سر پہ فلک اٹھائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کالج کی لائبریری میں کسی ادبی رسالے میں اساتذہ شعرا میں سے کسی کا شعر پڑھا تو ہم نا تجربہ کاروں کا شاعر کی بلندیٔ خیال سے متاثر ہونا لازم تھا

سر پہ فلک اٹھائے ہاتھ میں دم دار ستارا
کس شان سے جاتا ہے محبوب وہ پیارا

کچھ عرصہ بعد کسی تنقیدی رسالہ میں پھر اس کی شان نزول نظر پڑی۔ چلئے اب ایک واقعہ سن لیجیے

ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں ایک روز صبح دکان کھولتے ہی صوفی برکت آتے نظر آئے۔ مارکیٹ کے اندر ان کی دکان ہمارے پچھواڑے پڑتی تھی۔ کپڑے کے باہر سے آئے تاجر مال خرید ان کی دکان پر اکٹھا کرتے اور وہ اپنی سادہ سی ہاتھ سے چلنے والی بیلنگ پریس میں مال کو گانٹھوں کی شکل دے مطلوبہ ٹرک اڈہ پر بک کرواتے۔ مگر آج وہ اپنی دکان پر جانے کی بجائے سیدھا میری دکان میں داخل ہوئے اور کچھ کہنا چاہا مگر ہنسی کا فوارہ چھوٹ چکا تھا۔ وہ جتنا کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے اتنا ہی ہنسی بڑھتی جاتی۔ ہم حیران پریشان۔ کچھ دیر بعد بولنے کے قابل ہوئے تو فرمایا۔ لئیق صاحب۔ مجھے آج کی واردات سنائے بغیر دکان نہیں کھولی جائے گی۔ میں بس سے اتر سیدھا آپ کے پاس آیا ہوں۔ میرے ساتھ مزا لیں۔

” لئیق صاحب آپ کو پتہ ہے ہمارے محلہ محمد پورہ میں ابھی تک گٹر نہیں بنے اور عموماً مکان بھی ایک منزلہ ہیں۔ بعض مکانوں کی چھت پر جانے والی سیڑھیاں مشترکہ دیوار کے ساتھ ہی اوپر جاتی ہیں۔ اور اوپر والے حصہ میں صرف تین چار فٹ کی پتلی دیوار ہوتی ہے۔ اور ہمسائیوں کا فارغ وقت وہاں کھڑے گپ شپ میں گزرتا ہے۔ بیت الخلا چھت پر ہی ہیں اور جمعدارنی ہی صفائی کرتی ہے۔ ہمارے گھروں میں کام کرنے والی جمعدارنی اپنی جوان بیٹی کو بھی ساتھ لاتی ہے کہ تھوڑے وقت میں زیادہ گھر بھگت جائیں۔

آج صبح میں ناشتہ کر ہی رہا تھا کہ دوسرے گھر سے اچانک پہلے اونچی چیختی آواز میں کچھ کہا گیا۔ پھر گالیوں کا طوفان شروع ہوا۔ ایک ”بھڑاک“ کی سی آواز آئی۔ گالیوں کی گردان جاری تھی کہ گلی میں شور مچنا شروع ہو گیا۔ میں بھی بھاگا باہر آیا۔ محلہ داروں کا مجمع لگا تھا اور بھاگ بھاگ لوگ آرہے تھی کوئی قہقہے لگا رہا تھا اور کوئی لعن طعن کر رہا تھا۔ مجمع کے درمیاں ایک جوان کھڑا تھا جو سر سے پیر تک بیت الخلا کے فضلہ سے لتھڑا کھڑا تھا۔ منہ بھی پہچانا نہیں جا رہا تھا۔ قہقہے۔ جگتیں اور لعن طعن جاری تھی۔

کہانی کچھ یوں نکلی۔ کہ جوان رعنا جمعدارنی دوسرے گھر کی چھت پر اپنا کام کرنے گئی تو تیسرے گھر کا گبھرو جوان عاشق نام دار ملحقہ سیڑھیوں پہ جا چھپا۔ اب وہ جمعدارنی لڑکی سر پر ”فلک“ ( کئی گھروں سے اکٹھے کیے فضلہ کی ٹوکری ) اٹھائے۔ ہاتھ میں ”دم دار ستارہ“ ( لمبا جھاڑو ) لئے نیچے اتر رہی ہے کہ بے قرار عاشق نے کھڑے ہوتے ہی اس کی چھاتیوں پہ ہاتھ ڈال دیے۔ نیچے صحن میں کھڑی اس کی منتظر ماں نے جو دیکھا تو اچانک ”وے حرامی ایہہ کی کر رہیا ایں“ کی آواز سناتے مغلظات نکالتے اوپر کو دوڑی۔

حسینہ گھبراہٹ میں توازن قائم نہ رکھ سکی، ڈگمگائی تو پورا ٹوکرا عاشق کے اوپر انڈیل دیا۔ فلک کے سارے ستارے جوان کے پورے جسم کو ڈھانپ چکے تھے۔ اور لڑکی کی ماں بیٹی کے ہاتھ سے دم دار ستارہ چھین کبھی اس پہ اور کبھی اس پہ ٹھکائی کر رہی تھی۔ اور اب ہیرو اسی حالت میں گلی میں کھڑا تھا اور محلہ والوں کے قہقہے پوری گلی کے مردوں خواتین اور بچوں کو دعوت نظارہ دیتے اکٹھا کر رہے تھے۔ ”۔

صوفی برکت کے قہقہوں میں میرے قہقہے بھی شامل ہو چکے تھے۔ اور تب مجھے دوبارہ یہ شعر اور اس کی شان نزول یاد آئی

سر پہ فلک اٹھائے ہاتھ میں دم دار ستارا
کس شان سے جاتا ہے محبوب وہ پیارا

کہ استاد شعرا میں سے کسی نے گلی میں گزرتی سر پہ گندگی کا ٹوکرا اٹھائے۔ ہاتھ میں لتھڑا لمبا جھاڑو پکڑے جاتی طرح دار جمعدارنی کے جوبن کے تعریفوں کے پل کیا ہی سہانے بنا باندھے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply