شہید محبت رابعہ بلخی اور چند بہادر خواتین کا ذکر
یہ رابعہ بلخی کا مزار ہے۔ صوبے کا نام بلخ جبکہ مزار شریف اس کا دارالحکومت ہے جہاں فضل امین کا گھر ہے ، اس کے گھر سے ٹھیک پندرہ میٹر کے فاصلے پر ہم لوگ کھڑے ہیں۔ یہ بتانا تھا مریم کوشہ کا جو افغان ایڈ میں کام کرتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں تحقیق اور جستجو کے لئے سفر کر چکی ہے۔ دنیا کی کئی زبانوں پر دسترس رکھتی ہے ، اس کے لئے دنیا بھر میں پسندیدہ جگہ رابعہ بلخی کا مزار ہے۔
اگرچہ بلخ اب ایک چھوٹا سا شہر ہے لیکن قدیم وقتوں میں یہ آبادی اور دولت کے اعتبار سے بابل اور نینوا کا مقابلہ کرتا تھا۔اس کا دوسرا نام وزیر آباد ہے جودریائے بلخ کے کنارے مزار شریف کے نزدیک واقع ہے۔ صدیوں سے روایت ہے فارس کا پیغمبر شہر کی دیواروں کے اندر ہی فوت ہوا تھا۔ چین اور ہندوستان جانے والے تجارتی قافلے اسی شہر سے ہو کر گزرتے تھے۔ یہاں تین ہزار سال قبل زرتشت اپنے مذہب کی تبلیغ کرتا تھا۔ یہ روایت ہے جشن بہار کے موقع پر ایک دن زرتشت علی الصبح اٹھا اور قربانی کے لئے پانی لینے چلتا ہوا دریا پر آ گیا۔ اس نے دریا میں پانی کی پاک نعمت میں غوطہ لگایا پھر سر اٹھا کے باہر دیکھا اسے ہر طرف نور سا بکھرتا نظر آیا۔
جب اس نے روشنی کے منبعے کی طرف غور سے دیکھا اسے دریا کنارے کھڑا ایک نورانی پیکر دکھائی دیا۔ روشنی جس سے نکل کر چاروں طرف پھیل رہی تھی۔ زرتشت کے استفسار پر اس ہستی نے بتایا کہ وہ دو ہومناہ یعنی ”نیک مقصد“ ہے۔ سکندر یونانی بھی یہاں کی دھول چاٹتا رہا۔ فارسی کے شہرہ آفاق شاعر رومی یہاں پیدا ہوئے بلخ ہزاروں سال سے تہذیب و ثقافت کا گہوارہ رہا۔ رابعہ کی پیدائش بلخ کی تھی۔ وہ عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہتی تھی لیکن زیادہ تر فارسی شاعری اس سے منسوب ہے۔
اسے فارسی زبان کی پہلی شاعرہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ تاریخ اسے فارسی ادب کی پہلی شہیدہ محبت کے نام سے یاد کرتی ہے۔ اس کا جرم صرف یہ تھا وہ محبت کر بیٹھی تھی جو بڑا جرم سمجھا جاتا ہے۔ یہ صرف مردوں کا حق ہے وہ محبت کرے عشق کرے جو دل چاہے کرے مگر جب کوئی عورت عشق یا محبت کا نام لے بیٹھے تو اس کا جو حشر کیا گیا اس کے ذکر سے روح بھی کانپ اٹھتی ہے۔ رابعہ کو خدا نے حسن و جمال کی نعمت سے خوب نوازا تھا۔ ساتھ ساتھ علم و فکر میں بڑی صاحب و کمال تھی۔
اس کے ساتھ بدقسمتی یہ ہوئی اس نے محبت جیسا جرم کر لیا جو اس دور میں تو کیا ہر دور میں عورت کا جرم عظیم سمجھا جاتا ہے۔ عشق کرنے کا حق مرد نے اپنے پاس رکھا ہے جب مرد عشق کرتا ہے وہ صفت میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگر یہی عورت سے سرزد ہو جائے وہ گناہ عظیم بن جاتا ہے۔ تہذیبیں بدلتی رہیں ، مذاہب بدلتے رہے ، زمانے بدلتے رہے ، اگر نہیں بدلے تو مرد کے وہ طور طریقے نہیں بدلے جو آج تک عورت کے ساتھ کھیلنے کے ہیں۔ ابتدائے آفرینش سے عورت اس کے لئے کھلونا اور جسم رکھنے والا ایک جاندار ہے۔
انسان تو اسے آج تک سمجھا ہی نہیں گیا۔ انسان اسے ماں بہن بیٹی کہہ دیتا ہے لیکن اس سے عورت نام کی مخلوق کی مظلومیت پہ کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کتنے بیٹوں نے کتنی ماؤں کو مارا ہے ، بیچا ہے ، قتل کیا ہے ۔ کتنے بھائیوں نے بہنوں کو بیچا یا تبادلے کا سکہ سمجھا ہے ، کتنے باپوں نے بیٹیوں سے کیسا کیسا سلوک کیا ہے۔ ان واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے اور جغرافیہ میں بھی کسی دور ، کسی ملک ، کسی قوم ، کسی نسل کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ پتھر کے دور کا وحشی انسان اس کے ساتھ جو کرتا رہا ہے ، آج کا مہذب انسان بھی کر رہا ہے۔
فرق کوئی نہیں پڑا اسلام جیسے عظیم الشان مذہب نے بھی انسان کو چار شادیوں تک کی اجازت دے رکھی ہے ساتھ میں کنیز اور لونڈی کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ ترکی کا سلطان جس کے لئے عالم اسلام نے تحریک چلائی تھی۔ اس کے حرم میں ساڑھے چار ہزار کے قریب مختلف النوع مختلف القوم مختلف النسل کے زندہ کھلونے بھر ہوئے تھے۔ اموی عباسی علوی فاطمی وغیرہ کی کوئی تخصیص نہیں رہی ۔ ان سب کا محبوب ترین مشغلہ ان ہی زندہ کھلونوں سے کھیلنا ہوتا تھا۔
جسے عورت کہا جاتا ہے اپنی اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق چاہے کوئی بادشاہ رہا ہو یا کوئی مزدور کوئی مذہبی پروہت ہو یا پھر کوئی وزیر سب کا رویہ عورت کے ساتھ ہمیشہ ایک سا رہا ہے۔ جس کی جتنی استطاعت ہوتی تھی ، اتنے ہی کھلونے جمع کر کے کھیلتا رہتا تھا ، پھینکتا رہتا تھا ، توڑتا رہتا تھا۔ جس کو جہاں بھی جیسا بھی موقع ملا ، اس نے جی بھر کر اس کھلونے پر اپنی بھڑاس نکالی۔ طالبان کے دور میں ہزارہ خواتین کے ساتھ جو ہوا بیان سے باہر ہے۔
رابعہ بلخی جیسا سلوک ہم ایران کی بیٹی قرۃالعین طاہرہ زرین تاج کے ساتھ کر چکے ہیں۔ قرۃالعین علی طاہرہ زرین تاج نے شاہ ایران ناصرالدین قاچار کے بستر کا کھلونا بننے سے انکار کر دیا تھا۔ جب شاہ ایران نے دیکھا یہ کھلونا اس طرح ہاتھ آنے والا نہیں تو پھر اسے تباہ کرنے کا حکم صادر کر دیا گیا۔ اس کو مارنے کے لئے جتنے جلاد بلائے گئے، سب نے اسے موت کے گھاٹ اتارنے سے انکار کر دیا۔ وہ جانتے تھے شاہی حکم سے سرتابی خود ان کی موت کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے باوجود اس کو مارنے کے لئے تیارنہیں ہوئے۔ اس کا نام ہی خوبصورت نہیں تھا ، جتنی حسین و جمیل وہ خود تھی اتنی ہی اس کی شاعری بھی دل کو لبھا دینے والی تھی۔ لیکن جو موت اسے ملی وہ بدصورت ترین موت تھی۔
تار تار لباس ، بکھرے ہوئے بالوں اور گرد و غبار میں اٹے ہوئے وجود کے باوجود وہ ایک اپسراء لگ رہی تھی۔ اس کی سنہری جلد کے اندر ہی اندر کچھ ایسی روشنی جھلک رہی تھی جیسے کسی زرین فانوس کے اندر کافوری شمع جل رہی ہو ، اس کی آنکھیں ویران تھیں ، پھر بھی نہ جانے ان میں کیا سحر تھا جس سے چار ہو جاتیں وہ پتھر کے بت میں تبدیل ہو جاتا۔ سرکاری عمال پریشان تھے شاہی فرمان کے مطابق اسے موت کے حوالے کرنا تھا۔ یہاں کوئی جلاد اسے مارنے کے لئے تیار نہیں تھا۔
آخر ایک جلاد کو بہت ساری شراب پلا کر یہ فریضہ سرانجام دینے کا حکم دیا گیا۔ یوں شاہی فرمان کے مطابق ایران کی مظلوم بیٹی کو زندگی کی قید سے آزاد کر دیا گیا۔ اس کی لاش کو نزدیکی کنویں میں ڈال کر مٹی اور پتھروں سے بھر دیا گیا۔ گویا اسے بے نام و نشان کر دیا گیا۔ مگر تاریخ نے ثابت کیا ہے جب بھی وقت کے حکمرانوں نے ، فتویٰ نویسوں نے، سماج کے ٹھیکیداروں نے کسی کو مٹانا چاہا وہ پہلے سے زیادہ بلند و بالا ہو گیا۔ ایسی شخصیات دبانے سے زیادہ ابھرتی ہیں۔ سرکنڈے کو کاٹا جائے وہ قلم بن جاتا ہے۔ نرکل کو توڑا جائے وہ بانسری بن جاتا ہے۔ نرکل کا ٹکڑا ہمیشہ فریاد کرتا رہتا ہے۔ اس اصل کے فراق میں روتا ہے جس سے وہ کاٹا گیا ہو۔
زرین طاہرہ ایک روشن خیال شاعرہ تھی ، اس سے بڑا گناہ سرزد ہوا تھا ، اس نے عورتوں کے حقوق کا بیڑہ اٹھایا تھا۔ اس کے گھر عورتوں کے اجتماعات اور مجالس ہوتی تھیں۔ عورتوں پر ہونے والے غیر اسلامی اور غیر انسانی مظالم کے خلاف آواز بلند ہوتی تھی۔ اس وقت کے سماج اور مذہب کے ٹھیکیداروں کو یہ بات پسند نہ تھی۔ پھر وہی ارتداد اور لا مذہبیت کا پرانا لیکن آزمودہ حربہ استعمال کرتے ہوئے واجب القتل قرار دے دیا۔ مگر وہ بھول گئے اس طرح دار پر چڑھنے والے ہمیشہ زندہ ہو جاتے ہیں ، انہیں پھانسی کا پھندا دینے والے اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ شاعر نے اسی قبیلے کے لئے کہا ہے۔
پھول برگ و ثمر نہیں رہتے
ظلمتوں کے شجر نہیں رہتے
دور باطل میں حق پرستوں کی
بات رہتی ہے سر نہیں رہتے
دور باطل میں حق اور سچ کا پرچار کرنے والی قرۃالعین علی طاہرہ زرین تاج صرف 32 سال کی عمر میں شاہ ایران کے حکم سے سوئے عدم روانہ کر دی گئی۔ تاریخ ایسے کئی واقعات سے بھری پڑی ہے کہ کیسے کیسے عورتوں پر مظالم ڈھائے گئے۔ آج کے دن تک فتویٰ نویس اپنے فتوے جاری کرنے میں مصروف ہیں کہ بر صغیر پاک و ہند میں رضیہ سلطانہ کی حکومت عورت ہونے کے ناتے جائز تھی یا ناجائز ، خدا کی مخلوق کے دشمن آج تک اس میں کوئی عیب نہیں ڈھونڈ سکے ماسوائے اس کے وہ ایک عورت تھی۔
وہ دہلی کے تخت پر بیٹھنے والی پہلی مسلم حکمران تھی۔ تاریخ اسے رضیہ سلطانہ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ خدائے لم یزل نے اسے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ باپ نے بیٹی کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی تھی بیٹے سب کے سب ازکار رفتہ تھے۔ شراب ، جوئے اور عورتوں کے رسیا تھے۔ رضیہ نے قرآن کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عربی فارسی اور ترکی میں اعلیٰ دستگاہ حاصل کی تھی۔ فنون حرب و ضرب میں وہ کمال حاصل تھا جو بڑے بڑے سپہ سالاروں کو بھی نہیں تھا۔
کاروبار حکومت میں اپنے باپ کو وقتاً فوقتاً مشوروں سے نوازتی تھی۔ اس کے اعلیٰ اوصاف پر التمش اسے بے پناہ عزیز رکھتا تھا۔ جب بھی مہم جوئی کے سلسلے میں دارالحکومت سے باہر جانا پڑتا تو بیٹوں کی موجودگی کے باوجود اپنی بیٹی رضیہ سلطانہ کو قائم مقام بنا کر جاتا تھا۔ رضیہ سلطانہ جسے ”ملکۂ دوراں“ بھی کہا جاتا ہے اس میں وہ سبھی صلاحتیں اور قابلیتیں موجود تھیں جو ایک زیرک اور قابل حکمران کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔
رضیہ سلطانہ نے عوام سے وعدہ کیا ان کی فلاح و بہبود کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ اس نے وہ تمام قوانین نافذ کیے جن سے عوام کی فلاح مقصود تھی۔ اس نے مختلف عہدوں پر ایسے لوگوں کو نامزد کیا جو حقیقی معنوں میں قابل اور باصلاحیت تھے۔ اس کا دور حکومت ایک عادلانہ دور حکومت گردانا جاتا ہے۔ وہ ہر کسی کے ساتھ انصاف کرتی تھی مظلوموں کی فریاد سنتی اور ظالموں کو سزا دیتی تھی۔ اس کے دور میں شاہی ملازمین میں سے کسی کو رشوت لینے کی ہمت نہ تھی۔
جنگ کے وقت افواج کو خود ترتیب دیتی اور سپاہیوں کے دوش بدوش میدان جنگ میں داد شجاعت دیتی تھی۔ وہ ہاتھی کی سواری بھی کرتی مگر گھوڑے کی سواری زیادہ پسند تھی۔ رضیہ ایسے تمام اوصاف سے مزین تھی جو ایک عاقل اور صاحب رائے حکمران میں ہونے ضروری تھے۔ اصحاب نظر اس میں ماسوائے وہ عورت تھی اور کوئی خامی تلاش نہیں کر پائے تھے۔ اس نے امور سلطنت چلانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی لیکن امن و چین سے بیٹھنا اسے کم ہی نصیب ہوا تھا۔
اس کے متعدد امراء اس کے خلاف مسلسل سازشوں میں شریک رہے۔ ان کی مخالفت اور عناد کے اسباب میں ایک یہ بھی تھا۔ اس نے ایک غلام یاقوت جو شاہی اصطبل کا مہتمم تھا ، کو ترقی دے کر امیر الامراء کا خطاب بھی دیا۔ امراء نے ملکہ کے اس کام کو غلط ہی نہیں بہت زیادہ غلط معنی پہنائے اور بہتان تراشی شروع کر دی۔ حالانکہ قصہ کچھ اور تھا یاقوت ایک بہادر اور باصلاحیت آدمی تھا۔ ایک لڑائی میں اس نے ملکہ کی جان بچائی تھی اور اپنی جان کی پروا نہیں کی تھی۔
اسے طرح طرح کے الزامات دیے گئے ، اگر یہی شفقت وہ کسی پگڑی والے کے ساتھ کر دیتی تو پھر شاید یہ نوبت نہ آتی ۔ ہر سو سازشوں کا جال بن دیا گیا ، یاقوت کی جان چلی گئی ۔ بغاوت اور سازشوں کے درمیان لڑتے لڑتے رضیہ سلطانہ کو عورت ہونے کی سزا بھگتنا پڑی۔ زندگی کی دہلیز کے اس پار موت کی وادی میں جانا پڑا۔ سلطانہ کی حکومت تین سال تین ماہ پر محیط ہے۔ وہ بڑی باتدبیر ، زیرک ، بہادر ، انصاف پسند ، خوش اخلاق اور علم دوست خاتون تھی۔

علماء اور صوفیاء سے بڑی عقیدت تھی۔ اس نے متعدد مدرسے قائم کیے اور تبلیغ اسلام میں خواجہ بختیار کاکی کے خلفاء کی اعانت کی اس نے مہر ولی میں اپنے باپ کا مقبرہ تعمیر کروایا۔ شعر و سخن میں وہ عمدہ ذوق رکھتی تھی ۔ وہ فارسی کی نغز گو تھی اور شیریں تخلص کرتی تھی۔ ان سب باتوں کے باوجود اسے ایک عورت ہونے کی سزا سے دوچار ہونا پڑا تھا جو بلخ کی رابعہ کے ساتھ ہوا تھا۔
تاریخ ہمیں ایسی کئی داستانیں سناتی سناتی آگے نکل جاتی ہے رابعہ کے دیس میں ہی نازیہ انجمن جواں سال شاعرہ اور صحافی تھی۔ شادی شدہ بھی مگر اپنے شوہر کے ہاتھوں قتل ہوتی ہے اس بے باک اظہار پر جو اس کے شعروں کی صورت میں سامنے آیا۔ جس نے ایک ہیجان زدہ کیفیت کو جنم دیا
جب بہنیں اکٹھی بیٹھیں وہ ہمیشہ اپنے بھائیوں کے گن گائیں
پر جب بھائی اکٹھے بیٹھیں تو وہ اپنی بہنوں کو بیچنے کی باتیں کریں
ذرا دیکھیے تو
بابا تم نے بیچ دیا مجھے ایک بوڑھے آدمی کے ہاتھ
خدا تمہارا گھر تباہ کر دے
میں تمہاری بیٹی تھی
ذرا یہاں راحیلہ موسکا کے جذبات کا دلفریب اظہاریہ تو دیکھئے
تم میرا قلم نہیں دے سکتے
میرا کاغذ بھی تمہاری نظروں سے اوجھل ہے
برقعے کے نیچے میرے سینے میں چھپے ہوئے
میں افغان رائٹر ہوں
مجھے آزادی کے گھر کی ضرورت ہے
یہ ہرات ہے ثقافتی تمدنی پس منظر اور تہذیبی ورثہ رکھنے والا پانچ ہزار سال سے افغان تہذیب کا نمائندہ شہر ہے۔ جس کے بارے میں پندرہویں صدی کے عظیم شاعر علی شیر نوائی نے کہا تھا ہرات علم سے بھرا ہوا ایسا شہر ہے ، کوئی آدمی یہاں اس لیے ٹانگ نہیں پسارتا کہ کہیں وہ آگے بیٹھے شاعر کی پشت سے نہ ٹکرا جائے۔ یہ ملکہ گوہر شاد جیسی علم دوست کا شہر ہے۔ جس کی دیواروں پہ آرٹ علم و فن کے مظاہرے گلی کوچوں میں ہوتے تھے۔ رابعہ نے اسی سرزمین پہ جنم لیا تھا، وہ قدیم نسوانی تاریخ کا ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے۔
اس کا نام اور شاعری اس کی پہچان ہے۔ اسے اپنے بھائی کے غلام سے عشق ہو گیا تھا جو اس کے بچپن کا ساتھی تھا۔ اس کے بھائی کا نام حارث اور اس کے غلام کا نام یکتاش تھا۔ جس سے رابعہ عشق کر بیٹھی تھی۔ اس نے اپنے عشق کو ہر آلودگی سے پاک رکھا تھا۔ اس نے جو عشق کیا وہ نہایت پاکیزہ تھا۔ اسے اس بات کا احساس تھا اسے بڑا جرم تصور کیا جائے گا۔ اس نے اسے صوفیانہ رنگ میں رنگ دیا تھا۔ اس کے باوجود اس کے ساتھ جو ہوا ہر گز اچھا نہیں تھا۔
وہ یکتاش کے ساتھ تھی ، اس کے بھائی نے اس کے بازو کاٹ دیے۔ جسم سے بہتے خون سے اس نے دیواروں پر اپنے جذبات کو لکھا اس کے لکھے نے تا قیامت اسے امر کر دیا۔ صدیاں گزر گئیں آج بھی ازبک نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس کے مزار پر حاضری دیتے اپنی محبت کے پروان چڑھنے کی دعائیں مانگتے ہیں۔ رابعہ کا کہا اسے قیامت تک زندہ رکھے گا جو اس نے کہا ذرا ملاحظہ ہو۔
تمہاری محبت نے تو مجھے جکڑ لیا ہے
اب بچنے کی کو شش لا حاصل ہے
محبت کا سمندر تو حدوں سے ماوراء ہے
کوئی بھی عقل مند اس میں تیرنا نہیں چاہے گا
پر اگر تمہیں پیار کرنا ہے اس کے انجام تک
پھر وہ سب قبول کرنا ہو گا جسے پسند نہیں کیا جاتا
مصیبتوں اور تکلیفوں کا ہنسی خوشی استقبال کرو
زہر پی جاؤ اور سمجھو کہ تم نے شہد پیا ہے








