میاں نواز شریف: ایک لوہار کی
شاعری اور موسیقی میں اردو کی دو غزلیں کچھ وکھرا ذائقہ رکھتی ہیں۔ پہلی فیض کی یہ غزل ہے۔ ’مجھ سے پہلی سے محبت مرے محبوب نہ مانگ‘ ۔ اسے ملکہ ترنم نے کچھ ایسے گایا کہ داد میں فیض نے یہ غزل اسے ہی بخش دی۔ پھر تو فیض سے بھی اس غزل کو سننے کی فرمائش ملکہ ترنم والی غزل کہہ کر کی جاتی رہی۔ دوسری غزل سید زادے عدمؔ کی ہے۔ ’وہ باتیں تری وہ فسانے ترے‘ ۔ ملکہ پکھراج کی گائی اس غزل میں الفاظ خود بولنے لگتے ہیں۔ انور مسعود نے عدم کی اسی زمین میں دو مصرعوں میں ہماری تین عشروں کی پوری سیاسی کہانی لکھ ڈالی ہے۔ ان دو مصرعوں میں ہمارا پورا بجٹ ہے۔ پوری معیشت ہے اور پورے میاں نواز شریف۔
اللے تللے ادھارے ترے
بھلا کون قرضے اتارے ترے
کالم نگار ہارون الرشید کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اک زمانہ تک وہ عمران خان کو قوم کا نجات دہندہ سمجھتے رہے۔ ان کا کوئی کالم عمران خان کے ذکر سے خالی نہ ہوتا تھا۔ لیکن آپ ان کے قلم کی طاقت سے انکار نہیں کر سکتے۔ وہ نثر میں شاعری کرتے ہیں۔ انہیں قصیدہ لکھنا بھی آتا ہے۔ قصیدہ بھی ایسا کہ ان کے ممدوح کا جی چاہے کہ وہ ان کا منہ سچے موتیوں سے بھر دے۔ وہ ہجو بھی ایسی زہرناک لکھتے ہیں کہ ان کا شکار ان کی زبان گدی سے کھینچنے کو تیار ہو جائے۔
میاں نواز شریف کے بارے ہارون الرشید کا ایک جملہ یوں ہے۔ ”آدمی کو نواز شریف نہ بن جانا چاہیے“ ۔ ابھی میاں نواز شریف کی تصویر مکمل نہیں ہوئی۔ میاں نواز شریف کوئی مقرر نہیں۔ لیکن تقریر وہی جسے لوگ ذو ق و شوق سے سنیں۔ وہ جیسا بھی بولتے ہیں، پوری توجہ سے سنے جاتے ہیں۔ ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگا کر انہوں نے ملک بھر سے جمہوریت پسند دانشوروں کے دل جیت لئے ہیں۔ مخالفین ان پر چٹوں کی مدد سے تقریر کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ اس ایک جملے سے ان کی تصویر قدرے مکمل ہو گئی ہے۔ ”31 برسوں سے سیاست کرنے والے میاں نواز شریف اب بھی تقریری چٹوں پر چل رہے ہیں“ ۔ ان پر مالی کرپشن کے الزامات، عدالتوں میں ثابت ہوتے ہیں یا نہیں، ان کے مداح اسے کوئی جرم ہی نہیں سمجھتے۔ وہ اسے کاروبار کا ایک حصہ جانتے ہیں۔ وہ جو کچھ بھی ہیں، یہاں صرف انہی کا جادو چلتا ہے۔ جادو وہی جو سر چڑھ کر بولے۔ سنٹرل پنجاب کے وہی لیڈر ہیں۔ ہماری سیاست میں ایک لفظ این آر او کا بہت شور رہتا ہے۔
سیاستدانوں کے خلاف کرپشن کی مہم میں یہ لفظ بہت استعمال ہوتا ہے۔ ان دنوں یہ لفظ عمران خان کے منہ پر بھی چڑھا ہوا ہے۔ وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ میرے خلاف کمپین چلا کر میرے مخالف سیاستدان اپنے لئے این آر او مانگ رہے ہیں۔ ایک سوال ہے کہ سیاستدانوں کے این آر او کی آخر حقیقت کیا ہے؟ اختر شیرانی کے بیٹے مظہر محمود شیرانی کی اپنی کتاب ”بے نشانوں کے نشان“ میں لکھے اس واقعے سے بہت کچھ سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
انہی کے لفظوں میں ”کشمیر کی جنگ آزادی میں ایک رات ساٹھ ستر قبائلی مجاہدین نے پٹھانوں کی مخصوص قسم کھائی جو زن طلاق کہلواتی ہے کہ کل رات اگر پونچھ کو فتح نہ بھی کر سکے تو اس کے گیٹ کو آگ ضرور لگائیں گے۔ اس قسم کا صاف مطلب تھا کہ اگر ہم اپنی قسم پوری نہ کر سکے تو ہماری بیویوں کو طلاق ہے۔ بہرحال اگلے روز انہوں نے صبح سے شام تک بہتیری جان لڑائی مگر بے سود۔ سورج غروب ہونے کو آیا تو انہیں بھی اپنی قسم کی فکر ہوئی۔
شہر پونچھ کے پھاٹک کے قریب جھیوڑ کا جھونپڑا تھا۔ اس نے بھاڑ جھونکنے کے لئے سوکھی ٹہنیوں کا انبار جمع کر رکھا تھا۔ مجاہدین نے انہیں گھسیٹ کر پھاٹک کے قریب کیا اور آگ لگا دی۔ جھیوڑ کی بیوی نے بہتیری دہائی دی کہ ہم مسلمان ہیں، ہمارا نقصان کیوں کرتے ہو؟ ادھر سے جواب ملا۔ اوہ مائی! مسلمان ہیں تو کیا کریں، تم کو پتہ نہیں ادھر ہمارا زن طلاق ہوتا ہے۔ ان مجاہدین نے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر حساب لگایا تو پتہ چلا کہ ان زن طلاق کی قسم اٹھانے والوں میں ایک بھی شادی شدہ نہ تھا۔
جنرل پرویز مشرف کے زمانہ میں بینظیر بھٹو کے ساتھ سیاستدانوں کا معافی نامہ، این آر او ہوا۔ اس کے نتیجہ میں 4038 افراد کے خلاف کرپشن کے مقدمات ختم کر دیے گئے۔ اب یہ بات قابل غور ہے کہ ان میں شیطان صفت سیاستدان صرف 18 تھے۔ باقی 4020 لوگ کون تھے؟ کوئی نہیں جانتا۔ پھر جسٹس افتخار کا سووو موٹو جاگ پڑا۔ این آر او ختم کر دیا گیا۔ مگر ان ملزمان کا کیا بنا؟ اگر کوئی جانتا ہے تو کالم نگار کو بھی بتا دے۔ کالم نگار کے ارد گرد پھیلے لاعلمی کے سناٹے کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔
اگر یہ افراد بھی اسی ساتویں آسمان کے باسی ہیں جہاں پہنچتے ہوئے بہتوں کے پر جلنے لگتے ہیں تو جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ وزیر آباد اور ڈسکہ کے ضمنی انتخاب یہ تازہ خبر لائے ہیں کہ میاں نواز شریف کی مقبولیت بدستور قائم ہے۔ ڈسکہ میں رات بھر جو ہوتا رہا، وہ عمران خان کی بااصول شخصیت کے لئے مناسب نہیں۔ اس طرح وہ بھی ایک روایتی سیاستدان ثابت ہوئے۔ جو ہر جائز ناجائز طریقے سے اقتدار کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ ابھی تحریک انصاف وزیر آباد اور ڈسکہ کے معرکوں سے بھی نہیں سنبھل پائی تھی کہ یوسف رضا گیلانی کی اسلام آباد والی سیٹ سے کامیابی کا اعلان ہو گیا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کی سینٹ کے لئے سیٹ میں ممبران قومی اسمبلی ووٹر ہوتے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کا پیپلز پارٹی سے تعلق ہے۔ وہ اس الیکشن میں پی ڈی ایم کی ساری جماعتوں کے امیدوار تھے۔ ایک زرداری سب پر بھاری لکھنے والے گیلانی کی کامیابی زرداری کے پلڑے میں ڈال کر اسے کچھ اور بھاری کر رہے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے، یہاں بھی میاں نواز شریف کی مقبولیت ہی کام آئی ہے۔ سرمایہ کا ہماری سیاست میں بڑا عمل دخل سہی لیکن یہاں آئندہ انتخاب میں مسلم لیگ نون کے ٹکٹ کا وعدہ زیادہ کارگر ثابت ہوا ہے۔
تحریک انصاف کے چند ممبران قومی اسمبلی اس یقین دہانی پر یوسف رضا گیلانی کو ووٹ ڈال گئے ہیں کہ آئندہ الیکشن میں انہیں مسلم لیگ نون کا ٹکٹ مل جائے گا۔ یوسف رضاگیلانی کے ماموں مخدودم زادہ سید حسن محمود، میاں نواز شریف کو لوہار کہا کرتے تھے۔ ’سوسنار کی اورایک لوہار کی‘ والا محاورہ یہاں بالکل درست ثابت ہوا ہے۔


