فرعون کا دوسرا جنم!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ضروری انتباہ!

یہ کہانی قبل از تاریخ ہندو مت کے ماننے والے لوک فنکار کی تحریر کردہ لوک داستان سے ماخوذ سے، اور تمام کردار اور واقعات جھوٹ پر مبنی ہیں۔

فرعون کی روح جب اس کے جسم سے نکلی تو وہ تھوڑا سا حیران تھا کہ یہ کیا ہو گیا ہے، میں تو ہٹاکٹا ہوں پھر بھی یہ لوگ مجھ سے ڈر کیوں نہیں رہے؟

آخر میری ساری طاقت اور جلال ایک دم سے سب کو دکھائی دینا بند کیوں ہو گیا؟
وہ چیخنے چلانے لگا لیکن مجال ہے کہ کسی کو کچھ سنائی یا دکھائی دیتا؟

سب اہی اپنی مستی میں مگن۔ جیسے کسی کو یاد ہی نہیں کہ کون ہے جو اتنے زور وشور سے چلا رہا ہے کی مجال ہے کہ کوئی اس کی جانب دیکھ بھی لے۔

سڑک پہ وہ پیدل چلنے لگا اور اس نے سوچا کیوں نہ وہ اس کنیز کو ہی کچھ وقت دے جو آج صبح ہی اس کے محل آئی تھی، جوان، خوبصورت انتہائی دلکش و دلآویز لڑکی۔ جب وہ اس کے پاس پہنچا تو دیکھتا ہے وہ مرنے کی خبر پہ خوشی سے ناچنے گانے میں لگی ہوئی ہے اور آپنی گٹھری تیار کر رہی ہے گلی کے کونے پہ ایک نوجوان لڑکا ہے جو اس کے انتظار میں ہے کب وہ پیچھے والے دروازے سے باہر آئے اور دونوں جلدی سے فرار ہو جائیں، فرعون بلند آواز میں اس لڑکے اور لڑکی کو موٹی موٹی ماں بہن کی گالیاں دینے لگا۔ لیکن مجال ہے کہ کوئی اس پہ توجہ دے۔ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اس نوجوان دوشیزہ کو لڑکے کے ساتھ جاتا دیکھتا رہا۔

ایک پر ایک تکلیف دہ حادثات کے بعد فرعون کو یہ ماننا ہی پڑا کہ اب مجھے جہنم کی جانب سفر شروع کر دینا چاہیے، جس وقت اس کی روح آسمان کی جانب رواں دواں تھی تو راستے میں اسے موت کے فرشتے نے روکا اور کہنے لگا ارے او نامراد کہاں اڑا جا رہا ہے؟ ادھر رک کے حاضری تیرا باپ لگوائے گا؟ پرنام کر یہ چھوٹے بھگوان ہیں۔

فرعون پہلے تو اتنی دیر کے بعد کسی کے مخاطب ہونے پہ بہت خوش ہوا۔ لیکن اس قدر بدتمیزی سے لائن حاضر ہونے کا سن کے وہ تڑپ گیا کہ یہ کیا چل رہا ہے۔

میں کہاں ہوں مائی باپ؟

او لعنتی تو مر کے آسمان کی طرف اڑان بھر رہا ہے، لیکن ابھی تجھے یمدود کے پاس جانا ہے وہ تیرا ریکارڑ دیکھ کر تیرے کرم کے چکر پہ ٹھپا لگا کر دوبارہ دنیا میں پھینک دیں گے۔ وہ دیکھ دور ایک لمبی لائن لگی ہے جا اس لائن میں لگ جا بدبخت اور اپنی باری کا انتظار کر۔

فرعون ایک بہت ہی طویل لائن میں لگ گیا جسے ڈنڈے کے زور پر تمیز سکھائی جا رہی تھی، آخر کار وہ بھگوان کے پاس پہنچ گیا۔ بھگوان کے پاس اس کے کھاتے کی فائلیں کھلی ہوئی تھیں، اور دو تین مشیران اس میں سے پڑھ پڑھ کے سنا رہے تھے۔

فرعون کی فائلیں جب کھلیں تو ساتویں جنم کے ٹھپے ایک ہی بار میں لگ گئے۔

کتا، بندر، گیدڑ، بچھو، سانپ، چوہا، چھوندر پہ جب ٹھپے لگ چکے تو فرعون رونے لگا اور پوچھا اے دیوتا مجھے معاف کر دے! دیکھ میں بادشاہ تھا وہ بھی فرعون کچھ تو سوچ؟

لیکن بھگوان تو فائل بند کر چکے تھے، بس اتنا ہی جواب دیا ان ساتوں جنموں میں اچھے کرم کرے گا تو اگلے چکر میں بادشاہ بنا دوں گا۔

Next!

ساتویں جنم کو فرعون نے خاموشی اور حکمت سے گزار دیے اب وہ دوبارہ آزاد ہو کہ آسمان کی طرف اڑان بھر رہا تھا۔ طریقہ اسے یاد تھا، لائن میں لگ گیا، اپنا نمبر آنے پہ ہاتھ باندھنے بھگوان کے اگے، اس مرتبہ فقط ایک کمزور سی فائل حساب کتاب دیکھ کے اچھے رکارڈ کی بنیاد پر بھگوان نے انسان بنے پہ ٹھپا لگا دیا۔

ٹھپا لگنے پہ فرعون نے ایک سوال کیا جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں؟
آج بھگوان کو موڈ اچھا تھا کہا بول مورکھ۔
آپ نے وعدہ کیا تھا اگلے چکر میں بادشاہ بنا دوں گا؟
کیا میں دوبارہ فرعون بن جاؤں گا؟
سوال پہ بڑے، چھوٹے سارے کی بھگوان قہقہے لگانے لگے۔
او عقل کے دشمن اب فرعون صرف اہرام مصر میں ہیں۔
ہم تجھے عہد حاضر کا بادشاہ بنا کے بھج رہے ہیں۔
چل اب تیرا وقت ہو گیا۔ Next

فرعون بادشاہ بننے کے خواب کے ساتھ انسان کے روپ میں پیدا ہوا۔ جام چاکرو نامی ایک پسماندہ اور چھوٹے سے قصبے کے سرکاری اسکول کے ہیڈ ماسٹر کے گھر میں، جہاں وہ ڈنڈے سے پٹ کے جوان ہوا اور اس کے باپ نے اسے اپنی جگہ ہی بھرتی کروا دیا۔

آج اس کی نوکری کا پہلا دن تھا۔ ہیڈ ماسٹر نے تھوڑی بہت ہدایت دی اور کہا، سر آپ بادشاہ ہیں، یہ اسکول آپ کی سلطنت، آپ کو اسے چلانا ہے، ہم ہفتے میں ایک بار آتے ہیں آگے سب آپ کا۔

اچانک اس کے کان میں بھگوان بولے بن گیا بادشاہ اب مزے کر۔

فرعون کی یہ منزل نہ تھی تو اس کی زندگی کا پہلا کامیاب دن تھا۔ وہ تیزی سے ترقی کر رہا تھا، اپنا ایک پرائیویٹ اسکول کھولا جہاں وہ تکبر اور نخوت کی چلتی پھرتی تصویر تھا، وہ اسکول کے دروازے پہ اتنے زور سے چیختا کہ اسکول کے آخری کونے تک آواز جاتی۔ اسکول کی عمارت کے دروازے پہ اس کا بڑا سا مجسمہ آویزاں تھا۔ اسکول کے نام کے ساتھ اس کی فوٹو، اندر کے کمروں میں بھی ہر جگہ اس کے ہی کوئی نا کوئی بات تصویریں اور تمغے آویزاں۔ گویا اس تعلیمی ادارے میں ہر جگہ وہی تھا۔

اسکول میں موجود ایک ایک شخص اس کے نام سے بھی لرز اٹھتا۔ اس کے پاس ہر لیول کی سزا تھی، وہ جانتا تھا کب کسے کیسے ذلیل کرنا ہے۔

لیکن کچھ عرصے سے اس کے کاروبار میں برکت نہ رہی اچانک ڈیزائنر اسکولوں کا چلن چل پڑا۔

اسکول میں داخل بچے نام کٹوا کر جدید اسکول میں بھرتی ہونے لگے، ابھی فرعون اس جنگ میں ہی الجھا ہوا تھا کہ اچانک سے ساری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں آ گئی۔

وہ اب پچھتر سال کا ہو چکا تھا بادشاہی کے پچاس سال کے بعد وہ دہرے صدموں میں تھا۔
وہ صبح اٹھ کے اسکول کی خالی عمارت میں جا کر بیٹھ جاتا۔

اس آنکھوں کے سامنے ماضی کی بادشاہت کے دور کے مناظر گھومتے وہ خالی اسکول کی عمارت میں زور زور سے چیختا چلاتا پھر اس کو اپنی ہی آواز گھوم کر جب سنائی دیتی تو وہ ہسنے لگتا۔ اس کے قہقہوں سے عمارت جیسے کانپ جاتی۔

لاک ڈاؤن کے تیسرے مہینے ہی وہ مکمل طور پر ذہنی توازن کھو چکا تھا۔
آج کل وہ سڑکوں پہ یہاں وہاں پھٹے حالوں پھرتا ہے۔
اور سب سے کہتا ہے پہچانا میں کون ہوں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply