مولانا طارق جمیل ’حقیقت پسند‘ کیسے بنے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک خبر کے مطابق مولانا طارق جمیل نے ملبوسات کی اپنی برانڈ: ’ایم۔ ٹی۔ جے۔‘ کے نام سے شروع کی ہے۔ برانڈ کے افتتاح پر جب ہم نے ان کو بغور دیکھا تو موصوف ایک عقیدت پسند مولوی کی بجائے حقیقت پسند بزنس مین نظر آئے۔ ان کے تبلیغی مقلدین کو امید ہے کہ مولانا کا برانڈ بھی، ان کے مرحوم و مغفور شاگرد جنید جمشید کی برانڈ ’جے ڈاٹ‘ کی طرح دن دگنی رات تگنی ترقی کرے گا۔ جہاں اسلامی ملبوسات کے ساتھ ساتھ اسلامی خوشبو، اسلامی جوتے اور اسلامی ٹوپیوں سمیت اسلامی بٹوے بھی فروخت ہوں گے۔

بلاشبہ یہ دولت کمانے کا ایک صحیح طریقہ اور حقیقت پسندانہ رویہ ہے۔ اگرچہ موصوف اس سے قبل بھی کچھ کم خوشحال نہ تھے۔ دیگر بزنسز کے علاوہ ان کی ایک حج اور عمرہ کراونے کی ایجنسی بھی ہے۔ جو بابرکت ہونے کے ناتے باقی ایجنسیوں سے مہنگی ہے۔ لیکن اس میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد حج اپنی جیب کے مطابق مہنگے سے مہنگا حج کر سکتے ہیں۔

مولانا کے حقیقت پسند بننے کا قصہ کسی قدر دلچسپ ہے:

گزشتہ برس کورونا جیسا موذی وائرس جب پاکستانی قوم کی نبض چیک کر رہا تھا تو صوبائی حکومتوں کو کچھ شہروں میں ’لاک ڈاؤن‘ کرنا پڑ گیا۔ جس سے ہمارے دیہاڑی دار طبقے کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے۔ حکومتی کارندوں کے بقول گھر بیٹھے محنت کش طبقے کو راشن پہنچانے کے لئے حکومت کے وسائل کم پڑ گئے تھے۔ وزیراعظم کو مولانا طارق جمیل، جو ان کے غیر علانیہ روحانی مشیر بھی ہیں، نے چندہ جمع کرنے اور ایک اجتماعی دعا کا مشورہ دیا۔ جو ہمارے عقیدت مند وزیراعظم نے نہ صرف مان لیا بلکہ بذات خود اس سیشن سے خطاب کرنے کا عندیہ بھی دے دیا۔

23 اپریل 2020ء کو اس مہم کا آغاز ایک ’ٹیلی تھون‘ سے کیا گیا۔ احساس نامی ٹیلی تھون آن لائن تھی۔ جس میں ٹی وی کے سرکردہ چینل شامل تھے۔ اس سے وزیراعظم پاکستان نے بھی خطاب کیا اور مخیر حضرات نے پروگرام کے دوران مختلف عطیات کی صورت میں پچپن کروڑ روپے تک چندہ بھی دیا۔ مولانا طارق جمیل کو دعا کی خصوصی دعوت گئی تھی جو ہمارے عقیدت مند وزیراعظم، جو کرکٹ، سیاست اور روحانیت کا حسین امتزاج ہیں، نے خود دی تھی۔

تقریب میں لوگوں کے جذبات اور اشتہارات بیچ کر پیسہ کمانے والے نبض شناس چینلز اور درد دولت رکھنے والے میڈیا پارٹنرز بھی موجود تھے۔ پروگرام کے آخر میں مولانا نے بہت گریہ زار اور رقت آمیز دعا فرمائی۔ مگر اختتامیہ کچھ زیادہ ہی ہنگامہ خیز ہو گیا۔ مولانا نے اپنے خطاب پوری پاکستانی قوم کو جھوٹا اور بے حیا قرار دیا۔ اور اس کے بعد دعا مانگتے ہوئے اپنے اوپر خصوصی رقت طاری کر لی اور فرط جذبات میں ایسے الفاظ بول گئے جو عوام اور خواص کو طنز کے تیر محسوس ہوئے۔

ان کا لب لباب یہ تھا ’کورونا وائرس ایسی آفت اس لئے نازل ہوئی ہے کہ ہم بحیثیت قوم عمومی طور پر اور ہمارا میڈیا خصوصی طور پر جھوٹ بولتے ہیں اور ہماری خواتین دین میں بے حیائی سے متعلق کی گئی ہدایات پر عمل پیرا نہیں ہیں۔ اور یہ کہ اس وبا کو کسی احتیاطی تدبیر یا ویکسین سے دور نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ بھی کہ اس کا تدارک صرف اور صرف مداخلت خداوندی سے ممکن ہے۔ انھوں نے معصومیت سے باری تعالیٰ کو پاکستان تشریف لانے کی پر خلوص دعوت بھی دے ڈالی۔

خیر! اللہ تعالیٰ تو پاکستان تشریف نہ لائے مگر میڈیا اور سول سوسائٹی نے ہاتھ منہ دھوئے بغیر مولانا پر شدید تنقید شروع کر دی۔ بعض نا ہنجارحقیقت پسند تو مولانا صاحب سے قلمی استفسار بھی کرنے لگے کہ ’مولانا، کورونا وائرس اور بے حیائی کا آپس میں تعلق ثابت کریں‘ ۔ اور کچھ سر پھرے دانشور مولانا کے موقف کی پر علت و معلول کی تھیوری سے تردید کرنے لگ گئے۔ حالات کی سنگینی کو بھانپ کر مولانا صاحب نے فوری طور پر میڈیا، عوام اورپاکستانی خواتین سے معافی مانگ لی۔ مگر بحث ختم نہ ہوئی۔

جب کورونا کی پہلی لہر ماند پڑی تو ایسے کالم بھی دیکھے جن میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ ’کیا اب پاکستان میں جھوٹ، بے حیائی اور حرام خوری میں کمی واقع ہو گئی ہے؟‘

قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران مولانا طارق جمیل بذات خود کورونا میں مبتلا ہو گئے۔ حالانکہ ہمیں یقین ہے کہ اوپر بیان کی گئی علتوں کا مولانا کی زندگی میں شائبہ تک نہیں ہے۔ مگر اتنا ضرور ہوا کہ کورونا کے ہاتھوں علیل ہونا۔ کسی حد تک مولانا کو حقیقت پسند بنا گیا۔ اس کا ثبوت، صحت یاب ہونے پر، اپنے لاکھوں عقیدت مندوں سے ان کا ایک وڈیو خطاب تھا۔ جس میں انھوں نے نہایت تبلیغی انداز میں فرمایا: ”کورونا وبا سے بچنے کے لئے جتنی احتیاط بھی کی جائے کم ہے۔ حکومتی احکامات پر سختی سے عمل پیرا ہوا جائے۔ دینی، سیاسی اور سماجی اجتماعات سے اجتناب اور باجماعت نماز کی بجائے گھروں میں نماز پڑھی جائے، اور مصافحہ و معانقہ سے بھی اجتناب کیا جائے۔ کیونکہ اس سے وبا مزید پھیلنے کا خدشہ ہے۔“ اب کی بار انہوں نے وائرس سے بچنے کے ضمن میں گناہوں سے بچنے کی بجائے احتیاطی تدابیر اپنانے کو زیادہ مؤثر گردانا۔

”ایم ٹی جے“ جے برانڈ کی افتتاحی تقریب میں انھوں نے عوام سے خطاب کے دوران فرمایا کہ اس برانڈ کا مقصد پیسہ بنانا ہرگز نہ ہے۔ بلکہ اس سے حاصل شدہ آمدن سے، دینی مدارس کی ترقی و ترویج کا وہ نیک کام دوبارہ جاری ساری کرنا ہے جو کورونا کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔ وہ اس پیسے سے اپنے علاقے میں قائم ”مولانا طارق جمیل فاؤنڈیشن“ کو ترقی دینے ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ”فاؤنڈیشنز“ حکومتی ٹیکس وغیرہ سے بھی مبرا ہوتی ہے۔

امید واثق ہے کہ مولانا طارق جمیل صاحب ایم ٹی جے برانڈ کی آمدن سے پاکستان میں دینی کے ساتھ ساتھ جدید اور سائنسی علوم کو فروغ دینے کا باعث بنیں گے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو یقیناً یہ برانڈ بھی اسلامی شہد، اسلامی بینکاری، مدنی چینل اور اسلامی سٹاک سے مختلف ثابت نہیں ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply