر سبب تلاش کیا جائے تو پیروں کے نشان کسی نہ کسی درس و تدریس کے مرکز پہ آ کے رکتے ہیں جہاں ایک استاد ذہنوں کی زمین کو سینچ کر اس میں شعور کی تخم پاشی کرتا ہے۔ اس ضمن میں اکثر جو مباحثے چھڑ جاتے ہیں ان کا سارا نزلہ عموماً نصاب پہ گرایا جاتا ہے۔ اس لئے گزشتہ چند دہائیوں کے دوران کئی بار نصاب میں تبدیلیاں کی گئیں جس سے بچوں میں بجائے کسی مثبت تبدیلی کے ان کی الجھنوں میں اضافہ ہوا اور تعلیم سے متعلق ریاست کا اپنا بیانیہ بھی ایسی الجھن کا شکار رہا جس نے نصاب کے اثرات و ثمرات پہ مزید سوال اٹھا دیے۔
ان تمام مباحثوں میں اساتذہ کی تربیت اور اس سے بھی زیادہ ان کا تقرر ایسے اہم پہلو ہیں جن پر انتہائی سطحی توجہ دی گئی۔ سو جب بھی اساتذہ کی تربیت کی بات آئی تو زیادہ توجہ فکری ذہانت کے بجائے فنی مہارت پہ دی گئی۔ نتیجتاً بیشتر اساتذہ پڑھاتے وقت مضمون سے زیادہ اپنے ذاتی خیالات، نظریات اور عقائد کو بچوں کے ذہنوں میں ٹھونستے پائے گئے۔
جی ہاں، یہ مفروضہ نہیں بلکہ آنکھوں دیکھی حقیقت ہے۔ سن 2002 میں جب میں پنوعاقل کے نجی اسکول میں معاشرتی علوم، مطالعہ پاکستان اور انگریزی پڑھاتا تھا تو وہاں راؤ صاحب ریاضی کے استاد ہوا کرتے تھے۔ بچوں کو پھینٹی لگانے میں وہ سائیں فقیر محمد سے خاصی مماثلت رکھتے تھے لیکن ایک مدرس اور شخصیت کے طور پہ دونوں میں قطبین جیسا تضاد پایا جاتا تھا۔
جہاں استاد فقیر محمد کلاس میں پڑھاتے وقت اپنے مضمون کو اپنا مسلک سمجھتے تھے، وہاں راؤ صاحب ریاضی کی کلاس میں اپنی انقلابی جماعت اور مسلکی افکار کی پرچار کرتے ہوئے، اکثر کافر نظام اور معاشرے میں مروجہ بدعات کے خلاف درس جہاد دیتے ہوئے پائے جاتے تھے۔ اور جب ان سے کہا جاتا کہ حضور آپ ریاضی کے استاد ہیں، اس لئے ازراہ کرم کلاس ریاضی ہی پڑھایا کریں تو موصوف پیچ و تاب کھاتے ہوئے کہتے کہ دینی ذمہ داری ریاضی پڑھانے سے زیادہ اہم ہے۔
اس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ ایک استاد کا فقظ مضمون پہ دسترس حاصل کرنا ہی اس کے اچھے استاد ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ اس کا پڑھاتے وقت معروضیت کے دائرے میں رہتے ہوئے شعور پرور ہونا، تنقیدی سوچ اور تجسس پیدا کرنے میں معاون ہونا، سب سے زیادہ اہم ہے، جس کے لئے اساتذہ کے تقرر کے لئے ایک جامع اور مربوط طریقہ وضع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ ایک استاد کی تقرری کا عمل سب سے زیادہ سخت، جامع، قدرے پیچیدہ اور مرحلہ وار ہونا چاہیے، جس کے لئے محض تحریری امتحان اور سادہ سے انٹرویو کے بجائے جانچ کا ایسا طریق کار اپنانا چاہیے جس کے ذریعے ایک استاد کی نفسیاتی اور نظریاتی کیفیت کے ساتھ اس کے فہم و ادراک کی سطح کا جائزہ بھی لیا جا سکے تاکہ استاد کی ذاتی، فکری اور نظریاتی عصبیت، کم ازکم درس و تدریس کے عمل پر اثر انداز نہ ہو۔
گزشتہ 70 سال سے زائد عرصے میں ہم نے تعلیم و تربیت سے متعلق جتنی طبع آزمائی نصاب پر کی ہے، اس سے آدھی محنت اگر اساتذہ کی فکری تربیت اور ان کی قوت مدرکہ کو معروضیت کے دائرے میں لانے پر کرتے تو شاید آج ہماری درسگاہوں سے فارغ التحصیل ڈاکٹر اور انجینیئر دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث نہ پائے جا تے۔ اور قریب ممکن تھا کہ ہم بھی بہار امن و آشتی سے سرشار گلستان کو دیکھ پاتے۔

