پختونخوا کے سینیٹ انتخابات میں پیسے کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قریبا تین دہائیوں سے مسلسل مینڈیٹ بکنے کی خبروں میں رہنے والے خیبرپختونخوا میں سیاسی جماعتوں نے 3 مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کے لئے اپنی منصوبہ بندی مکمل کرلی ہے جن کا مقصد ایک ہی ہے کہ نہ صرف ”اپنوں“ کا ووٹ کہیں اور جانے سے بچایا جائے بلکہ کسی طریقے سے مخالفین کا ووٹ بھی حاصل کیا جائے۔

لیکن صورتحال اتنی سادہ بھی نہیں جتنی دکھائی دے رہی ہے۔ اب کی باران میں بظاہر سب سے زیادہ پریشان دو تہائی اکثریت کی حامل حکومتی جماعت تحریک انصاف ہے جسے ایک سو پینتالیس کے ایوان میں چورانوے اپنے اور اتحادی ”باپ“ (بلوچستان عوامی پارٹی) کے چار اور اسمبلی میں موجود چار آزاد اراکین میں سے بعض کی حمایت بھی حاصل ہے۔ آسان اور عوامی زبان میں بات کی جائے تو حکومت کو اپنے ان 100 ووٹوں کے ساتھ خوشی خوشی سینہ ٹھونک کر میدان میں اترنا چاہیے تھا کہ چاہے ان کا امیدوار جیسا بھی ہو، ان کے ”مخلص، بے باک، نہ بکنے اور نہ جھکنے والے“ منتخب ایم پی ایز انہیں صرف پارٹی کے ساتھ تعلق کی وجہ سے کامیاب کر ہی دیں گے۔

دو تہائی ووٹوں کی حامل اس جماعت کو تو الیکشن سے پہلے لمبی تان کر سونا چاہیے تھا کہ کل یعنی ووٹنگ کے دن صرف ووٹ ہی تو کاسٹ کرنا ہے اس سے پہلے تو کرنے کا کوئی کام ہے نہیں اور پریشان ہونے کا حق تو صرف اپوزیشن کا ہونا چاہیے۔

حکمران پارٹی کو تو اس لئے بھی کسی بات سے نہیں گھبرانا چاہیے تھا کہ ابھی ابھی 2018 کے سینیٹ انتخابات کے بعد ہی تو اس کے سربراہ عمران خان نے پارٹی امیدواروں کی بجائے پیسے لے کر کسی اور کو ووٹ بیچنے کے الزام میں بیس کے قریب اراکین صوبائی اسمبلی کو پارٹی سے نکال دیا تھا اس کے بعد تو کسی موجودہ رکن اسمبلی کی کیا مجال ہو سکتی ہوگی کہ وہ اپنا ووٹ کسی اور کو بیچ سکے؟

لیکن اتنی مضبوط پوزیشن کے باوجود بھی حکومت کی منصوبہ بندی سے لگ رہا ہے کہ جو ہم کہہ رہے ہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ سینیٹ کے امیدواروں کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم کے عمل میں اپنے دیرینہ کارکنوں کی بجائے پیسوں کے حامل لوگوں کو اپنا امیدوار بنانے سے ثابت ہوا کہ حکومت جماعت کو یقین ہے کہ ان کا ایم پی اے اب بھی اس اعتماد کے قابل نہیں کہ وہ بکنے سے بچ سکے اور نہ ہی اسے یہ خوف لاحق ہے کہ کوئی اسے جماعت سے نکال دے گا اسی لئے ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں باہر بکنے سے بچانے کے لئے اپنے ہاں ہی بعض ایسے ”امیدوار“ دیے گئے ہیں جو انہیں ادھر ادھر جانے ہی نہ دے اور خود ہی اس کی ”سیوا“ کر لے تاکہ گھر کی بات گھر ہی میں رہے۔

تحریک انصاف نے ماضی قریب میں گزشتہ سینیٹ انتخابات میں اپنے ایم پی ایز کو جس طرز پر پیسے دے کر ان سے ووٹ لینا چاہے تھے اور ان کے ووٹ نہ ملنے کی وجہ سے ان سے جس طرح سے اپنے دیے ہوئے پیسے واپس مانگے تھے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ اب کی بار بھی ایسا ہی کوئی بندوبست کرنے کا سوچ سکتی ہے۔

تحریک انصاف کی عددی پوزیشن اور درکار ووٹ

خیبرپختونخوا اسمبلی میں بدھ 3 مارچ کوکل بارہ نشستوں پر سینیٹ انتخابات کے لئے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ جن میں سات جنرل، خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی دو دو اور ایک اقلیتی نشست ہوگی۔

145 اراکین اسمبلی کے اس ایوان میں سے جنرل نشست پر انتخاب کے لئے سات امیدواروں میں سے ہر ایک کو کم ازکم 20.71 ووٹ درکار ہوں گے اور تحریک انصاف اپنے پاس موجود قریبا سو ووٹوں کے ذریعے اپنے تمام پانچ امیدواروں شبلی فراز، محسن عزیز، لیاقت ترکئی، ذیشان خانزادہ اور فیصل سلیم الرحمٰن کو کامیاب کرا لے گی لیکن اسمبلی میں چار ووٹوں کی حامل اس کی اتحادی جماعت باپ کے تاج محمد آفریدی کو جتوانا بھی اس نے اپنے سر لیا ہوا ہے۔

ان پارٹی امیدواروں میں کتنے پارٹی کے دیرینہ کارکن ہیں اور کتنے صرف کسی اور ایکسٹرا کوالیفیکیشن کی بدولت اس فہرست میں جگہ بنا سکے یہ اب سب کو معلوم ہے۔ غریب اور جینوئن پارٹی کارکن کی بجائے پیسوں کے حامل ان امیدواروں کے ساتھ میدان میں موجود تحریک انصاف کے شعور اور لاشعور میں لاحق ایک ہی خوف تھا کہ کہیں ایک بار پھر پارٹی ایم پی ایز باہر کسی کو اپنا ووٹ نہ بیچ دیں اور لگتا ہے کہ اسی سے بچنے کے لئے اس نے اپنے مینڈیٹ کے گرد سونے کی یہ دیواریں چڑھا دی ہیں تاکہ ان امیدواروں میں موجود لوگوں سے ووٹر کے لئے پیسے بھی لئے جاسکیں۔

اپوزیشن کی عددی حالت اور امیدوار

اپوزیشن میں شامل جمعیت علما اسلام ف کو سب سے زیادہ 15 ووٹ حاصل ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر اے این پی ہے جس کے ووٹوں کی تعداد 12 ہے۔ مسلم لیگ نون کے ووٹوں کی تعداد سات ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز کی تعداد یوں تو چھ ہے تاہم حال ہی میں شامل ہونے والے کوہاٹ کے امجد آفریدی رواں اسمبلی کے خاتمے تک خود کو پارٹی کا رکن نہیں کہہ سکتے اور وہ آزاد اراکین ہی میں شمار کیے جائیں گے۔ ان انتخابات میں اپوزیشن اتحاد کی حمایت کرنے والی جماعت اسلامی کے تین ووٹ ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ کا ووٹ ایک ہے۔

اپوزیشن نے باضابطہ طور پر جمعیت علما اسلام کے مولانا عطا الرحمٰن اور عوامی نیشنل پارٹی کے ہدایت اللہ خان کو جنرل نشست پر اپنا امیدوار بنایا ہے جبکہ مسلم لیگ نون نے سابق وفاقی وزیر عباس آفریدی کو بھی جنرل نشست کے لئے اپنا امیدوار بنایا ہے جس کی وجہ سے اے این پی اور مسلم لیگ نون میں فاصلے بھی پیدا ہوئے ہیں۔

پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے عباس آفریدی کو میدان میں اتارے جانے کو بھی انہی لوگوں میں شمار کیا جا رہا ہے جو اپنے چننے والوں سے ووٹ مانگنے کی بجائے انہیں باہر سے بھی ووٹ لا کر دیں گے اور یہی وہ مقام ہے جہاں پر حکومت اور اپوزیشن کا فرق ختم ہوتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔

جماعت اسلامی کی جانب سے پی ڈی ایم کی حمایت

خیبرپختونخوا اسمبلی میں تین ووٹوں کے ساتھ موجود جماعت اسلامی نے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو ہمیشہ ایک ہی سکے کے دو رخ کہا تاہم اس نے سینیٹ کے ان انتخابات کے لئے اپنا وزن اپوزیشن جماعتوں کے پلڑے میں ڈالا اور ان سے اپنے لئے خواتین کی نشست کا حصول سب سے بڑی کامیابی قراردیا تاہم ناقدین ان کی اس سیاسی چال کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ووٹ کے باوجود خوف کیوں؟

حکومتوں میں ہونے کے باوجود سیاسی جماعتیں آخر سینیٹ کے ووٹوں میں غیراخلاقی ذرائع کیوں استعمال کرتی ہیں کے سوال کے جواب میں پشاور کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سیف الاسلام سیفی کہتے ہیں کہ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا کہ برسر اقتدار سیاسی جماعت ایسے طریقے استعمال کر رہی ہے جنہیں ٹھیک نہیں کہا جاسکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے ایم ایم اے کے دور میں بھی بعض اپنے امیدواروں نے اپنے پارٹی ووٹرز کو ادائیگیاں کیں، اس سے پہلے مسلم لیگ نون کے مردان سے سینیٹر بننے والے ایسے ہی ایک امیدوار نے اپنے ووٹرز کو نوازا، پیپلز پارٹی نے بھی گزشتہ انتخابات میں ایسا ہی کیا اور اب تحریک انصاف بھی اگر ایسا کر رہی ہے تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔

سیف الاسلام سیفی کہتے ہیں کہ یہ تو سب کو یاد ہے کہ جب پرویز خٹک خیبرپختونخوا کے وزیراعلی تھے تو اس وقت ایک بار یہ طریقہ استعمال ہوا تھا کہ پارٹی کے ہر ایم پی اے کو ووٹ ڈالنے کے لئے اندر بھیجتے ہوئے انہیں باہر سے ہی بھرا ہوا ووٹ دیا جاتا تھا اور اسے اندر ملنے والا خالی ووٹ ساتھ باہر لانا ہوتا تھا۔ ایک امیدوار کے لئے پارٹی کے ووٹرز کا گروپ بنانا اور انہیں ووٹوں کی شناخت کے لئے ایک مخصوص کوڈ دینا بھی اسی زمرے میں آتا تھا۔ اے این پی اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت میں جب امیر حیدر ہوتی وزیراعلی تھے تو سینیٹ کے انتخابات کے دوران ہر حکومتی ممبر اپنا ووٹ ڈالنے سے پہلے شو کرتا تھا۔

پشاور ہی میں ایک مقامی اخبار کے ایڈیٹر اور عرصہ دراز سے پارلیمانی رپورٹنگ کرنے والے سینئر صحافی کاشف الدین سید کہتے ہیں کہ یہ سیاسی جماعتوں کے اندر کا خوف ہی ہے کہ اب پیسوں والوں کے لئے سینیٹ کے میدان میں جگہ بن رہی ہے اور یہ جماعتیں اپنے کارکنوں کے ساتھ میدان میں اترنے کی بجائے ان مالدار لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر کھیلتی ہیں۔

ایسے مالدار کو یہ ٹاسک بھی دیا جاتا ہے کہ وہ باہر سے بھی ووٹ لائے اور اپنوں کو بھی پیسے دے۔ پارٹی بدنامی سے بچ جاتی ہے اور کام بھی ہوجاتا ہے۔ اس وقت ہر سیاسی جماعت یہ کوشش کی ہے کہ مالدار کو ضرور اپنے امیدواروں میں رکھے۔ پی ڈی ایم کی اپنی عددی اکثریت میں دو امیدوار کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن ایک مالدار امیدوار کو بھی میدان میں لایا گیا ہے اسی طرح ٹیکنوکریٹ کے پاس دستیاب ووٹ کافی نہیں ہیں۔ حکومتی اتحاد میں تاج محمد آفریدی کا لایا جانا اسی بات کا غماز ہے جے یو آئی کا بھی ایک بندہ ابھی میدان میں ایسا موجود ہے اور مسلم لیگ نون کا بھی ایسا ہی حال ہے۔

پرویزمشرف کے دور میں ڈیرہ اسمعیل خان کے ایک ہی خاندان کے تین لوگ ایک باپ اور دو بیٹے بھی منتخب ہوئے تھے جن کا ووٹ بظاہر نہ ہونے کے برابر تھا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایک وقت وہ بھی تھا جب سینیٹ میں پیسوں کا استعمال زیادہ تر فاٹا کے لئے مخصوص نشستوں پر ہوتا تھا اور پیسوں کے اس استعمال کو باقی کے پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا میں برا سمجھا جاتا تھا تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گزشتہ تین دہائیوں میں یہ عمل خیبرپختونخوا میں بھی پور شدت کے ساتھ جاری و ساری ہے ان تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مختلف کاروباروں میں پیسے کمانے والے معاشرے میں مقام بنانے اور اپنے کاروباروں کو تحفظ دینے کے لئے اس کو استعمال میں لاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply