فیمنزم تحریک مغربی ممالک میں کیوں شروع ہوئی؟


فیمنزم تحریک کی فکر کا بنیادی عنصر سماج میں مردوں کے غلبہ کے خلاف جدوجہد ہے۔ یہ تحریک خواتین کے قانونی، معاشی اور سیاسی حقوق کے حصول کی خاطر برپا ہوئی۔ پھر اور بہت سے موضوعات اس کا حصہ بنے۔ مثلاً عورت کے لیے ملکیت کا حق، نوکریوں میں یکساں مواقع، جنسی تشدد سے تحفظ، سیاسی انتخاب میں ووٹ کا حق، بچے پیدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار، جنسی آزادی، اسقاط حمل کا حق، طلاق کا اختیار، اور شادی کے لزوم کا خاتمہ۔

فیمنزم کی اصطلاح 1880ء کے اواخر میں سب سے پہلے ’ہبرٹائن آکلرٹ‘ نامی خاتون نے، سماج پر مردانہ غلبے کے خاتمے کے خلاف اور خواتین کے ان حقوق و اختیارات کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کی، جن کی فراہمی کا فرانس کے انقلاب نے عورتوں سے وعدہ کیا تھا۔ یہ اصطلاح پہلی مرتبہ فرانس کے ایک جرنل (جریدے) میں مذکورہ خاتون نے استعمال کی۔

فرانس میں مخصوص سیاسی، سماجی اور مذہبی حالات میں اس اصطلاح نے خواتین کو حقوق دلانے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔ پھر بیسویں صدی کے ابتدائی دور میں یہ اصطلاح برطانیہ میں متعارف ہوئی اور انگریزی زبان میں استعمال ہوئی۔ چند برس بعد 1920ء کے قریب فیمنزم کی اصطلاح فرنچ زبان کے ذریعہ ساتھ ہی مصر پہنچ کر عرب دنیا میں یا کہیے مسلم دنیا میں داخل ہوئی۔

پورے اطمینان کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ بنیادی طور پر مغربی دنیا میں عورت کی مظلومیت کے ردعمل میں، یہ ایک تحریک کی شکل میں ابھری۔ پھر یورپ میں اور پھر باقی دنیا میں پھیلتی گئی۔

1918 میں جب یہ نظریہ امریکہ پہنچا تو وہاں کی معروف قانون داں، سوشلسٹ لیڈر اور صحافی خاتون Crystal Eastman نے ایک مضمون لکھا۔ اس نے لکھا کہ برتھ کنٹرول (ضبط ولادت) عورت کا بنیادی حق ہے جو اسے بہ ہرحال ملنا چاہیے تاکہ وہ جدید دنیا میں پوری طرح سے اپنی شرکت کو یقینی بنا سکے۔ اس مضمون میں اس نے امریکی خواتین کو للکارا کہ اس نے کہا ہے کہ فیمنزم باشعور، حوصلہ مند، اور ذہین لوگوں کے مطالبات کا حامی ہے تو یقیناً اسے خواتین کی حمایت حاصل ہو کر رہے گی۔ اس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے کے پرانے قوانین کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔ ان کے اس مضمون نے امریکی خواتین میں مقبولیت حاصل کی خصوصاً برتھ کنٹرول کے موضوع پر زبردست حمایت ملی اور پھر قوانین میں تبدیلی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

خواتین کی اس تحریک نے مغربی معاشرے کو تبدیل کرنے کا عمل شروع کر دیا۔ اس کے نتیجے میں خواتین کی پریشانیوں میں کمی آئی، طلاق کی کارروائی عورت کی جانب سے شروع کیے جانے کی قانونی اجازت ملی، اسے حق ملا کہ وہ بلا کسی وجہ کے بھی شوہر سے طلاق لے سکتی ہے۔

اسی طرح وہ بچہ پیدا کرنے یا استقرار حمل کے لیے بھی آزاد ہو گی۔ اب بچہ پیدا کرنا یا نہ کرنا اس کا انفرادی فیصلہ تھا۔ اس کے لیے وہ تمام ذرائع اور وسائل کے استعمال کے لیے آزاد تھی جو اس راہ میں اس کی معاونت کریں۔ ساتھ ہی اسے جائیداد رکھنے کا حق یعنی حق ملکیت ملا، نوکریوں کے یکساں مواقع ملے اور مردوں کے قریب قریب تنخواہیں ملنے لگیں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیز تک عورتوں کی رسائی آسان ہو گئی۔

دیکھا جائے تو اس تحریک کا آغاز مغربی ممالک سے ہوا جہاں عورت کو غلام سے بدتر درجہ حاصل تھا لیکن اس تحریک نے آج مغربی عورت کو مکمل معاشی، سماجی مذہبی آزادی دے دی ہے۔ مغرب کی عورت دو صدیوں پر محیط طویل جدوجہد کے بعد ان کے حصول میں کامیاب ہوئی۔

1990 کی دہائی میں مسلم دنیا میں بھی اسلامک فیمنزم کی اصطلاح استعمال ہونی شروع ہو گئی۔ سب سے پہلے یہ ترکی میں استعمال ہوئی اس کے بعد ایران اور پھر سعودی عرب میں 1994 میں اس وقت سامنے آئی جب سعودی خاتون ماعی یمانی نے اپنی کتاب ’فیمینزم اینڈ اسلام‘ شائع کی۔

اسلامی ممالک میں مذہبی سختی کی جاتی ہے مگر جن حقوق کا مذہب اسلام نے حکم دیا ہے ، ان کے لیے مسلم ممالک کی خواتین بھی اب اس جدوجہد کا حصہ بن چکی ہیں۔ لیکن بدقسمتی یہ بھی رہی کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں آئے روز خواتین تشدد کا نشانہ بنتی ہیں، غلامی کی طرح زندگی بسر کر رہی ہیں ، ان کے حقوق کے لیے کوئی اٹھنے کو تیار نہیں اور جو اس تحریک میں شامل ہیں ، ان کے مسائل شاید مڈل لوئر کلاس والے نہیں ہیں ، نہ اس مارچ میں انہیں پیش کیا جاتا ہے۔

ایک طبقہ مخالفت کرتا ہے مگر عورتوں کے حقوق کے لیے اٹھنے کو بھی تیار نہیں۔ یہ حقوق خاندان سے بھی مانگے جا سکتے ہیں ریاست سے بھی۔

Facebook Comments HS