کون بنے گا چیئرمین سینیٹ؟ حکومت سنجرانی اور پیپلزپارٹی گیلانی کے لیے سرگرم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے سینیٹ انتخابات میں گو کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔ تاہم اب بھی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اراکین کی تعداد ایوان میں اس سے زیادہ ہے۔

سینیٹ انتخابات کے ہنگامہ خیز نتائج کے بعد اب سیاسی جماعتوں کی نظریں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کی اسلام آباد سے کامیابی کے بعد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت مقابلہ ہو گا۔

سینیٹ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد حزبِ اختلاف نے وزیرِ اعظم سے مستعفی ہونے، جب کہ عمران خان نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

پیپلزپارٹی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے سینیٹ انتخاب کا بڑا معرکہ جیت کر اپ سیٹ کرنے والے سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کا انتخاب لڑانے کا عندیہ دیا ہے۔

خیال رہے کہ سینیٹ انتخابات میں وفاقی دارالحکومت کی نشست پر یوسف رضا گیلانی نے مشیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو شکست دی تھی، جسے ایک بڑے اپ سیٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ادھر وزیرِ اعظم عمران خان نے موجودہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو دوبارہ بطور چیئرمین سینیٹ امیدوار نامزد کیا ہے۔

وزیرِ اعظم کی جانب سے یہ اعلان پارٹی کے مشاورتی اجلاس اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید سے ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

تجزیہ کاروں اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایوانِ بالا میں اکثریت نہ رکھنے کے باعث موجودہ حالات میں حکومت کے لیے اپنے امیدوار کو کامیاب بنانا ممکن نہیں ہو گا۔

تجزیہ کار نصرت جاوید کہتے ہیں کہ تحریکِ انصاف سینیٹ انتخابات میں اپنی متوقع نشستوں سے کم نشستیں حاصل کر پائی اور موجودہ حالات میں حکومت کے لیے اپنی پسند کا چیئرمین سینیٹ منتخب کروانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں صادق سنجرانی کمزور امیدوار ہیں۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ حکومت سینیٹ انتخابات کے نتائج کے صدمے سے نکلنے اور اعتماد کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہی ہے جس میں انہیں وقت لگے گا۔

‘پاکستان ٹو ڈے’ کے مدیر عارف نظامی کہتے ہیں کہ حکومت کے پاس ایوانِ بالا میں چیئرمین منتخب کروانے کی اکثریت نہیں ہے، تاہم یہ اس صورت ہی ہو سکتا ہے کہ خفیہ رائے شماری میں نتائج کو بدلا جائے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جس طرح 2019 میں صادق سنجرانی نے حزبِ اختلاف کی تحریکِ عدمِ اعتماد کو واضح اکثریت رکھنے کے باوجود ناکام کیا تھا، وہ جادو دوبارہ بھی سیکرٹ بیلٹ میں چل سکتا ہے۔

عارف نظامی کہتے ہیں کہ اپوزیشن متحد دکھائی دیتی ہے اور ان کے پاس عددی اکثریت بھی ہے، اس لیے اپ سیٹ کا فارمولا صرف خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہی چل سکتا ہے۔

عارف نظامی کے بقول اکثریت رکھنے کے سبب یوسف رضا گیلانی اگر چیئرمین سینیٹ منتخب ہو جاتے ہیں تو یہ حکومت کے لیے ایک سیٹ بیک ہو گا لیکن ایسا نہیں ہو گا کہ حکومتی امور اور قانون سازی رک جائے گی۔

‘اعتماد ووٹ سے نہیں کارگردگی سے بحال ہو گا’

وزیرِ اعظم عمران خان نے سینیٹ انتخابات میں مشیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی شکست کے بعد قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کیا تھا۔ وزیرِ اعظم کی سفارش پر صدر عارف علوی نے اعتماد کے ووٹ کے لیے ہفتے کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

تجزیہ کار عارف نظامی کہتے ہیں کہ وزیرِ اعظم اعتماد کی بحالی کا ووٹ تو حاصل کر لیں گے لیکن اعتماد میں اصل بحالی حکومتی کارگردگی میں واضح بہتری سے ہی ممکن ہو سکے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ حکومتی کارگردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تحریکِ انصاف کے اراکین اسمبلی نے ہی اپنے امیدوار اور وزیرِ خزانہ حفیظ شیخ کو ووٹ نہیں دیے۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں قومی اسمبلی کے اراکین کے ووٹوں سے حزب اختلاف کے امیدوار کا کامیاب ہونا بہت بڑی پیش رفت ہے، جو کہ عمران خان کی جماعت کے لیے زبردست دھچکہ ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے صادق سنجرانی کو دوبارہ چیئرمین سینیٹ کا اُمیدوار نامزد کیا ہے۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے صادق سنجرانی کو دوبارہ چیئرمین سینیٹ کا اُمیدوار نامزد کیا ہے۔

تجزیہ کار نصرت جاوید کہتے ہیں کہ مشیرِ خزانہ حفیظ شیخ کی سینیٹ انتخابات میں شکست ایک طرح سے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایوان سے اعتماد کا ووٹ لے کر ثابت کریں گے کہ انہوں نے حکمرانی کا اخلاقی جواز نہیں کھویا۔

سینیٹ انتخابات کے بعد ایوانِ بالا میں پارٹی پوزیشن

گزشتہ روز انتخابات میں حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے مجموعی طور پر 18 نئی نشستیں حاصل کیں ہیں جب کہ پہلے سے سینیٹ میں موجود آٹھ نشستوں کے ساتھ پی ٹی آئی 26 نشستوں کے ساتھ ایوان بالا کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے۔

حکومتی اتحادی جماعتیں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کی 12 نشستیں ہو گئی ہیں جب کہ متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹ میں تین اراکین ہیں۔

مسلم لیگ (ق) اور گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) کو سینیٹ کی ایک ایک نشست ملی ہے اس کے علاوہ حکومت کو چار آزاد سینیٹرز کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اور یوں 100 ارکان کے ایوان میں حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 47 ہو گئی ہے۔

یوسف رضا گیلانی
یوسف رضا گیلانی

دوسری جانب پیپلز پارٹی 20 نشستوں کے ساتھ ایوانِ بالا کی دوسری بڑی جماعت کے طور پر برقرار ہے۔

مسلم لیگ ن کی ایوان بالا میں 18 نشستیں ہو گئی ہیں اور وہ سینیٹ میں پہلے سے تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام نے تین نشستیں حاصل کیں ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی( مینگل) پشتونخوا میپ اور نیشنل پارٹی کی سینیٹ میں دو، دو نشستیں ہیں۔ جب کہ اپوزیشن اتحاد کو دو آزاد ارکان کی حمایت بھی حاصل ہے۔

اس طرح سینیٹ انتخاب 2021 کے بعد اپوزیشن اتحاد کے ارکان کی تعداد 53 ہو گئی ہے اور اسے حکومتی اتحاد پر چھ ارکان کی برتری حاصل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1740 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply