جاوید احمد ملک کی کتاب: اساتذہ، بیوروکریسی اور سیاستدان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہا جاتا ہے کہ بہترین معاشرہ تشکیل دینے کے لیے بہترین نظام تعلیم ضروری ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی سماج کا نظام تعلیم اس کے مجموعی ثقافتی معیار سے مشروط ہوتا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام اور تعلیمی فکر دونوں کئی عشروں سے سماجی و فکری جدلیاتی عذاب میں مبتلا ہیں۔ یہاں سیاسی ہنر مندوں کا ہنر یہ رہا ہے کہ اول تو سرے سے تعلیم ہی نہ ہو، اور اگر تعلیمی درسگاہیں موجود ہوں تو وہ اساتذہ سے خالی رہیں۔ اگر تعلیمی عمارت اور معلم دونوں فراہم ہو چکے ہوں تو ایسے نصاب کی داغ بیل ڈالی جائے جو اطلاع تو فراہم کرتا ہے، لیکن کردار سازی نہ کر پاتا، جو ڈگری تو عطا کرتا ہے لیکن روزگار چھین لیتا ہے۔

ایسا نصاب جو خیالی اخلاقیات کا درس تو دیتا ہے لیکن مروجہ زندگی سے کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔ ماہرین تعلیم کا خیال ہے کہ اب تو ہمارا نظام تعلیم لارڈ میکالے کے تشکیل دیے ہوئے طرز عمل پر بھی گامزن نہیں رہا۔ آج ہمارا طالبعلم اپنی تاریخ، اپنے ادب اور اپنے اجتماعی لاشعور سے کٹا ہوا ہے اس لیے کتاب کو ایک زندہ لاش تصور کرتا ہے۔ وہ کتاب خواں ہے، صاحب کتاب نہیں۔ اس کی تخلیق، تحقیق اور تشکیک کا راستہ روک دیا گیا ہے۔

ہماری تعلیم، تصورات، خیالات، معلومات، زبانوں اور الفاظ کی افراتفری کا شکار ہے۔ اس مبہم صورتحال نے ہماری تعلیم و تدریس کو صراط مستقیم کی سعی لاحاصل بنا دیا ہے۔ گزشتہ چند عشروں سے ہمارا معاشرہ اور اس کی تہذیبی قوتیں نسل نو کے تخلیقی جوہر کی اکائی نہیں بن رہے، پھر بھی ہمارے ہاں کچھ دیوانے ایسی تبدیلیوں کے خواہشمند رہے ہیں جن سے ہم منجمد نظام خیال کو حرکت کے خیال سے روشناس کرا سکیں۔ تقسیم ہند سے پہلے سرسیداحمدخاں اور مولانا الطاف حسین حالی ؔ نے ہمارے نظام خیال میں حرکت عمل ضرور پیدا کی لیکن آج تو وہ بھی لگ بھگ دو صدیاں پرانی ہو کر فرسودہ ہو چکی ہے۔

سماجی ترقی کے لیے معاشرے کے احوال سے آگاہی اور اسے تعلیم کے عمل سے مربوط کرنا ہی زندہ اقوام کا وتیرہ رہا ہے۔ فکر و عمل میں اصلاح و تجدید اور نظام تعلیم و تدریس میں اصلاحات کا سارا عمل بنیادی طور پر کتاب سے بندھا ہے۔ لہٰذا جس سماج میں اچھی اور معیاری کتابیں لکھی جا رہی ہوں گی وہاں ہی معیار تعلیم میں بہتری کی امید زندہ رہ سکتی ہے۔ کتاب محض کاغذ پر چھپی ہوئی تحریر کا نام نہیں، یہ زندگی کے حقائق کو جاننے اور اس جانکاری کو دوسروں تک پہنچانے کا نام ہے تاکہ اس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے۔ ہماری تعلیمی و تدریسی پستی کی نوحہ خوانی کے ان دنوں میں خوش قسمتی سے مجھے کتاب دوست برادرم کاشف منظور کی جانب سے جاوید احمد ملک کی لکھی، دیدہ زیب اور فکر انگیز کتاب ” اساتذہ، بیوروکریسی، اور سیاستدان“ موصول ہوئی۔ کتاب پنجاب کے 54000 سرکاری سکولوں میں تعلیمی انقلاب برپا کرنے کی دلیرانہ کاوشوں، کامیابیوں اور ناکامیوں کا احوال ہے، جس میں یہ تجاویز بھی شامل ہیں کہ اگلے دس سالوں میں ہم پاکستانی سرکاری سکولوں کو کیسے عالمی معیار پر لے جا سکتے ہیں۔ کتاب کی اشاعت اور پیشکش گگن شاہد اور امر شاہد کے جمالیاتی ذوق کی آئینہ دار ہے۔ یہ کتاب معیاری آرٹ پیپر پر دلکش صورت کے ساتھ بک کارنر جہلم نے شائع کی ہے۔

تزئین و زیبائش سے آراستہ 200 صفحات پر مشتمل اس کتاب کا انتساب ”ان اساتذہ، افسران اور سیاستدانوں کے نام ہے جو ایک پر امید مسکراہٹ کے ساتھ تعلیم میں انقلابی تبدیلی کے لیے عملی طور پر کمربستہ ہیں اور برسوں مسلسل محنت کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ کتاب کا آغاز 09 صفحات پر مشتمل جاندار مقدمہ سے ہوتا ہے جس میں مصنف نے وہ وجوہات بھی بیان کی ہیں جن کی وجہ سے انہیں یہ کتاب رقم کرنا پڑی۔ اس کے بعد کتاب 09 ابواب پر مشتمل ہے جن کے عنوانات ہی کتاب کی اہمیت کو بہت حد تک عیاں کر دیتے ہیں۔

1۔ تعلیمی اصلاحات اور اساتذہ کی ناراضی کی وجوہات۔ 2۔ تعلیمی اصلاحات کے بارے میں رائج غلط فہمیاں اور مغالطے۔ 3۔ پاکستانی نظام تعلیم کے تین بنیادی مسائل۔ 4۔ تعلیمی معیار، جانچ اور عمل درآمد کے مسائل۔ 5۔ تعلیم کے انتظامی امور۔ 6۔ تعلیم اور مجموعی قومی ترقی۔ 7۔ نجی شعبہ اور تعلیم۔ 8۔ جدید تعلیمی اصلاحات کا ایک جائزہ۔ 9۔ آگے کاسفر : چند پالیسی معروضات و سفارشات

کتاب کے مصنف جاوید احمد ملک بین الاقوامی ترقی کے ایک ماہر پالیسی ساز ہیں جو سماجی اور تعلیمی اصلاحات کی پالیسیوں کا بیس سالہ وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ صوبہ پنجاب کے تعلیمی اصلاحات کے پروگرام کا 2009 ء سے 2018 ء تک حصہ رہے اور اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب کے پنجاب ایجوکیش سیکٹر ریفارم کے مشیر تعلیم تھے۔ جہاں انہیں براہ راست صوبائی سیاسی قیادت اور اعلیٰ افسر شاہی کے ساتھ اشتراک کار کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ماہرین کا قدم بقدم ساتھ رہا۔

انہوں نے برطانیہ کے بین الاقوامی ترقی کے ادارے DFID کے لیے پنجاب کے 54000 سکولوں کے 450 ملین پاونڈ کے اصلاحاتی پروگرام کے ڈیزائن اور عملدرآمد پر بڑی محبت و محنت سے کام کی قیادت کی۔ یہ اس وقت دنیا بھر میں ڈی ایف آئی ڈی کا سب سے بڑا پروگرام تھا۔ وہ اس حوالے کئی اور کام بھی کر چکے ہیں اور یونیورسٹی آف باتھ انگلینڈ کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی ریسرچ میں ڈاکٹریٹ فیلو بھی ہیں۔ وہ بین الاقوامی ادارے ڈیموکریسی رپورٹنگ انٹرنیشنل پاکستان کے سربراہ ہیں۔

ہمارے اردو داں حلقوں کے لیے پبلک پالیسی اور ریفارم ایڈمنسٹریشن کے خشک تحقیقی موضوع پر جاوید احمد ملک کی کتاب اس تناظر میں برشگال کی حیثیت رکھتی ہے۔ عام طور پر عالمی اداروں کے ساتھ کام کرنے والے انہی کے لیے انگریزی زبان میں ہی لکھتے ہیں۔ لیکن اس کتاب کو اردو میں لکھ اور پیش کر کے مصنف نے دردمندی سے حب الوطنی کے تقاضوں کو پورا کیا ہے۔ یہ جس پر وہ قلبی تحسین کے مستحق ہیں۔ اس کتاب نے پاکستان میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص تعلیمی نظام کی اہم تکون اساتذہ، بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے درمیان فہم کے نئے در وا کیے ہیں۔

تعلیمی نظام کی اس سنہری تکوں کے درمیان تشکیک کے خاتمے اور ہم آہنگی کے لیے یہ کتاب کلیدی کردار ادا کرے گی۔ جاوید احمد ملک ان ارباب فکر و دانش میں شامل ہیں جو اپنے تجربے اور علم و بصیرت کے لحاظ سے قوم کی تعلیمی ضروریات کا صحیح تعین کر سکتے ہیں اور تعلیمی مسائل کا مناسب حل دریافت کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ قوم کے لیے خوش بختی کی بات ہے کہ ایسے لوگ دفاتر کے روایتی ماحول سے نکل کر پوری دردمندی سے غور و فکر کا فریضہ انجام دینے لگے ہیں۔

سب سے اہم اور جراتمندانہ بات یہ ہے انہوں نے قومی رابطے کی قومی زبان اردو میں لکھنے اور چھاپنے کی ہمت و جسارت کی ہے اور تدریس کے لیے بھی قومی زبان اردو کے فروغ کی تجویز بھی دے رہے ہیں۔ پاکستان کی انگریزی سے مرعوب اشرافیہ کے ساتھ کام کرنے کے باوجود ان کی یہ تجویز انقلابی ہے۔ بلاشبہ جس نسل کی اپنی کوئی زبان نہ ہو، وہ تعلیمیافتہ کہلانے کی مستحق کیسے ہو سکتی ہے؟ ہمارا نظام تعلیم نوے فیصد طلباء کو گونگا پیدا کرتا ہے اس لیے وہ ساری عمر اظہار کے کرب میں گزارتے ہیں۔ ہم پر مسلط سیاسی و انتظامی اشرافیہ کو اردو سے کوئی لگاؤ اور محبت نہیں ہے اور نہ ماہرین لسانیات نے اردو کے اسالیب اور اس کے ادبی ارتقاء کو تدوین نصاب کا مقصود بنانے کی طرف کوئی توجہ دی ہے۔ حکمرانوں کے لگاؤ اور ماہرین اردو کی سنجیدہ سعی کے بغیر یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

اس کتاب کا حرف حرف اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ جاوید احمد ملک نے تعلیمی اصلاحات کا کام محض اپنی پیشہ وارانہ ضرورتوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اپنے خاندانی اور علاقائی تعلیمی تجربات کی روشنی میں اس کام کو تعلیمی پسماندگی کے مرض کی تشخیص کے جذبے کے ساتھ کیا اور بڑی نیک نیتی سے عالمی وسائل کو زمینی حقائق کے ادراک کا ذریعہ بنایا ہے۔ ان کے مشاہدات اور اخذ کردہ نتائج حقیقت کے بہت قریب ہیں۔ ریاضت کے اس ثمر کو انہوں نے سلیس و رواں اسلوب تحریر سے قوم کی آواز بنا دیا ہے۔

ہمارے ہاں تعلیمی کوششیں اس لیے بھی ناکام ہوئیں کہ ہم نے تعلیم کو معاشرے سے الگ تھلگ ایک سرگرمی خیال کیا اور ہمارے ماہرین تعلیم نے سماج کی حقیقی صورتحال کو ہمیشہ اپنے دائرہ کار سے باہر سمجھا، نتیجہ یہ نکلا کہ نہ تعلیم معاشرے سے مربوط ہوئی اور نہ معاشرہ تعلیم سے منسوب ہوا۔ حالانکہ سب بخوبی جانتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا اہم راز ہی یہ ہے کہ انہوں نے تعلیم اور معاشرے کے باہمی تعلق کو پا لیا اور اس عرفان سے بھرپور استفادہ کیا۔ جاوید احمد ملک کی تحریر میں اس عرفان کے گیان کی جھلک عیاں ہے جس سے قوم، حکمران، پالیسی ساز، اساتذہ اور طالبعلم سب مستفید ہو سکتے ہیں۔

اس کتاب کے مطالعہ سے میرا احساس مزید پختہ ہوا کہ ہمارے پالیسی سازوں میں نوکرشاہی کی حاکمیت اور حکمران طبقے کی تحکمانہ سوچ تو غالب ہے لیکن تعلیمی نظام کی تشکیل و ترتیب میں ماہرین تعلیم کو شامل کرنے کا شعوری گریز نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ تعلیم کے منتظم لازماً تعلیم کے ماہر نہیں ہوتے۔ تعلیمی اصلاحات کے عمل میں ہمیں سکول ایجوکیشن کے سی ای اوز، ڈائریکٹرز، محکمہ تعلیم کے سیکرٹریان، مشیران، من پسند معاونین، غیرملکی مددکار، نہ جانے کون کون شامل نظر آتا ہے لیکن نہیں ہوتا تو ماہر تعلیم نہیں ہوتا۔

منتظم تعلیم کے برعکس ماہر تعلیم وہ شخص ہوتا ہے جو جس سماج میں اپنا فرض انجام دے رہا ہو، اس کے بہترین علمی، ثقافتی، اور روحانی ورثے کا امین ہو۔ تعلیمی نظام مرتب کرنا گویا فلسفے کا ایک نظام مرتب کرنا ہوتا ہے۔ یہ کام اصل میں زندگی کو سمجھنے، زندگی کو بنانے، اور زندگی کو گزارنے کا ایک جامع پروگرام تشکیل دینا ہوتا ہے لہٰذا اس کی ترتیب و تہذیب کے لیے تخلیقی غور و فکر کے حامل ماہرین تعلیم کا شامل ہونا لازم ہے۔

ماہر تعلیم دیہاڑی دار نہیں ہوتا، علم و تعلیم سے اس کا ناتا زندگی بھر کا ہوتا ہے۔ ہمارے تعلیمی پالیسی سازوں نے ماہرین تعلیم کے لیے دروازے ہمیشہ بند رکھے ہیں۔ یہ سارا کام تعلیمی منتظمین کے ہاتھوں میں ہے اس لیے انتظامیہ بدلنے کے ساتھ تعلیمی نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔ جدید تعلیمی اصلاحات کے بعد بھی ہمارا تعلیمی نظام بعض اوقات تھوڑا بہت علم بھی دیتا ہے اور کافی حد تک پیشہ وارانہ مہارت بھی، لیکن نہیں دیتا تو طالبعلم کو اس کا ذاتی اور قومی تشخص نہیں دیتا۔ یہ کتاب پڑھکر یہ احساس کو اجاگر ہوتا ہے کہ ہم نے تعلیمی نظام کو ہمیشہ عارضی بندوبست اور وقتی فائدوں کی بھینٹ چھائے رکھا ہے۔

جاوید احمد ملک نے اس کتاب میں بجا طور پر پہلے باب میں اساتذہ کی ناراضی کا تذکرہ منطقی انداز میں کیا ہے۔ بے شک اچھی اور معیاری تعلیم و تدریس کی اولین شرط یہی ہے کہ استاد مطمئن ہو اور اس کی عزت نفس محفوظ ہو۔ تعلیم محض نصابی کتب پڑھانے اور طالبعلموں کے ذہنوں میں بعض معلومات جاگزیں کرنے کا نام نہیں۔ تعلیم دراصل ایک تخلیقی عمل ہے جس میں استاد کی شخصیت، اس کا وقار، اس کی علمیت، اور اس کا اپنے پیشے سے آزادانہ شغف مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔

تدریس کا عمل عزت نفس، وقار اور ایک خاص احساس تفاخر کے بغیر ممکن نہیں۔ استاد کا کام تدریسی مشقت نہیں بلکہ وہ فکر کی نئی راہیں تراشتا ہے اور اس کے بغیر تدریس مہمل ہو جاتی ہے۔ اس کتاب کی ورق گردانی سے یہ تو معلوم ہوا کہ تعلیم و تدریس کے نظام کے ارباب اختیار کے اندر یہ احساس بیدار ہے کہ تعلیم کے معیار کو بلند اور بہتر کرنا ہے تاہم روایتی اختیار کا خمار انہے اساتذہ، والدین اور طلبہ کو اس اصلاحاتی نظام سے دور رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ خوش آئند بات ہے کہ ان اصلاحاتی پروگراموں سے اس دور کے اساتذہ کی تنخواہوں کے سکیل تو بہتر ہوئے ہیں مگر مجموعی طور پر اساتذہ کے رویوں میں کوئی خوشگوار فرق رونما نہیں ہو سکا۔ شاید اس لیے کہ ہمارے نظام تعلیم میں قابل اور تخلیقی و تحقیقی جوہر کے حامل استاد کی حوصلہ افزائی کے اصول نمایاں نہیں۔

اس کتاب کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ تعلیمی نظام کی نوحہ خوانی کی بجائے یہ رجائیت کو فروغ دیتی ہے۔ مصنف اس بات کا اظہار بڑے فخر سے کرتا ہے کہ اصل اور حقیقی تعلیمی انقلاب ابھی ذرا دور ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے نظام میں ہمارے جیسے دیگر ممالک کے مقابلے میں بے زیادہ مثبت عناصر جمع ہو گئے ہیں ان کے حاصلات کے طور پر تعلیم کے شعبے میں ایک بہتر انداز حکمرانی یعنی گڈ گورننس حقیقی صورت میں ہم ایک آدھ عشرے میں ہی دیکھ لیں گے اگر ہم یکسوئی سے عمل پیرا رہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنے تعلیمی انتظامی ڈھانچے میں تیز رفتار ادارہ جاتی تبدیلیاں کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے سرکاری سکولوں کو محض دس برس سے کم عرصہ میں ایسی بہتر صورت میں لا سکتے ہیں جہاں وہ مہنگے پرائیویٹ سکولوں کو ایک مشکل مقابلے سے دوچار کر دیں۔

طویل المدت تبدیلیاں لانے کے لیے یہ کتاب صوبائی تعلیمی انداز حکمرانی میں چار بنیادی شرائط تجویز کرتی ہے۔ 1۔ تعلیم کے ڈیڑھ سو سالہ صوبائی انتظامی ڈھانچے کو یکسر تبدیل کر کے اس کو جدید پیشہ وارانہ بنیادوں پر کھڑا کریں۔ 2۔ تعلیم کے لیے وزیراعلیٰ ہر دس ہفتوں کے بعد دو گھنٹوں کی ایسی میٹنگ کرے جس میں اہداف کی نگرانی اور جائزے کا عمل مسلسل ہو۔ یہ سلسلہ ایسا ہو کہ کسی طرح کی ہنگامی صورتحال میں بھی مؤخر یا ملتوی نہ ہو۔ 3۔ پالیسی ساز پرائیویٹ سکولوں سے مسابقت کے ہم پلہ واضح اہداف مقرر کریں۔ 4۔ ہمیں تعلیم کے لیے اردو زبان کو فروغ دینا ہوگا تاہم بین الاقوامی تقاضوں کی حامل انگریزی کی استعداد بھی لازمی ہو۔ نیز عقلی و سائنسی فکر کو عام کرنا ہوگا۔

اس کتاب ”اساتذہ، بیوروکریسی اور سیاستدان“ کے مطالعہ سے یہ آگاہی بھی ملتی ہے کہ عہد جدید میں تعلیم کا نظام دراصل اصلاح معاشرہ کا نظام ہے اور اسے موثر بنانے کے لیے ماہر تعلیم صرف ماہر تعلیم نہ ہو بلکہ سوشل ریفارمر یعنی سماجی مصلح بھی ہو۔ روح عصر سے ہم آہنگ نظام تعلیم سماج کے اصل احوال پر منطبق ہو کر ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔

مصنف جاوید احمد ملک کی یہ کتاب وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے عشروں کی محنت و کاوش اور کئی نسلوں کا تفکر و تدبر، کئی اقوام کے ماہرین کی دانش و بینش اور انتظامی حکمت و بصیرت نئی نسلوں تک منتقل ہوئی ہے۔ قوی امید واثق ہے کہ ہمارا سماج اور پنجاب ”اساتذہ، بیوروکریسی اور سیاستدان“ کے آئینے میں اپنے ماضی کو دیکھ کر اپنے مستقبل کی تعمیر کرسکے گا۔ آخر میں مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ کوئی بھی کتاب لکھنے کا عمل در حقیقت زندگی کو سمجھنے اور سنوارنے کا عمل ہوتا ہے۔ جاوید احمد ملک کی یہ کتاب بھی اس عمل کی قابل تحسین مثال ہے۔ جس پر وہ مبارکباد اور خراج تحسین کے حقدار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply