اسلام آباد ہائی کورٹ کا سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم



اسد درانی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔

جمعرات کے روز چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے کہا تھا کہ ای سی ایل میں اس لیے نام رکھا کہ ان کے خلاف انکوائری چل رہی ہے، سارا ریکارڈ دیکھا اس وقت اسد درانی کے خلاف کوئی انکوائری زیر التوا نہیں نا ہی کوئی گراؤنڈ ہے۔‘

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ ’اسد درانی اب ایک عام شہری ہے اور آئین میں دیے گئے تمام حقوق ان کو حاصل ہیں اور وفاقی حکومت کے پاس کھلی چھوٹ تو نہیں کہ کسی کو بھی ای سی ایل میں ڈال دے۔‘

دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے فریقین کو سننے کے بعد کیس کا فیصلہ سنایا۔

یاد رہے کہ پاکستان کی وزارت دفاع نے ملک کی فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے بارے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں کہا تھا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے ’انڈین خفیہ ادارے را کے ساتھ سنہ 2008 سے تعلقات ہیں۔‘

اس جواب میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ اسد درانی ’ملک دشمن سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں۔‘

وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ اسی بنیاد پر ان کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جا سکتا، جس کی وجہ سے وہ ملک سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ تاہم اسد درانی ان الزامات کو ماضی میں کئی بار مسترد کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ اسد درانی نے انڈین خفیہ ادارے را کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ ایک کتاب لکھی تھی جس میں پاکستانی حکام کے بقول ایسا مواد بھی شامل تھا جو کہ پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق ہے۔

پاکستانی حکومت نے 29 مئی سنہ 2018 میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا نام ای سی ایل میں شامل کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اسد درانی: سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت ایک حقیقت مگر ملک کے لیے نقصان دہ

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کی جی ایچ کیو طلبی

اسد درانی کے خلاف فوج کی کارروائی میں طریقۂ کار کیا ہوگا؟

’سیاستدان ایسی کتاب لکھتا تو غداری کے فتوے لگتے‘

اسلام آباد ہائی کورٹ

وزارت دفاع نے اسد درانی پر کیا الزام لگایا تھا؟

وزارت دفاع نے اس مقدمے میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے انڈین را کے سابق سربراہ کے ساتھ کتابیں لکھ کر آفیشل سیکرٹ ایکٹ سنہ 1923 کی بھی خلاف ورزی کی ہے اور اس جرم پر قانونی کارروائی آرمی ایکٹ کے تحت کی جاتی ہے۔

وزارتِ دفاع نے آرمی ایکٹ سنہ 1952 کا بھی حوالہ دیا کہ اسد درانی تو فوج میں رہے ہیں لیکن اگر کوئی سویلین بھی ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہو جس سے ملکی مفاد کو خطرہ ہو تو اس ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کے تحت اس کا بھی کورٹ مارشل ہو سکتا ہے۔

وزارت دفاع کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اگر کوئی شخص دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہو یا جس سے قومی سلامتی کو خطرہ ہو تو وفاقی حکومت کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اس شخص کا نام نوٹس دیے بغیر ای سی ایل میں شامل کر دے اور اسے ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

وزارتِ دفاع کا موقف تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کے خلاف تحقیقات آخری مراحل میں ہیں اور ایسے مرحلے پر ان کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جا سکتا اور اس مرحلے پر درخواست گزار کا ملک سے باہر جانے کا مقصد ’بین الاقوامی کانفرنس، فورم اور ٹاک شوز میں حصہ لینا ہے اور ایسا ہونے سے ملکی سلامتی کے لیے پیچیدگیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔‘

حکومت کی جانب سے عدالت کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے گذشتہ برس 12 اور 13 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر آکر جس طرح اپنے جذبات کا اظہار کیا ’اس کو کسی بھی محب وطن شہری نے اچھا تصور نہیں کیا۔‘ تاہم اس جواب میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے ان ’جذبات‘ کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔

اسد درانی کا کیا موقف ہے؟

گذشتہ سال بی بی سی کو دیے ایک انٹرویو میں اسد درانی نے کہا تھا کہ ‘جب تک کسی کتاب میں تنازع نہ ہو تو فائدہ کیا ہے؟ وہ تو پھر ایک سرکاری قسم کی تحریر ہو گی جو آپ آئی ایس پی آر سے لے لیں یا سرکار سے لے لیں۔ تنازع تو آپ کو پیدا کرنا ہے تاکہ بحث ہو سکے۔’

اسد درانی

‘سپائی کرونکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الوژن آف پیس’ اسد درانی اور انڈیا کے خفیہ ادارے ‘را’ کے سابق سربراہ اے ایس دُلت نے انڈیا اور پاکستان کی صورتحال کے پس منظر میں مشترکہ طور پر تحریر کی

ریاست کے راز افشا کرنے کے الزامات کے جواب میں انھوں نے کہا تھا کہ ‘شور بہت مچا لیکن کسی نے آج تک بتایا نہیں کہ اس کتاب میں ریاست سے منسلک کون سے راز تھے۔

’آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت لوگوں پر مقدمہ چلانا سب سے آسان کام ہے۔ جتنی باتیں راز تھیں وہ بھی آہستہ آہستہ کسی نے اِدھر سے بتا دیں، کسی نے اُدھر سے، تو رازداری کی کوئی بات نھیں ہے۔‘

‘مجھے ایسا لگتا ہے کہ اپنا تجزیہ دے کر میں نے کسی کمزوری کو ظاہر کر دیا ہے یا دُم پر پاؤں رکھ دیا ہے۔ میں نے ایک تجزیہ دیا جس کی بنیاد اس بات پر تھی کہ اگر میں اس وقت ہوتا تو کیا کرتا؟’

انھوں نے کہا تھا کہ ‘فوج کے اندر کئی لوگوں نے اپنی کتابیں لکھیں اور کسی نے ان سے نھیں پوچھا کہ انھوں نے کیا لکھا ہے۔’

’مجھے ریٹائرمنٹ کے وقت اس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ نے کہا تھا کہ تمھیں خود دیکھنا ہے کہ اپنی بات کہاں تک لکھنی ہے اور کہاں تک نھیں۔ اپنا سینسر خود ہی کرو اور اصول بھی یہی ہے۔’

اسد درانی کون ہیں؟

80 سالہ اسد درانی پاکستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ہیں۔ انھیں سنہ 1988 میں بطور ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلیجنس تعینات کیا گیا تھا۔ جبکہ سنہ 1990 میں انھیں بطور ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کیا گیا تھا۔

سنہ 1993 میں ریٹائر ہونے کے بعد انھوں نے پاکستان کے سفیر کے طور پر جرمنی اور سعودی عرب میں بھی اپنے فرائض انجام دیے ہیں۔

اسد درانی اکثر تنازعات کی زد میں رہتے ہیں، چاہے وہ ان کی چھپنے والی دو کتابوں میں موجود معلومات سے متعلق ہو یا پھر اسامہ بن لادن سے منسلک ان کے بیانات جنھیں وہ اپنا ‘تجزیہ’ کہتے ہیں۔

سپائی کرانیکلز کے مصنف جنرل اسد درانی کو 90 کی دہائی میں ہی فوج سے بے دخل کیا گیا تھا۔ اصغر خان کیس میں ان کا نام آنے کے بعد انھیں آئی ایس آئی سے جی ایچ کیو بلوا لیا گیا تھا اور پھر جب دوبارہ یہ سامنے آیا کہ وہ سیاسی امور میں مداخلت کر رہے ہیں تو انھیں قبل از وقت ریٹائر کر دیا گیا تھا۔

وہ اپنی کتاب ‘اونر امنگسٹ سپائیز’ کے چھپنے کے بعد بھی خبروں میں رہے۔ یہ کتاب ان کی پہلی چھپنے والی کتاب ‘سپائی کرونیکلز’ کے سلسلے کی دوسری کتاب ہے۔

وہ سنہ 1990 کی دہائی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کی تشکیل کے مقدمے میں بھی ملوث ہیں جس میں اُنھوں نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سمیت دیگر سیاست دانوں کو بھاری رقوم دینے کا اعتراف کیا تھا۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp