اعتماد کا ووٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان کی اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف فوری اور جوابی حکمت عملی کامیاب رہی۔ وہ ایک بار پھر مشکل حالات میں قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ وزیر اعظم کو 172 ووٹ درکار تھے مگر ان کو 178 ووٹ ملے جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب بھی قومی اسمبلی میں اپنی سیاسی برتری رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم کی اس کامیاب حکمت عملی نے ان کے سیاسی مخالفین کو کافی مایوس کیا جو فوری طور پر ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

پی ڈی ایم کا بیانیہ تھا کہ حفیظ شیخ کی سینٹ میں ناکامی اور یوسف رضا گیلانی کی جیت کے بعد وزیر اعظم قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ کھوچکے ہیں۔ پی ڈی ایم کے لیے بھی وزیر اعظم کی جانب سے ایک بڑی سیاسی شکست کے بعد اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ غیر متوقع تھا۔ پی ڈی ایم کا خیال تھا کہ وزیر اعظم دباو میں ہوں گے اور کسی ایسی سیاسی مہم جوئی سے گریز کریں گے جو ان کے لیے کوئی بڑی مشکل کو پیدا کرے۔

لیکن وزیر اعظم عمران خان کو بخوبی اندازہ تھا کہ اگر وہ پی ڈی ایم کی سیاسی وکٹ اور دباو کی کیفیت میں کھیلیں گے تو پی ڈی ایم ان پر نہ صرف سیاسی برتری حاصل کرے گا بلکہ مستقل ان کو دباو میں سیاست میں رکھے گا۔ یہ صورت حکومت اور خود وزیر اعظم کے لیے مستقل سیاسی مشکل کو قائم رکھے گا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم کو دفاعی حکمت عملی کی بجائے جارحانہ سیاسی حکمت کا ہی سیاسی کارڈ کھیلنا پڑا جو چیلنج ضرور تھا مگر ان کو یہ یقین تھا کہ اگر وہ کامیاب ہوئے تو جارحانہ حکمت عملی ہی کارگر ہو سکے گی۔ اس حکمت عملی کے تحت وزیر اعظم کو اپنے خلاف فوری طور پر جس بڑے بحران یا ان ہاؤس تبدیلی کا خطرہ تھا وہ ٹل گیا ہے۔ پی ڈی ایم کو اب وزیر اعظم کے خلاف کوئی نیا سیاسی کارڈ کھیلنا ہوگا کیونکہ اعتماد کا ووٹ حاصل کر کے وزیر اعظم نے پی ڈی ایم کو ہی دفاعی پوزیشن پر کھڑا کر دیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے اس خصوصی اجلاس میں جہاں وزیر اعظم نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا تھا پی ڈی ایم نے اس اجلاس کا بایکاٹ کر کے حکومت کی مشکل کو کچھ آسان بھی کر دیا تھا۔ حالانکہ اگر پی ڈی ایم کا نکتہ نظر یہ تھا کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی سے اعتماد کھوچکے ہیں تو ان کو اس محاذ پر براہ راست میدان میں اتر کر ایک بڑی سیاسی لڑائی لڑنی چاہیے تھی تاکہ وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ حاصل نہ کرپاتے۔ لیکن پی ڈی ایم کو بھی اس بات کا اندازہ تھا کہ وزیر اعظم کو پارلیمنٹ کے اندر سے گرانا آسان کام نہیں ہوگا۔

یہ ہی وجہ ہے کہ انہوں نے فوری طو رپر میدان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں لوگوں نے سینٹ کی ایک نشست پر شکست اور وزیر اعظم کے خلاف قومی اسمبلی سے عدم اعتماد کے درمیان فرق کو سمجھنے میں غلطی کی تھی۔ یہ دو مختلف چیزیں ہیں اور دونوں کے سیاسی محرکات ایک دوسرے سے بہت زیادہ مختلف بھی ہوتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پی ڈی ایم کی وزیر اعظم کی جانب سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد کیا سیاسی حکمت عملی سامنے آتی ہے۔ پی ڈی ایم کی جانب سے وزیر اعظم سے مستعفی ہونے یا نئے انتخابات کا مطالبہ کس حد تک کارگر ثابت ہو سکے گا۔ ویسے پی ڈی ایم میں مسلم لیگ نون اور جے یو آئی کے مقابلے میں پیپلز پارٹی نہ تو فوری طو رپر اسمبلیوں کی تحلیل چاہتی ہیں اور نہ ہی حکومت کا خاتمہ یا نئے انتخابات اس کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

پیپلز پارٹی سندھ کے اقتدار کا اہم حصہ ہے اور وہ بخوبی جانتی ہے کہ اگر مرکز کی سیاست کو کچھ ہوا تو اس کا براہ راست اثر ان کی صوبائی حکومت یا اقتدار پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ نون میں بھی ایک گروپ موجود ہے جو سمجھتا ہے کہ حکومت کو گھر بھیجنے کی بجائے سیاسی عمل کو جاری رکھنے میں ہی اس کا مفاد ہے۔ اس لیے اب پی ڈی ایم کی سیاست خود ان کے لیے بھی ایک چیلنج بن گئی ہے کہ وہ کیسے عمران خان کی حکومت کو گھر بھیج سکیں گے۔ کیونکہ یہ جو منطق دی جا رہی تھی کہ یوسف رضا گیلانی کی جیت کے فوری بعد وزیر اعظم کو پی ڈی ایم عدم اعتماد سے گھربھیج سکے گی، فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔

سینٹ کی اسلام آباد کی نشست پر حکومتی شکست اور فوری طور پر اعتماد کے ووٹ کے باوجود وزیر اعظم عمران خان کے لیے بھی کچھ نئے سبق موجود ہیں۔ اول ان کو ہر صورت میں اگر اپنا اقتدار برقرار رکھنا ہے تو ان کو اپنی جماعت کے ارکان اسمبلی سمیت اپنی اتحادی جماعتوں کو ہر سطح پر اعتماد میں لے کر آگے بڑھنا ہوگا۔ کیونکہ جو مسائل سامنے آئے ہیں ان کی ایک بڑی وجہ پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے درمیان داخلی بحران ہے اور اس میں ایک بڑا قصور خود وزیر اعظم کا بھی ہے۔

دوئم وزیر اعظم کو سمجھنا ہوگا کہ اعتماد کے ووٹ کے باوجود حکومت کے خلاف ان کے سیاسی مخالفین کا کھیل ختم نہیں ہوا۔ پی ڈی ایم ہر صورت میں ان پر اپنا دباو جاری رکھے گی اور وزیر اعظم کو اپنے مخالفین کی سیاسی حکمت عملی کا جواب بھی جارحانہ سیاسی حکمت عملی سے ہی دینا ہوگا۔ سوئم وزیر اعظم کو اپنی ٹیم کی سطح پر بھی بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی یہ ٹیم اور اس میں کچھ لوگ ان کی مشکلات کو کم کرنے کی بجائے اس میں اضافہ کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

حکومت یا پی ڈی ایم کے درمیان نیا محاذ یا چیلنج سینٹ کے چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کے انتخاب کا ہے۔ وزیراعظم نے موجودہ چیرمین سینٹ صادق سنجرانی کو دوبارہ سینٹ کے چیرمین کے طو رپر نامزد کر کے درست فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ موجودہ صورتحال میں بلوچستان سے ہی چیرمین سینٹ کا ہونا درست حکمت عملی ہوگی۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ پی ڈی ایم اس تناظر میں کیا حتمی فیصلہ کرتی ہے۔ کیونکہ آصف زرداری کی خواہش یہ ہی ہوگی کہ چیرمین سینٹ ان ہی کی جماعت کا ہو۔

لیکن کیا آصف زرداری کا سیاسی جادو چیرمین سینٹ کے انتخاب میں بھی کارگر ثابت ہوگا اس پر کچھ کہنا قبل ازقت ہوگا۔ لیکن حکومت کی کوشش ہوگی کہ سینٹ میں ان کا اور ان کی اتحادی جماعتوں کا چیرمین سینٹ ہونا چاہیے۔ کیونکہ حکومت چاہتی ہے کہ وہ سینٹ میں اپنی سیاسی برتری کی بنیاد پر اپنی مرضی کی قانون سازی کو یقینی بناسکے۔ اگر چیرمین سینٹ پی ڈی ایم سے ہوگا تو حکومتی ایجنڈا یقینی طور پر متاثر ہوگا۔

یہ بات بھی نظر آ رہی ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان تعلقات کی بہتری کا سوال بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ بداعتماد ی کی صورتحال میں اور زیادہ اضافہ ہوگا جو بڑی محاذ آرائی کی کیفیت کو آگے بڑھائے گا۔ البتہ ملک میں نئے انتخابات کی آوازں میں زیادہ شدت دیکھنے کو ملے گی اور حکومت پر بھی اس کا دباو بڑھے گا۔ لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب پی ڈی ایم کی تحریک کوئی بڑی سیاسی تحریک کا منظر نامہ پیش کرسکے گی۔ کیونکہ ابھی تک یہ تحریک عوامی تحریک کا منظر نہیں پیش کرسکی ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ اس اتحاد میں موجود سیاسی جماعتوں کے اپنے داخلی سیاسی حکمت عملیوں کے تضادات ہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ پی ڈی ایم وزیر اعظم کی طرف سے اعتماد کے ووٹ کے بعد ایسی کیا سیاسی حکمت عملی اختیار کرتی ہے جو وزیر اعظم یا حکومت کو دوبارہ کسی بڑے دباو میں سیاست میں لاسکے، کیونکہ وزیر اعظم خود بھی اور حکومت کو بھی بڑے دباو سے نکالنے میں کچھ بڑے فیصلے کرنے والے ہیں۔ دیکھناہوگا کہ یہ بڑے فیصلے کیسے ان کو ایک بڑے دباو کی سیاست سے باہر نکلنے میں مدد دے سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply