ہم نے لندن دیکھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ہم پہلی بار انگلینڈ جانے کا سوچ رہے تھے تو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیسے ہو گا اور کس طرح سے معاملات ترتیب دیں۔ سفر کا خاص تجربہ بھی نہیں تھا۔ چھوٹے بچے کے ساتھ سفر کرنے میں کچھ مشکلات بھی ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر شاہد عباس سے رابطہ کرنے کا خیال آیا جو ان دنوں وہاں پوسٹ گریجویشن کر رہے تھے۔ شاہد عباس نے مسئلہ آسان کر دیا۔ کہنے لگا کہ وہ ہمیں ایئرپورٹ سے لے لے گا اور آگے وہ جانے اور اس کا کام۔ اس تجویز پر ہمارا ذہن آسودہ ہوا اور ہم نے فوراً پیشکش قبول کر لی۔ ٹکٹ بنوائے اور شاہد عباس کو مطلع کر دیا۔ اس سے قبل یورپ کے کسی ملک میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ اس لیے ہم بے چینی سے روانگی کا انتظار کرنے لگے۔ البتہ ویزا نہیں لیا ہوا تھا، اس لئے کچھ خدشہ تھا کہ اگر ایئرپورٹ سے ویزا نہ ملا تو کیا ہو گا۔ بیگم بھی بہت خوش تھیں کہ وہاں جانے کی ان کی دیرینہ آرزو تھی۔

لندن کے لئے ہماری فلائٹ کی روانگی کانو کے بین الاقوامی ہوائی اڈہ سے تھی جو کہ جاس سے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ہم نے ایئرپورٹ کے لئے ایک روز پہلے ہی ٹیکسی بک کروا لی۔ اگلی صبح گاڑی وقت پر پہنچ گئی اور ہم کانو کے لئے روانہ ہوئے۔ ایئرپورٹ پہنچنے تک چار گھنٹے کا سفر خوشگوار رہا۔ ہماری پرواز کی بریفنگ شروع ہونے میں ابھی دو گھنٹے تھے۔ انہوں نے ہمیں وی آئی پی لاؤنج میں ٹھہرنے کا کہا جہاں کوئی اور مسافر نہیں تھا۔

لاؤنج میں وی سی آر اور چند کیسٹیں پڑی ہوئی تھیں۔ وی سی آر ان دنوں نئی ایجاد تھی اور بہت کم لوگوں کی رسائی میں تھا۔ وقت کے دھارے میں وقت کی طرح ہی کچھ چیزیں یوں بہہ جاتی ہیں کہ دیکھتے دیکھتے مٹ جاتی ہیں۔ یہ ایجاد بھی صفحۂ ہستی سے دھول کی طرح اڑ چکی ، مزید چند برس کے بعد اس کا نام بھی کسی کو یاد نہ رہے گا۔

قبل از پرواز کے تمام مراحل سے گزر کر ہم بالآخر جہاز میں سوار ہوئے۔ فلائٹ صحیح وقت پر تھی اور میرے لئے خوش کن بات تھی کہ پرواز کے ابتدائی چار گھنٹے کا دورانیہ دن کی روشنی میں تھا اور اسی دوران جہاز نے صحرائے اعظم صحارا کو عبور کرنا تھا۔ مجھے صحراؤں سے بہت زیادہ رغبت ہے اور یہ میرے لئے کمال کی تفریح تھی۔ میں کھڑکی کے ساتھ والی نشست پر بیٹھا صحارا کے مناظر سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ خاص طور پر نخلستانوں کا نظارہ بہت اچھا لگا جہاں چھوٹی چھوٹی بستیاں آباد تھیں۔

کہیں کہیں کچھ راستے بنے ہوئے نظر آئے۔ کہیں تیز ہوا سے ریت اڑتی نظر آئی اور جا بجا بڑے بڑے ریت کے ٹیلے صحرا سے محبت کرنے والوں کے لئے دلکش منظر پیش کر رہے تھے۔ مجھے خیال آیا کہ دور سے یہ منظر کتنا دلفریب لگتا ہے مگر صحرا نشینوں سے کوئی پوچھے سورج کی تمازت کس قدر سوہان روح ہو سکتی ہے یا تیز ہواؤں اور آندھیوں سے اٹھتے بگولوں کے دوران کس طرح فضا معلق ذرات سے اٹ جاتی ہے جہاں سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے یا اڑتی ریت کے نوکیلے ذرات سے کس طرح آنکھوں کا حشر ہوتا ہے یا گرمی کی شدت میں جب پانی نایاب ہو تو تشنہ لبوں کے ساتھ باد سموم کے تھپیڑے سہتے ہوئے سراب کا پیچھا کرتے کیسے جان پر بن آتی ہے۔

صحرا عبور کرنے تک شام ہو چکی تھی۔ بحیرۂ روم کے اوپر سے گزرتے ہوئے جہاز یورپ کی فضاء میں داخل ہوا۔ کچھ ہی دیر میں رات کی تاریکی نے باہر کے منظر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جہاز کے کپتان نے جب بتایا کہ ہم رود باد انگلستان کے اوپر سے پرواز کر رہے ہیں تو منزل کے قریب پہنچنے کی نوید ملی۔ انگلش چینل عبور کرنے کے بعد جہاز کی اونچائی کم ہونے پر لندن کی جگمگاتی روشنیاں بہت بھلی لگ رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد جہاز ہیتھرو ایئرپورٹ پر اتر گیا۔

بارہ مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے ہیتھرو ایئرپورٹ کا شمار بڑے ایئر پورٹس میں ہوتا ہے۔ 1966 تک اس کا نام لندن ایئرپورٹ ہوا کرتا تھا۔ اس وقت اس کے تین ٹرمینل تھے۔ بعد کی توسیع میں مزید دو ٹرمینل کا اضافہ کیا گیا۔ ایئرپورٹ کے اندرونی راستے اور راہداریاں طویل ہیں جن میں مسافروں کی سہولت کے لئے برقی بیلٹس کی تنصیب کی گئی ہے۔ ہم امیگریشن کاؤنٹر تک پہنچے اور ٹرانزٹ ویزا کے لئے درخواست کی۔ اہلکار نے تین چار سوالات پوچھنے کے بعد آسانی سے چھ ماہ کے لئے ویزا کی مہر ثبت کر دی اور پاسپورٹ ہمارے حوالے کیا۔ اس کے بعد لگیج ٹرالی لئے گرین چینل سے باہر نکل آئے۔ گرین چینل ہمارے لئے نیا مشاہدہ تھا کیونکہ اس وقت تک پاکستانی ایئرپورٹس پر گرین چینل نہیں ہوا کرتا تھا۔ مسافروں کی آمد والے حصار سے نکلے تو سامنے ڈاکٹر شاہد عباس دکھائی دیے۔ تپاک سے ملے اور اپنے فلیٹ پر لے آئے۔

اگلی صبح ناشتے کے دوران شاہد عباس سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کچھ ہدایات دیں اور ہم باہر نکل آئے۔ بنک میں کام تھا وہاں سے فارغ ہو کر کچھ دیر گھومے اور واپس آ گئے۔ دوپہر کو شاہد عباس سے کھانے پر مختصر ملاقات ہوئی۔ ہماری خاطر مدارت میں انہوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ کھانے کے بعد ہم سستانے لگے۔ مجھے خیال آیا کہ شاہد عباس مختصر وقت کے لئے آتا ہے اور اشیائے خورونوش ہمیں پیش کر کے غائب ہو جاتا ہے۔ میں نے بلا کر استفسار کیا۔

پہلے ٹال مٹول کی اور زور دینے پر کہنے لگا دراصل میرا امتحان ہے اور میں دوسرے کمرے میں جا کر پڑھتا ہوں۔ میں نے کہا کہ آپ نے پہلے بتایا ہوتا تو میں زخمت نہ دیتا۔ اب آپ اسی وقت اٹھیں اور ہمیں کسی ہوٹل میں ٹھہرانے کا انتظام کریں کیونکہ پڑھنے کے لئے یکسوئی اشد ضروری ہے اور گھر میں مہمان ہوں تو ایسا ممکن نہیں۔ وہ اس پر راضی نہیں ہو رہے تھے۔ ہم نے اپنا اسباب لیا اور کھڑے ہو گئے اور یوں انہیں ماننا پڑا۔

ڈاکٹر شاہد عباس انتہائی مخلص انسان ہیں اور مروت تو ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ ہمارے اصرار پر وہ ہمیں اپنے قریبی علاقے میں دو تین گیسٹ ہاؤسز میں لے کر گئے مگر ہمارے پاس چھوٹا بچہ ہونے کے سبب ٹھہرانے سے انکار ہوا۔ ہمارے لئے یہ باعث حیرت تھا۔ آخر ایک گیسٹ ہاؤس میں ہم ٹھہرے۔

لندن کی جتنی جگہوں کے بارے میں پڑھا یا سنا تھا سب دیکھ لیں۔ مثلاً ٹرافیلگر سکوئیر، پکاڈلی سرکس، آکسفورڈ اسٹریٹ، بگ بین، دریائے ٹیمز وغیرہ وغیرہ۔ دریائے ٹیمز البتہ ہمیں بالکل نہیں بھایا۔ انتہائی گدلا پانی تھا۔ حالانکہ دریا شہر کا حسن ہوتے ہیں مگر یہ اس معیار سے دور تھا۔ آکسفورڈ سٹریٹ بہت بارونق لگی۔ اسی سٹریٹ میں واقع سیلفرجز ڈیپارٹمنٹل سٹور بھی گئے اور وہاں سے کچھ شاپنگ کی۔ اتنا بڑا سٹور اس سے قبل دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔

سیلفرجز کئی فلورز پر مشتمل ہے اور ہر فلور اتنا وسیع اور اشیاء کی رنگا رنگ اقسام سے لدا ہوا کہ گاہک کی طمانیت کا ضامن۔ ہمیں فوری طور پر بیٹی کے لئے پش چیئر کی اشد ضرورت تھی جو نائیجیریا سے نہیں مل سکی تھی۔ وہاں سے ایک معیاری پش چیئر مل گئی مگر بیٹی اس میں بیٹھنے کی عادی نہیں تھی۔ جب بٹھاؤ بہت زیادہ روتی تھی اور اس کی عادت اپنانے میں اسے کئی دن لگے۔

مجھے ذاتی طور پر لندن کی زیر زمین ریلوے دیکھنے کا بہت تجسس تھا جسے وہاں ٹیوب کا نام دیا گیا ہے۔ میں نے بچپن سے لندن کی زیر زمین ریلوے کے بارے میں پڑھ رکھا تھا۔ ویڈیو اس وقت ہوتی نہیں تھی اور میرے تخیل میں یہ نظام نہیں آتا تھا۔ ٹیوب کا نظام دیکھ کر اور اس پر سوار ہو کر میں بہت محظوظ ہوا تھا۔ زیر زمین اس نظام کی وسعت دیکھ کر عقل دنگ رہ گئی۔ خاص طور پر کنگز کراس جیسے سٹیشن کی وسعت اور مسافروں کا ٹرن اوور ناقابل یقین ہے۔ زیر زمین اتنا اعلیٰ نظام جو ہم سطح زمین پر بھی نہیں بنا سکے۔

لندن کی ٹیکسی سروس بہت اعلیٰ ہے۔ سیاہ رنگ کی گاڑیاں خاص طور پر ٹیکسی سروس کے لئے بنائی گئی ہیں۔ گاڑی کے دو کیبن ہیں آگے ڈرائیور کا اور پیچھے مسافروں کے لئے۔ ڈرائیور کے کیبن میں فرنٹ سیٹ کی بجائے خالی جگہ ہے جس میں کافی سامان رکھنے کی گنجائش ہے۔ عقبی کیبن میں مسافروں کے لئے آرام دہ صوفہ ٹائپ سیٹ جس میں تین مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ صوفہ سیٹ کے سامنے دو سنگل فولڈنگ سیٹس جن کی پشت ڈرائیور کی طرف ہے یعنی کل پانچ مسافر بیٹھ سکتے ہیں۔ فولڈنگ سیٹس کے درمیان ڈرائیور سے بات کرنے کے لئے چھوٹی سی سلائیڈنگ کھڑکی۔ پچھلے کیبن کا دروازہ دو پٹ والا ہے جسے کھولنے سے اندر جانے کے لئے کشادہ راستہ بن جاتا ہے۔ ہم پش چیئر کو بیٹی سمیت اندر لے جاتے تھے اور دوران سفر وہ اسی میں بیٹھی رہتی تھی۔

لندن میں قیام کے بعد ہم کیتھلے کے لئے روانہ ہوئے جہاں ان دنوں میری پھوپھی زاد بہن رہتی تھیں۔ کیتھلے لندن سے دو سو میل شمال مغرب میں واقع ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ کیتھلے جانے کے لئے نیشنل ایکسپریس بس سروس کا انتخاب کیا۔ بس کا ٹکٹ چار پونڈ فی کس تھا۔ دو سو سے زائد میل کی مسافت کا ٹکٹ صرف چار پونڈ میں بہت ارزاں لگا۔ معلوم ہوا کہ ٹکٹ کی اصل قیمت آٹھ پونڈ تھی مگر ان دنوں پچاس فیصد رعایت چل رہی تھی۔ میں بتاتا چلوں کہ کسی ترقی یافتہ ملک میں جانے کا یہ پہلا اتفاق تھا اس لئے ان دیکھی چیزوں اور نئے مشاہدات سے ہمکنار ہوتے رہے۔

چار دہائیاں قبل ہم جس بس میں بیٹھ کر کیتھلے گئے تھے وہ آج کی ڈائیوو بس جیسی تھی۔ جس سڑک پر ہم سفر کر رہے تھے میرا خیال تھا کہ شہر سے نکل کر سڑک تنگ ہو جائے گی جیسا کہ ہمارے ہاں ہوتا تھا مگر میرے لئے حیرت کا باعث تھا کہ آخر تک ایسا نہ ہوا۔ دراصل وہ آٹھ لینز کی موٹر وے تھی اور ہم تو اس نام سے نا آشنا تھے ، بعد میں 1997 میں نواز شریف نے موٹر وے بنائی۔ راستے میں ایک جگہ پر بس تقریباً نصف گھنٹہ رکی رہی جہاں تمام مسافر تکان مٹانے کے لئے اترے۔

ہمارے لیے خوشگوار حیرت تھی کہ مختصر قیام کے لئے اس قدر سہولتوں سے آراستہ پڑاؤ کہ واش روم میں شیو بنانے تک کا اہتمام تھا۔ بریڈ فورڈ پہنچنے پر تقریباً دو تہائی مسافروں کے سفر کا اختتام ہوا۔ مختصر قیام کے بعد بس کیتھلے روانہ ہوئی جو کہ مزید نصف گھنٹے کا سفر تھا۔ سفر کے اختتام پر ہم ٹیکسی کی طرف بڑھے۔ یہاں کی ٹیکسی لندن سے مختلف تھی۔ ٹیکسی کا کوئی مخصوص رنگ نہیں تھا۔ عام کاریں تھیں والوو، مرسیڈیز، ٹیوٹا وغیرہ۔

ہم ایک گاڑی میں بیٹھے اور ڈرائیور کو کاغذ پر لکھا ایڈریس تھما دیا کہ ہمیں وہاں پہنچا دے۔ ڈرائیور کو غالباً معلوم نہ تھا۔ یہ ایک ریڈیو کیب تھی ڈرائیور نے اپنے آفس رابطہ کیا اور ان کی مدد سے پہنچ گیا۔ جو ہدایات اسے مل رہی تھیں ہمیں بھی سنائی دے رہی تھیں اور ہمارے لئے یہ بھی باعث حیرت تھا۔ ٹیکسی نے گھر تک پہنچا دیا۔ دروازے پر لگی گھنٹی بجائی تو ہماری بہن نکلیں جہنیں ہماری آمد کا علم نہیں تھا۔ آپا فہمیدہ کے لئے یہ اچانک خوشی تھی جس کا انہوں نے بھرپور اظہار کیا۔ ہم ہفتہ بھر ان کے پاس رہے اور بہت پرلطف قیام رہا۔

کیتھلے میں قیام کے دوران قریبی جگہوں پر جانا ہوا۔ ایک روز بریڈ فورڈ چلے گئے تھے۔ پاکستانیوں کی تعداد کے پیش نظر اپنا ہی شہر لگتا تھا۔ ایک روز لیڈز جانا ہوا۔ میرے بڑے بھائی صاحب ڈاکٹر عبدالکریم نے لیڈز یونیورسٹی سے کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کیا تھا۔ ان کی طرف سے ایک پیکٹ ان کے استاد تک پہنچانا تھا۔ کیتھلے چھوٹا سا قصبہ ہے یہاں چند اچھے سٹورز ہیں جن میں مارکس اینڈ سپینسر بھی ہے۔ ایک آرمی سٹور بھی نظر آیا جہاں سے میں نے آرمی شوز اور جیکٹ خریدی تھی۔

ان دنوں ہمارے ہاں ابھی جیکٹ کا اتنا رواج نہیں تھا۔ زیادہ تر خاکی رنگ کے ہائی نیک پل اوور پہنے جاتے تھے۔ سردی کا موسم تھا ، دن اتنا مختصر ہوتا کہ پتا ہی نہ چلتا کہ گزر جاتا اور اندھیرا چھا جاتا۔ مجھے اکثر کہاوت یاد آتی کہ سلطنت برطانیہ میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا مگر یہاں تو سورج دیکھنے کو نہیں ملتا تھا۔ وقت وقت کی بات ہے۔

اگلی دفعہ جب لندن جانا ہوا تو ہمارے دوست حامد علی خان صاحب ہمراہ تھے۔ خان صاحب نائیجیریا میں بطور سول انجینئر کام کر رہے تھے۔ سروس میں کافی سینیئر تھے۔ انتہائی بذلہ سنج اور مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک تھے۔ ہمارا فیمیلیز کے ساتھ سیروتفریح کا پروگرام تھا۔ خان صاحب کافی محتاط تھے کہنے لگے کہ جہاں بھی جائیں گے پیشگی ویزا لے کر چلیں گے۔ لندن میں ہمارا کچھ وقت ویزوں کے حصول میں گزرا مگر آسانی سے تمام امور تکمیل پا گئے۔ میرے لئے یہ خوشگوار حیرت تھی جب نیدرلینڈ کی ایمبیسی نے میرا اور فیملی کا پاسپورٹ یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ آفیشیل پاسپورٹ ہولڈر بینیلکس ممالک میں بغیر ویزا کے جا سکتے ہیں۔

لندن میں مادام تساو میوزیم دیکھنے گئے تھے جو دنیا کی مشہور شخصیات کے موم کے مجسموں کے لئے مشہور ہے۔ یہ مجسمے آرٹ کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔ اتنے کمال کے بنے ہوئے ہیں کہ حقیقت کا گمان ہونے لگتا ہے اور ہر مجسمے کو دیکھنے سے فنکار کی لگن اور مہارت ٹپکتی ہے۔ ان دنوں لیڈی ڈیانا اور پرنس چارلس کی شادی کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا ، اس لئے ان کے مجسمے لوگوں کی توجہ کا مرکز تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *