ویڈیو: سوال آپ کا جواب ہمارا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دعا قاضی کا سوال: آج اعتماد کا این آر ووٹ ہوا، سب نے دیکھا۔ یہ ضمیر کیسے جاگتے اور سو جاتے ہیں؟

جواب: ظفر اللہ جمالی کے انتخاب میں استعمال ہونے والی دلیل کا بیان۔ یہ وہ ضمیر نہیں جو دستور پر قانون پر جاگتے ہیں۔

اعجاز حسین کا سوال: عمران خان کی حمایت جبر کا کرپٹ نظام تبدیل ہونے کی امید پر کی۔ مایوسی ہوئی تو آپ جیسے جمہوریت پسندوں کی تحریریں پڑھ کر ایک مرتبہ نون لیگ اور پی پی پی سے توقع رکھنے لگا کہ شاید سبق سیکھنے کے بعد ان میں تبدیلی ہو چکی ہو گی، لیکن اس کرپٹ سینیٹ انتخاب کو دیکھنے کے بعد سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ کیا یہی وہ نظام ہو گا جس کا خواب آپ جیسے جمہوریت پسند دیکھ رہے ہیں۔ کیا مستقبل میں ایسے ہی انتخابات جیتے جائیں گے۔

رحمت علی رحمت کا سوال: جس طرح سیاسی اور معاشی حالات خراب ہو رہے ہیں، آپ کے نزدیک پاکستان کا مستقبل کیا ہو گا؟

پاکستان کا مستقبل ایسی جمہوریت میں ہے جن میں سیاست دانوں کو مہلت تو دی جائے اور مسلسل بحرانوں اور سازشوں کا نشانہ نہ بنایا جائے۔
پیپلز پارٹی کو 2008 میں 134 ارب ڈالر کا جی ڈی پی ملا تھا جب وہ گئے تو وہ 215 پر تھا۔ مسلم لیگ کی حکومت گئی تو معیشت کا حجم 315 ارب ڈلر تھا۔

ایم افضل صاحب کا سوال: کیا عمران خان فیوہرر کے درجے پر فائز ہو چکے ہیں؟
جواب: عمران خان میں خامیاں ہو سکتی ہیں لیکن انہیں فیوہرر قرار دینا ناانصافی ہو گی۔ انہیں ہٹلر کے ساتھ مماثلت دینا غلط ہو گا۔

خالد عباس کا سوال: کیا موجودہ دگرگوں حالات میں اخلاقی اور عوامی تائید سے محروم لیکن منتخب عوامی حکومت کی ٹانگیں کھینچنا درست ہو گا۔
جواب: دستور کے تابع حکومت موجود ہے۔ جن حالات میں انجینئیرنگ اور جوڑ توڑ کے ساتھ حکومت وجود میں آئی اس کے نتیجے میں اس کی ساکھ بن ہی نہیں سکتی تھی۔ خان صاحب کی حکومت کا معاشی، خارجہ اور ایڈمنسٹریشن میں قریب قریب مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے۔
لیکن وجاہت مسعود پھر بھی کس بنیاد پر اس کی حمایت کرتے ہیں اور کس بنیاد پر اس کی تبدیلی پر راضی ہو سکتے ہیں؟

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply