تحریک اعتماد میں کامیابی: عمران خان کے لیے لمحہ فکریہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد سینٹ کی سیٹ پر حکومت کو 164 جب کہ اپوزیشن کو 169 ووٹ ملے۔ حکومت کی واضح شکست ہوئی یہ دوسری بات کہ ٹی وی چینل لین دین کی ویڈیوز اور آڈیوز دکھاتے رہے۔ شکست پھر شکست ہوتی ہے۔ آپ مانیں یا نہ مانیں۔ حکومت کی سبکی ہوئی، اپوزیشن کی جانب جیت کے شادیانے بجنا لازمی تھے، وہ بجنا شروع ہو گئے۔ جذبات میں شکست خورہ لوگ الزام لگاتے رہے، ان کا واویلا بنتا تھا۔ فتح مندوں کو کامیابی ہضم نہ ہوئی اور پیسے لینے کے الزامات کی ویڈیو اور آڈیو میں اپنی موجودگی کا برملا اقرار، نون لیگ کی نائب صدر نے بھی علانیہ جیت کی وجہ نون لیگ کے ٹکٹوں کو قرار دینا۔

یعنی جن پی ٹی آئی اراکین نے بغاوت کی انہیں آئندہ انتخابات میں نون لیگ کا ٹکٹ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی جس کی وجہ سے انہوں نے سینٹ میں یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا۔ ماہر قانون دان اعتزاز احسن نے اس عمل کو خلاف قانون قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے الیکشن کمیشن میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اب اپوزیشن نے آواز بلند کرنا شروع کی کہ وزیراعظم ایوان کا اعتماد کھو چکے، وزیراعظم نے اپنی شکست کے چند گھنٹے بعد ہی قوم سے خطاب کیا اور دیگر باتوں کے علاوہ ہفتہ 6 مارچ کی دوپہر کو قومی اسمبلی کا اجلاس میں اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کر دیا۔

اب اپوزیشن جو ایک دم فرنٹ فٹ پر آ چکی تھی اور تحریک انصاف بیک فٹ پر دکھائی دے رہی تھے ، دونوں جانب پوزیشنوں میں تبدیلی دیکھی گئی۔ اپوزیشن نے اعلان کیا کہ وزیراعظم عمران خان عہدہ چھوڑ دیں، نیز اپوزیشن نے قومی اسمبلی کے اجلاس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ اجلاس طلب کرنے کی آئینی مراحل کو پورا کیا گیا تھا۔ وزیراعظم نے ایوان سے اعتماد حاصل کرنا تھا، آئینی طور پر اس میں کورم کی قید نہیں ہوتی، اگر وزیراعظم پر عدم اعتماد کی تحریک اپوزیشن نے پیش کی ہوتی تو اسے حکومتی ارکان کی تعداد سے زیادہ اراکین ظاہر کرنا ضروری تھے۔ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے 172 ووٹ کا حاصل کیا جانا ضروری تھا جو کہ پورا کیا گیا۔ اس لیے یہ عمل غیر آئینی نہیں تھا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسا دوسری بار ہوا، اس سے قبل 1993ء میں میاں نواز شریف نے اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا۔

6 مارچ کا سورج طلوع ہوا، جمعہ ہفتہ عمران خان کی پارٹی نے تمام اراکین کو جس طرح بھی مجبور کر سکتی تھی اس نے کیا۔ آئین اسے حق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ عمران خان نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہہ دیا کہ جنہوں نے سینٹ میں ووٹ نہیں دیا وہ اعتماد کا ووٹ بھی نہ دیں، لیکن ایوان میں آ کر کھلے عام پارٹی کے خلاف ووٹ دیں، وہ یعنی عمران خان انہیں کچھ نہیں کہیں گے بلکہ وہ خود اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے۔ میڈیا پر یہ تأثر عام ہو گیا بلکہ پی ڈی ایم نے بھی محسوس کر لیا کہ تحریک اعتماد میں عمران خان کامیاب ہو جائیں گے، یعنی انہیں مطلوبہ تعداد میں ووٹ مل جائیں گے۔

اسلام آباد کی سیٹ پر یوسف رضا گیلانی کو ضرور زیادہ ووٹ ملے لیکن پی ڈی ایم کی خاتون امیدوار تو ہار گئی اور تحریک انصاف کی خاتون امیدوار کو 172 ووٹ ملے، پی ڈی ایم کی جماعتوں نے یوسف رضا گیلانی کے لیے تو ووٹ لینے کی تحریک چلائی لیکن اپنی خاتون امیدوار کو اہمیت نہیں دی۔ چنانچہ وہ خاتون ہار گئی۔ عمران خان کو قومی اسمبلی میں تو اکثریت حاصل تھی لیکن کینسل ہونے والے ووٹوں میں اور مخالفت میں پڑنے والے ووٹ جن کی تعدادا 16 / 15 بتائی جا رہی ہے۔ اس تعداد میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو حفیظ شیخ کو ووٹ نہیں دینا چاہتے تھے۔ اس میں لین دین کے علاوہ ایک فیکٹر یہ بھی تھا۔ تحریک اعتماد میں یہ فیکٹر نکل گیا یعنی اب سامنے عمران خان تھے، عمران خان سے کسی رکن کو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اس لیے عمران خان کے ساتھیوں نے ساتھ دینا ہی تھا اور دیا جس کے نتیجے میں عمران خان کو 178 قومی اسمبلی کے اراکین نے ووٹ دیا۔ اب صورت حال پھر بدل گئی، پی ڈی ایم بیک فٹ پر اور تحریک انصاف فرنٹ فٹ پر آ گئی۔

تحریک اعتماد سے عمران خان کو اعتماد ملا اور وہ تازہ دم کھلاڑی کی حیثیت سے سامنے آئے لیکن ان کی باڈی لینگویج بتا رہی تھی کہ یہ تازہ دم کھلاڑی پریشانی کے عالم میں ہے۔ اب اپوزیشن لاکھ کہے کہ وہ اس اجلاس کو نہیں مانتے، لیکن یہ عمل آئین اور قانون کے مطابق ہوا، اجلاس سے قبل قومی اسمبلی کے باہر ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، پی ڈی ایم کے کچھ لیڈر وہاں پہنچے وہ پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے، پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ان کے ساتھ بد سلوکی کی۔ یہ عمل غیر اخلاقی، غیر شائستہ تھا۔

تشدد کی سیاست کی حمایت کسی بھی طور نہیں کی جا سکتی، سیاست میں تشدد کے خلاف دونوں جانب سے آواز بلند ہونی چاہیے، لیکن عمران خان کی جانب سے خاموشی اور مریم کی جانب سے پیٹرول ڈال کر آگ لگانے والا بیان، کیونکہ معاملہ تازہ تازہ تھا۔ اس وجہ سے مریم نے جو بیان دیا وہ ان کے جذبات کی نمائندگی تو کرتا ہے لیکن تدبر، معاملہ فہمی، اعلیٰ ظرفی، سنجیدگی کا تقاضا نہیں۔ بدلہ لینے والی بات مناسب نہیں تھی۔ تم دو مارو گے ہم دس ماریں گے، مناسب نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے اپنے کارکنوں کی سیاسی و اخلاقی تربیت کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر سیاسی جماعت میں سیاسی و اخلاقی تربیت کا آغاز کیا جائے۔ سیاست میں اخلاقیات کو ہر صورت اپنانا ہو گا۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اس کے خطرناک نتائج ہوں گے۔ سیاست دانوں کو کام صرف حکومت کرنا یا حزب مخالف کا کردار ادا کرنا ہی نہیں ہوتا، ایک قوم بنانا، اخلاقی قدروں سے روشناس کرانا، انہیں شائستہ، متین، مہذب، خوش خلق بنانے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔

اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد عمران خان نے جو تقریر کی وہ وہی تقریر تھی جو عمران خان حکومت میں آنے سے قبل کیا کرتے تھے یا وزیراعظم بننے کے بعد مخالفین کو لتاڑنے کی باتیں کیا کرتے تھے۔ بقول شاہد مسعود ’مخالفین عمران خان کو غصہ دلاتے ہیں، عمران غصہ میں آ کر وہی باتیں کرنے لگ جاتے ہیں‘ ۔ اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد انہوں کوئی نئی بات نہیں کی، وہی ٹیپ جو وہ اڑھائی سال سے چلا رہے ہیں، اب بھی چلا دی، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اپنی نئی حکمت عملی بیان کرتے، مہنگائی کو قابو میں لانے کی نوید سناتے، بگڑتے حالات کا مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تفصیل بیان کرتے، انہوں نے اپنے حریفوں کے بارے میں باتیں کیں۔

مخالفین پر الزامات اپنی جگہ لیکن ملک کے وزیراعظم کو برد بار، تحمل مزاج، اعلیٰ ظرف، حالات پر گہری نظر رکھنے والا، مصلحت کوش یعنی ضرورت اور وقت کے تقاضے کے مطابق اقدامات اٹھانے والا، وقت کے ساتھ چلنے والا ہونا چاہیے۔ اس وقت جب کہ انہوں نے اعتماد کا ووٹ لے لیا تھا اور ایوان کی اکثریت نے ووٹ دیا اور یہ بھی کہ مارجن بہت زیادہ نہیں، اتحادیوں کا ساتھ ہے، اتحادی کوئی آپ پر اندھا اعتماد بھی نہیں کرتے وہ ہر مشکل وقت میں آپ کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں، مطالبات سامنے رکھ دیتے ہیں، مخالفین سے ملاقات میں پش و پیش نہیں کرتے، پیسے کی چمک بھی آپ کے اراکین کو مخالفین کی جانب متوجہ کر دیتی ہیں، اس لیے گفتگو میں نرمی لائیے۔

جن چوروں کی آپ باتیں کرتے ہیں وہ اپنی دولت واپس لانے والے نہیں۔انہیں آپ جس قدر دوڑا سکتے تھے آپ نے دوڑا دیا، جو کرپشن ہونی تھی ہو گئی، اب ملک میں کرپشن کو بریک لگائیے، جو ماضی میں ہو چکا اسے متعلقہ اداروں پر چھوڑ کر ملک کی ترقی کے لیے، عوام کی بہتری کے لیے، مہنگائی کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیجیے۔ اگر آپ کو ایک اور موقع چاہیے تو آپ کو اپنا طرز حکمرانی بدلنا ہو گا، چور چور کہنا چھوڑ دیجیے، جن باتوں کا اوپر ذکر کیا گیا ان پر توجہ دیجیے۔ آپ کا مقابلہ منجھے ہوئے، تجربہ کار، امیر کبیر سیاست دانوں سے ہے۔ اب آپ صرف کام کیجیے صرف کام۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply