عورت مارچ پر بینرز اٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں


مارچ کا مہینہ آنے سے پہلے ہی ہر جانب عورت مارچ پر بحث و مباحثہ شروع ہو گیا ہے۔ گزشتہ برس 8 مارچ کو خواتین نے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالیں جس میں انہوں نے ’میرا جسم میری مرضی‘ کے بینرز اٹھائے تھے اور معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف آواز بلند کی۔

اس مارچ میں معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کو دو ٹکے کی عورت کے الفاظ استعمال کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس مارچ میں شامل خواتین کا یہ کہنا تھا کہ انہیں اپنی زندگی اپنی مطابق گزارنے کی آزادی ہونی چاہیے۔

اس بات سے متفق ہوں کہ ہمیں زندگی گزارنے کی آزادی ملنی چاہیے لیکن اس طرح سڑکوں پر نکل کر یہ خواتین کس سے اپنے حقوق کی جنگ لڑنا چاہتی ہیں۔ ریاست، مذہب یا معاشرہ؟

آخر اس آزادی کی جنگ کا مطالبہ کس سے کیا جا رہا ہے؟ ریاست کے قوانین کے مطابق تو خواتین کو تعلیم، نوکری، وراثت نیز تمام بنیادی حقوق حاصل ہیں۔ چونکہ ہم ایک اسلامی ملک کے رہنے والے ہیں لہٰذا اسلام تو ایسا مذہب ہے جس نے عورت کو ہر رشتے بہن، بیٹی، بیوی، ماں میں عزت بخشی۔ تعلیم کا حق دیا اور وراثت میں حصہ دار بنایا۔پھر یہ حقوق کے حصول کی جنگ سڑکوں پر کس سے لڑی جا رہی ہے؟

جناب اس مارچ کا مقصد اگر حقوق کا حصول ہے تو یہ حقوق تو ہمیں حاصل ہیں۔ اگر کوئی ہمارے حقوق کی پامالی کر رہا ہے تو وہ نہ تو ریاست ہے اور نہ ہی مذہب ، یہ ہمارا معاشرہ ہے۔ ہمارا گھر اور ہمارا خاندان۔ رشتے کھونے کے ڈر سے اپنوں کی ہر بات پر سر تسلیم خم کر لیے جاتے ہیں اور پھر کہہ دیا کہ ہمارے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔

ہاں اگر آپ کا مقصد خواتین کے ساتھ ہونے والی جبری زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھانا ہے تو اس کے لئے بھی تو آپ بجا ہیں لیکن اس جرم کی بھی کڑی سزائیں موجود ہیں ، بس ان پر عمل ہونا باقی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یوں بے پردگی سے سڑکوں پر نکلنے سے حقوق حاصل ہوں نہ ہوں ، عزتوں کی پامالی اور عام انسان کو سفری مسائل سے دو چار ضرور ہونا پڑتا ہے۔

جہاں تک حقوق کی بات ہے تو ہمیں حقوق کے لئے سڑکوں پر نکلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے والدین کو یہ بتائیے کہ ہم بھی زندہ انسان ہیں، بھائی کی ناراضگی کو خاطر میں نہ لائیں ، وراثت میں اپنا حق حاصل کرنے کے لئے اسے بتائیں کہ یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو مذہب اور معاشرہ دونوں دیتے ہیں۔

معذرت کے ساتھ میں خود بھی لڑکی ہی ہوں لیکن بجائے اپنے گھر میں اصلاح کے سڑکوں پر بینرز اٹھا کر نکلنے سے کچھ بدلنے والا نہیں ہے۔ اگر واقعی ریلیاں نکالنے سے خواتین کو ان کے حقوق ملے ہیں پھر تو گزشتہ برس ملک میں تشدد، نا انصافی اور زیادتیوں کے واقعات بہت کم ہونے چاہیے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے معاشرے میں خواتین پر ظلم بڑھتا جا رہا ہے۔

کہیں عورت غیرت کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہے تو کہیں ہوس کا نشانہ بن جاتی ہے۔ کہیں رشتے بچانے کے لئے ظلم سہتی ہے تو کہیں اپنے حق کے لئے بولنے پر سب رشتے کھو دیتی ہے۔ ماں ہے اور بوڑھی ہے تو بے یارو مددگار پڑی ہے ، کوئی پوچھنے والا نہیں، بیٹی ہے تو بولنا نہیں، بہن ہے تو طعنے سنو، اور بیوی تو شاید کوئی مشین سمجھی جاتی ہے جس کا مقصد بس صرف ضرورتیں پوری کرنا ہے۔

اس کے علاوہ معاشرے کا ایک اور روشن پہلو بھی ہے جہاں عورت کو واقعی عزت بخشی جاتی ہے اور یہ رویہ ملک و قوم کے لئے قابل تحسین ہے۔

واقعی اگر آپ خواتین کے حقوق کے بارے میں فکر مند ہیں تو کوئی ایسا کام شروع کریں کہ مردوں کو عورت کی عزت کا احساس دلایا جائے۔ والد، شوہر، بیٹے اور بھائی کو بتائیں کہ ہماری عزت اور حقوق کیا ہیں۔ انہیں احساس دلائیں کہ خواتین آپ کے لئے کیا کیا قربانیاں دیتی ہیں۔

ایسے علاقے جہاں خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے ، وہاں مردوں کو خواتین کی عزت اور حقوق کا احساس دلایا جائے۔ ایسے پروگرام اور سیمینار منعقد کیے جائیں جن میں عورت کا مقام اور مرتبہ مردوں کو بتایا جائے۔ جو خواتین معاشی تنگی کا شکار ہیں ، انہیں ایسے ہنر سکھائے جائیں جو ان کے لئے ذریعہ معاش ہوں۔ جو تعلیم حاصل نہیں کر سکیں ، انہیں بنیادی تعلیم دی جائے ، صرف ریلیاں نکالنے اور بینرز اٹھانے سے عورت ذات کو کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔

Facebook Comments HS