چیف الیکشن کمشنر کے نام ایک مسیحی پاکستانی کا خط
میرا نام نواز سلامت ہے اور میں پاکستان کا ایک پرامن اور پابند قانون مسیحی پاکستانی ہوں۔ آپ کو خط لکھنے کا مقصد آپ کی توجہ ایک بہت ہی اہم موضوع پر دلوانا ہے، اس موضوع پر جس سے مسیحی قوم اور ان کی آنے والی نسلوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ وہ مسئلہ جس کا حل آئین پاکستان میں لکھ تو دیا گیا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ اس سے پہلے کہ میں اس موضوع کی جانب آؤں، میرا دل کہہ رہا ہے کہ میں آپ کے ساتھ مل کر تاریخ کے کچھ ان اوراق پر نظر ڈالوں جو مجھے بھی بہت کم پڑھنے کو ملتے ہیں۔
جناب عالی! ہمارے آباء و اجداد نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ شانہ بشانہ چل کر اور حتیٰ کہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا، افسوس پاکستان کی تاریخ میں اب ان غیر مسلم ہیروز کے کارناموں کو بھلا دیا گیا ہے، مجھے معلوم ہے کہ آپ تو تاریخ سے بخوبی واقف ہوں گے لیکن پھر بھی اپنے والد پروفیسر سلامت اختر کی کتاب ”تحریک پاکستان کے گمنام کردار“ خط کے ساتھ ارسال کر رہا ہوں۔
جناب! بات تحریک پاکستان پر ختم نہیں ہو جاتی، پاکستان میں بسنے والے مسیحیوں نے ریاست کی تعمیر و ترقی میں بھی اپنے آباء و اجداد کی طرح اپنا کردار ادا کرنے کی ٹھان رکھی تھی، دفاع، تعلیم، صحت کے میدان میں مسیحیوں کے ان گنت کارنامے لکھے جا چکے ہیں۔ لیکن بات یہاں بھی ختم نہیں ہو جاتی، اپنے آباء و اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہم خون کے آخری قطرے تک اپنے ملک سے وفادار رہنے کی بھی ٹھان چکے ہیں اور وقت آنے پر کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے پیچھے ہٹے ہیں اور نہ کبھی ہٹیں گے۔
جناب والا! اب آپ کی توجہ اس موضوع پر چاہتا ہوں جس کی وجہ سے بندہ آپ کو خط لکھنے کی جسارت کر رہا ہے۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ پاکستان سے اتنے پیار، محبت اور وفاداری کے باوجود ہم سے کمی کہاں رہ گئی، ہم تو ریاست کو اپنی ماں مانتے ہیں لیکن یہ ماں اپنے مسیحی بچوں سے اتنا سوتیلاپن کیوں کر رہی ہیں؟
جناب! سینٹ کے الیکشن سر پر ہیں، تمام جماعتوں نے شور ڈال رکھا ہے کہ الیکشن آئین کے مطابق خفیہ بیلٹ سے ہونا چاہیے، سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی کہہ دیا کہ الیکشن آئین کے تحت ہونا چاہیے اور الیکش کمیشن نے یقین دہانی بھی کروا دی ہے۔
جناب عالی! یہ جماعتوں کے رہنما، یہ ہماری سپریم کورٹ، یہ ہمارا الیکشن کمیشن اپنی اقلیتوں کے حقوق کو اتنا نظرانداز کیوں کر رہے ہیں؟ کیا الیکشن کمیشن اقلیتوں کی دس سیٹوں پر الیکشن نہیں کروا سکتا؟ کیا الیکشن کمیشن اس لئے سنجیدہ نہیں کہ ان کا وقت اور پیسہ بچتا ہے؟ کیا آئین پاکستان ہم پر لاگو نہیں ہوتا؟ کیا ہمارا حق نہیں کہ ہم بھی اپنے لیڈر اپنے ووٹ کے ذریعے چن سکیں؟
کچھ عرصہ پہلے بھی اس موضوع پر الیکش کمیشن سے بات ہوئی تھی اور ہمیں کہہ دیا گیا کے آپ کے سلیکٹڈ رہنما کہتے ہیں کہ موجودہ سسٹم ہی ہمارے لئے بہتر ہے۔
جناب! وہ سلیکٹڈ لوگ کیسے اپنے پاؤں پر کلہاڑا ماریں گے۔
جناب والا! پاکستان کے لاکھوں مسیحیوں کی چند آخری امیدوں میں سے ایک امید آپ سے بھی ہے کہ آپ حکومت کو سفارش بھیجیں گے کہ مسیحیوں کے ساتھ بھی انصاف کیا جائے اور ہمیں بھی پاکستان کا شہری سمجھ کر برابر کے حقوق دیے جائیں۔ کام ہونا نہ ہونا خدا کی مرضی لیکن اگر آپ نے حکومت کو یہ تجویز بھیج دی تو پاکستان کے مسیحی صدیوں آپ کے شکر گزار رہیں گے۔
پاکستان کے مسیحیوں کا ایک ہی نعرہ
”سلیکشن نہیں الیکشن“
پاکستان زندہ باد
آپ کے جواب کا طلب گار
نواز سلامت


