وہ پانچ نکات جو پدرسری نظام سمجھ نہیں پاتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پدرسری نظام کی کرامات کا نظارo ہم نے اوائل عمری ہی میں کر لیا۔ نہ صرف ہم نے بلکہ ہمارے ابا نے بھی، جنہوں نے ناصرف پدرسری نظام کی سفاکی کو پہچانا بلکہ اپنی اولاد کی نبض پہ بھی ہاتھ رکھتے ہوئے ہوا کا رخ بھی بھانپ لیا!

آج جی چاہتا ہے کہ لکھ ڈالوں کیسے ہمارے ابا نے اپنی بیٹی کی باغی طبعیت کی تشخیص کرتے ہوئے پدرسری نظام کا ساتھ دینے کی بجائے نظام میں ہی دراڑ ڈال دی۔

یقین جانیے اگر ہمارے ابا نے اپنے بیٹوں کو صنفی فرق کی وجہ سے ہم سے زیادہ چاہا ہوتا، اگر تعلیم، خوراک، کیریر اور تمام دوسری سہولیات میں بیٹوں اور ہم میں امتیاز روا رکھا ہوتا، ہماری خواہشات کا احترام نہ کیا ہوتا، ہمیں بلا وجہ روک ٹوک کا نشانہ بنایا ہوتا، ذہنی کچوکے دیے ہوتے، ہم پہ ہاتھ اٹھایا ہوتا، گالی گلوچ سے نوازا ہوتا، اپنی بے پایاں محبت اور شفقت سے محروم رکھا ہوتا، خاندان کے دوسرے مردوں کو ہم سے پوچھ گچھ کا حق دیا ہوتا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں اپنے جیسا انسان نہ سمجھا ہوتا تو یقین مانیے ہم گھر سے بھاگ جاتے… جی بالکل درست سنا آپ نے، ہم گھر سے فرار ہو جاتے!

ایسی ہی باغی طبعیت پائی تھی ہم نے اور نظام کے خلاف احتجاج کرنے کی ہمت بھی!

لیکن سب لڑکیاں تو اتنی خوش نصیب نہیں ہوا کرتی نا کہ ان کے ابا بیٹی نامی مخلوق کو زمانے کے چلن کے برعکس پرواز کے لئے پر عطا کر دیں!

ہر وقت طبعیت گری گری سی رہتی ہے!

سر میں درد ختم ہی نہیں ہوتا!

کچھ کھانے کو جی نہیں چاہتا!

دل زور زور سے دھڑکتا ہے!

نقاہت بہت ہے!

نیند ہی نہیں آتی!

بیٹھے بیٹھے چکرا کے گر جاتی ہوں!

کسی بھی چیز میں دل نہیں لگتا!

ہر دفعہ حمل تیسرے مہینے میں ہی گر جاتا ہے!

بانجھ پن کی بہت دوائیں کھائیں لیکن کچھ نہ ہوا!

پڑھائی کرتی ہوں لیکن کچھ بھی دماغ میں نہیں ٹکتا!

رونے کو جی چاہتا ہے!

یہ ہیں تکالیف کی ایک طویل فہرست کے ساتھ مضمحل، تھکی ماندی، چہرے پہ تھکاوٹ کے آثار لئے ہمارے معاشرے کی اکثریت عورتیں اور لڑکیاں!

ہم چونک جاتے ہیں جب نوے فیصد خواتین میں ان تکالیف کی وجوہات ہم ڈھونڈ نہیں پاتے۔ نظر آتا ہے تو بس وہ اضطراب اور بے چینی جس میں یہ سب عورتیں زندگی کے سفر میں سنگ و خشت سمیٹتے سمیٹتے ذہنی ہیجان کے ایک ایسے بھنور میں پھنسی نظر آتی ہیں جس کا پس منظر پدرسری معاشرے کی روایات اقدار اور رسم و رواج کا شکنجہ ہوا کرتا ہے۔

“ارے، سیکھ لے کچھ گھر داری، کیوں سسرال جا کے میرا چونڈا کٹوائے گی”

“جس وقت دیکھو، کدکڑے لگاتی پھرتی ہے۔ سمجھتی نہیں کہ وہ لڑکا تو نہیں جس وقت چاہے، گلی میں لونڈوں کے ساتھ نکل جائے”

“ارے یہاں بیٹھی کیا منہ بسور رہی ہے، باپ بھائی کو اٹھ کے پانی پلا اور پھر روٹی ڈال دے”

“اف پھر ایک اور لڑکی پیدا ہو گئی، کیا اچار ڈالوں گا میں ان کا؟”

“تم ہو ہی بانجھ! چڑیا کا بچہ تک نہیں پیدا کر سکتیں”

“یہ عورت تو ہے ہی بیماریوں کی پوٹ! ماں باپ کے گھر سے ہی یہ تحفے لے کر آئی ہے”

“تم نے بچہ خود ہی ضائع کروایا ہے”

“ مجھے وارث چاہیے! ویسے بھی ہمارے خاندان میں رواج ہے کہ پہلا بچہ لڑکا ہی ہوتا ہے”

“لڑکا تو بڑھاپے کا سہارا ہے سو اسے تعلیم دلوانا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن لڑکی … ارے اسے تو جہیز بھی دینا ہے سو اس کی تعلیم پہ خرچ کیوں کریں”

“ کیا کرے گی کالج جا کے؟ کیا بے نظیر بنے گی؟”

“اچھی عورت وہ ہے جو شوہر کی ہر پکار پہ لبیک کہے چاہے کتنی ہی تھکی ہاری کیوں نہ ہو”

“اچھی بہنیں وراثت میں حصہ نہیں لیا کرتیں۔ میکے کا دروازہ کھلا رکھنا ہے تو بھائیوں سے زمین جائیداد کا مطالبہ مت کرنا”

“بیگم، یہ آپ ہر وقت منہ سر لپیٹے کیوں پڑی رہتی ہیں۔ نہ گھر کی پرواہ، نہ بچوں کی فکر”

“ارے ان بہو رانی کو تو دیکھو، شام ڈھلتے ہی شوہر کے آنے سے پہلے ایسے بنتی سنورتی ہیں جیسے کوٹھے پہ بیٹھی ہیں اور تماشبین آنے کو ہیں”

“اے نوج، نہ شرم نہ حیا! گھر کنواری نندوں سے بھرا پڑا ہے اور ان کے کمرے سے کھلکھلاہٹوں کی آواز ہی بند نہیں ہوتی”

“ بہو اپنے کمرے سے فجر کے وقت باہر آ جایا کرو۔ یہی ہمارا رواج ہے”

طنزیہ فقرے، طعن وتشنیع، تنبیہ، لعنت وملامت، روک ٹوک اور بے وجہ پابندیاں!

یہ ہیں وہ تیر جو پدرسری معاشروں میں صنفی امتیاز کی چھتری تلے عورت نامی مخلوق سہتے سہتے روز جیتی اور روز مرتی ہے!

پدرسری نظام آج تک کچھ بنیادی نکات سمجھ ہی نہیں پایا۔

پہلا نکتہ یہ کہ عورت ومرد دو مخالف قوتوں کا نام نہیں۔ بنیادی جسمانی اعضا کا فرق ہر دو کی صلاحیتوں، قوت فیصلہ، سوچ، اختیار، حقوق اور مقام کا تعین نہیں کر سکتا۔

دوسرا نکتہ یہ کہ عورت محض جسم کا نام نہیں بلکہ ویسی ہی جیتی جاگتی امنگوں اور خواہشات بھری انسان ہے جیسا کہ مرد۔

تیسرا نکتہ یہ کہ ایک صنف کو طاقت کا مرکز اور دوسری صنف کو مطیع قرار دینا خلاف عقل ہے اور اس سے معاشرہ وہ ہدف حاصل نہیں کر سکتا جو انسان کو جنگلوں کے باسی سے مختلف بناتا ہے۔

چوتھا اور انتہائی اہم نکتہ یہ کہ معاشرے کی پچاس فیصد آبادی کو پیدائش کے وقت سے احساس دلا دینا کہ بائی ڈیفالٹ وہ اس مقام کی حامل نہیں جو دوسری صنف کو حاصل ہے، اس کے دل و دماغ میں ہیجان پیدا کر کے اسے کش مکش میں مبتلا کرتا ہے۔

پدرسری نظام سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتا کہ عورتیں اپنے باپ، بھائی، شوہر، اور معاشرے کے دوسرے فیصلہ ساز مردوں کے رویوں کی بدصورتی سہتے ہوئے بول نہیں پاتیں اور اپنی خواہش کا اظہار نہیں کر پاتیں۔ اس طرح سے یہ بدقسمت عورتیں دماغی ہیجان، اداسی، اضطراب، ناخوشی اور یاسیت کا شکار ہو کر طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو کرسسکتی ہوئی بے جان مورتوں میں بدل جاتی ہیں۔ ایسی چلتی پھرتی زندہ لاشیں جن کی روح اس نظام کے ہاتھوں گروی رکھی جا چکی ہوتی ہیں۔ عورت محض ایک جسم کا نام رہ جاتا ہے، ایک مجبور،مضمحل، اپنے بوجھ سے ہی بیزار اور بیمار جسم!

سوال یہ ہے کہ کیا کبھی کوئی مفلوج فرد ملک وقوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے ؟

اور اس سے بھی اہم ترین یہ کہ جس معاشرے کے افراد اس مفلوج عورت کی کوکھ سے جنم اورگود میں پرورش پاتے ہوئے ان ہیجانی کیفیات کا براہ راست شکار بنتے ہیں، کیا وہ افراد نارمل زندگی گزار سکیں گے؟ کیا وہ زندگی کی دوڑ میں وہ کچھ کر پائیں گے جو ملک وقوم کی تقدیر بدل دے!

صاحبان نکتہ دان، سمجھ لیجیے کہ یہ کتھا ہم نے کیوں لکھی اور کیا کہنے کی کوشش کی ہے ؟ بحثیت ڈاکٹر ہم ان تمام بیمار جسموں کو دیکھتے ہیں اور بحثیت ایک دردمند انسان ان کی روح کے داغ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں

ہر زخم کا نشان پدرسری روایات کے شکنجے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو عورت کے ذہن کو شاہ دولے کی آہنی ٹوپی پہناتے ہوئے اس کے جسم کو ایک ایسا لوتھڑا بنا دیتا ہے جس سے کوئی بھی خوشی اور سکون کشید نہیں کر سکتا۔

جی صحیح سنا آپ نے، کوئی بھی نہیں!

جبر واختیار سے جیتی گئی جنگ کے فاتحین بھی بے نیل مرام ہی رہا کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply