ہمیں عورت مارچ کی کیا ضرورت؟


ہمارے ہاں 8 مارچ آتے ہوئے دو فریقوں کی لڑائی شروع ہو جاتی ہے ایک جو اقلیت میں ہے اور عورت کے حق کے لئے آواز اٹھاتی ہے وہ الگ بات کہ عورتیں بھی ان کے ساتھ نہیں دیتی کیونکہ ان کی ذہن سازی پر اربوں روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ دوسرافریق جو اکثریت میں ہے وہ سمجھتے ہیں کہ عورتوں کا دن یہ غیر مسلمان ملکوں کی ایجاد ہے چونکہ ہم مسلمان ہیں عورتوں کے حقوق ہم سے بہتر کون دے سکتے ہیں۔ اور ان کی مثال یہ دیتے ہیں کہ عورت گھر میں محفوظ ہے، ماں کے پاؤں تلے جنت ہے، بہن اور بیوی کے لئے خرچہ پانی مرد کماکے دیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

لیکن جب زمین پر حقیقی نظر ڈالیں تو پاکستانی عورتیں تو کتوں سے بھی بدتر زندگیاں گزار رہی ہے۔ ان پر یہ الزام لگانا کہ یہ عورتیں سیکس کے لئے مارچ کرتی ہیں غلط ہے ان بیچاریوں کی اکثریت سیکس سے نابلد ہیں۔ گدھوں کی طرح کام کرتی ہیں گھروں میں۔ اوپر سے مار پیٹ اور گالیاں۔ 13 اور 12 سال کی عمر کے بچیوں کے ساتھ بابے شادی رچاتے ہیں۔ غیرت کے نام پر ان کا قتل کیا جاتا ہے۔ گھر میں بازار میں راستے میں دفتر میں کہیں بھی عورت مرد کی ہوس بھری نظروں سے محفوظ نہیں ہیں۔

ان کا مرد حضرات یہ تاویلیں پیش کرتے ہیں کہ عورتیں لباس ایسی پہنتی ہیں جو مرد کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اس لئے اگر عورت کا ر یپ بھی ہو جائے تو مرد کی بجائے عورت کو ہی مورود الزام گردانتے ہیں۔ لیکن مرد کے کرتوت، نظروں اور حرکتوں کو کبھی بھی دوش نہیں دیں گے۔ جب ایک عورت اپنی عزت و ناموس کی خاطر بولتی ہے یا عدالت یا پولیس سٹیشن چلی جاتی ہے اپنے ہق کے لئے تو ایسی عورت کو بھی فاحشہ کا خطاب مل جاتا ہے۔ اور ایسی خطاب دینے میں وہی عورتیں ہی سب سے پہلے صف میں کھڑی ہوجاتی ہیں جو خود گھروں میں قید ہوتی ہیں، ان حالات میں اگر عورتیں یہ مطالبہ کرتیں ہے کہ انہیں انسان تسلیم کیا جائے تو ہر با شعور کو اس مطالبے کا حامی ہونا چاہیے۔ یہاں عورت ہونا اتنا آسان کام نہیں کیونکہ یہاں نہ عورت اپنا فیصلہ کر سکتی ہے نہ اپنی مرضی سے گھر سے نکل سکتی ہے نہ اپنی مرضی سے جاب کر سکتی ہے نہ اپنی مرضی سے شادی کر سکتی ہے۔

ایسے حالات میں انسان دوست خواتین وحضرات کا فرض بنتا ہے کہ عورتوں کو اس گھٹن کی زندگی سے نجات کے لئے عملی کردار ادا کرے جس میں ضروری عورتوں کی تعلیم، روزگار پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اور جو بھی عمل عورتوں کی معاشی خود مختاری کے لئے ممکن ہو کرنا ہوگا۔

میری جسم میری مرضی، عورت کو جائیداد میں حق، عورت کو اپنی مرضی سے شادی، عورت کو تعلیم جیسے نعروں اور اس کو عملی بنانے کے لئے اقدامات وقت کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS