مسیحا کا کرب (پرانی ڈائری کا ایک ورق)۔


یہ آج سے تیس برس پہلے کی بات ہے جب میں کینیڈا کے ایک نفسیاتی ہسپتال میں کام کیا کرتا تھا اورشیزوفرینیا کے مریضوں کا علاج کرتا تھا۔ آج اپنی چھوٹی سی لائبریری میں میں کچھ اور تلاش کر رہا تھا کہ مجھے اچانک پرانی ڈائری کا ایک ورق مل گیا۔ سوچا آپ سے شیئر کروں تاکہ آپ کو ان دکھی مریضوں کے کرب کا اندازہ ہو سکے جو اپنی زندگی کا توازن قائم کرنے کی کوشش میں اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔

پرانی ڈائری کا ورق

آج شام میں بہت غمزدہ اور اداس ہوں۔ صورت حال یہ ہے کہ جب میں اپنی چھٹیوں سے لوٹا تو مجھے معلوم ہوا کہ میری غیر موجودگی میں میری ایک مریضہ نے خودکشی کر لی تھی۔ وہ شیزوفرینیا کی مریضہ ایک دکھی عورت تھی جو علاج کی خاطر کئی بار نفسیاتی ہسپتالوں میں داخل ہوئی تھی۔ اس نے اپنے بازو اتنی بار چاقو سے کاٹے تھے کہ ان پر زخموں کے مستقل نشان بن گئے تھے۔ اس نے جتنے بھی ڈاکٹروں اور نرسوں سے علاج کروایا تھا ، وہ سب اس سے نا امید ہو چکے تھے۔

وہ سب اس کا علاج کرنا وقت کا زیاں سمجھتے تھے۔ میں نے جب اس کی بپتا ہمدردی سے سنی تو وہ مجھ سے ملنے آنے لگی۔ وہ جب بھی کسی پریشانی کا شکار ہوتی تو ہسپتال کی ایمرجنسی میں چلی آتی۔ اگر میں کوئی اور مریض دیکھ رہا ہوتا تو وہ میرا انتظار کرتی۔ وہ مجھے دل کا حال سناتی اور پھر چلی جاتی۔ مجھے ہمیشہ یوں لگتا وہ زندگی سے ایک کچے دھاگے سے بندھی ہے۔

مجھے میری نرس نے بتایا کہ جب میں چھٹیوں پر گیا ہوا تھا تو وہ مجھے تلاش کرتی ہسپتال آئی۔ نرس نے اسے بتایا کہ میں چھٹیوں پر ہوں اور ایک دوسرا ڈاکٹر اس کی مدد کر سکتا ہے لیکن اس نے دوسرے ڈاکٹر سے ملنے سے انکار کر دیا۔ اگلے دن پتہ چلا کہ اس نے خودکشی کر لی۔

میں وہ خبر سن کر بہت دکھی ہوا۔

آج اس کی یاد نے کچھ اور پرانی یادوں کے زخموں کو تازہ کر دیا ہے۔ جس مریض نے پچھلے سال خودکشی کی تھی ، وہ بھی شیزوفرینیا کا ہی مریض تھا۔ وہ ایک خوبصورت ،ذہین اور تخلیقی صلاحیتوں کا مالک جوان تھا لیکن حد سے زیادہ حساس طبیعت کا مالک تھا۔ چونکہ اس کے چہرے پر چند کیل اور مہاسے تھے ، اس لیے وہ سمجھتا تھا کہ وہ نہایت بدصورت ہے۔ وہ بہت شرمیلا انسان تھا اور دوسرے انسانوں سے بہت کم ملتا جلتا تھا۔ وہ تمام دن شہر کی گلیوں میں تنہا بے مقصد گھومتا پھرتا تھا۔ مختلف ڈاکٹروں نے اس کا مختلف ادویہ سے علاج کرنا چاہا لیکن اسے افاقہ نہ ہوا۔ وہ جب بھی کوئی دوا کھاتا تو وہ اس دوا کے سائیڈ افیکٹس سے بہت پریشان ہوتا اور دوا کھانا چھوڑ دیتا۔

جب وہ میرے زیر علاج آیا تو میں بھی اس سے وہ خصوصی رشتہ نہ قائم کر سکا جو ایک معالج اور مریض کے درمیان ہوتا ہے۔ میں جب بھی اس سے ملتا مجھے یوں لگتا جیسے وہ جذباتی طور پر مجھ سے کوسوں دور ہے۔

چند مہینوں کے علاج کے بعد بھی جب اس کی طبیعت بہتر نہ ہوئی تو میں نے اس کا ایک ہمدرد نرس سے تعارف کروایا۔ میں نے سوچا شاید وہ اس کی مدد کر سکے لیکن وہ کوشش بھی کار آمد ثابت نہ ہوئی۔ پھر ہم نے اسے ہسپتال کے اس وارڈ میں داخل کر دیا جہاں شیزوفرینیا کے مریضوں کا علاج ہوتا تھا۔ وارڈ کے ماہر نفسیات نے اس کی ادویہ بھی بدلیں لیکن اس سے بھی کچھ فائدہ نہ ہوا۔

اس کا مرض دوائیوں کے علاج سے بہت آگے جا چکا تھا۔ وہ اپنے کندھے پر اپنی صلیب لیے پھرتا تھا اور وہ صلیب وقت کے ساتھ بھاری ہوتی جاتی تھی۔

ایک دن وہ اچانک میرے دفتر میں اپنی ایک نظم لے کر آیا اور مجھے سنانے لگا۔ کہنے لگا آپ بھی شاعر ہیں ، شاید میرے کرب کو سمجھ سکیں۔

اس نظم کا ترجمہ حاضر خدمت ہے:

میرے گھر میں
آؤ میرے گھر میں آؤ میرا نام جہنم ہے
آؤ میں تمہیں اپنا کرب دوں تاکہ تم بھی مضطرب ہو جاؤ
میرے گھر میں تاریکی کے شعلوں کے اس پار
ایک گھنٹی بجتی ہے
میں تمہیں اپنے خوف میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں
ایک وہ دور تھا جب میں خدا کے قریب جنت میں رہتا تھا
لیکن پھر میں نے شکست کھائی
اور خدا کے تخلیق کردہ جہنم زار میں آ گرا
اور نفرت کا عفریت بن گیا
اب میں انسانوں سے نفرت کرتا ہوں
ان کی روح پر مایوسی کا سایہ کرتا ہوں
میرا نام تباہی ہے
دنیا میں جتنے قتل ہوئے ہیں
میری ہی وجہ سے وقوع پذیر ہوئے ہیں
میں جہنم کا شیطان ہوں
میری وجہ سے کرۂ ارض پر انسانی زندگی
سسکتی اور کراہتی ہے
میں حرص کے گیت گاتا ہوں
میں جنگوں میں بربادی کا بگل بجاتا ہوں
میں انسانی چیخیں سن کر خوش ہوتا ہوں
ایک دن میں
خدا کی انسانی مخلوق کو
نیست و نابود کر دوں گا
میں خدا سے جیت جاؤں گا
آؤ شیطان میری روح کو سیاہ کر دو
آؤ میرے گھر میں آؤ یہی جہنم ہے

پھر ایک دن وہ انٹرویو کے لیے آیا تو مسکرا رہا تھا۔ اس کے سراپا سے مسرت و انبساط کی شعاعیں پھوٹ رہی تھیں۔ میں خوش تھا کیونکہ میں نے پہلے کبھی اسے اتنا خوش نہ دیکھا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ ایک مقامی کلب میں گیا تھا جہاں اس کی ایک رقاصہ (stripper) سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہ اس سے بڑی مہربانی سے پیش آئی تھی اور اسے بتایا تھا کہ وہ ایک وجیہہ مرد ہے۔ وہ کچھ عرصہ کلب میں خوش گپیوں میں مصروف رہے اور پھر وہ میرے مریض کے ساتھ اس کے گھر چلی آئی۔ وہ اس پر اتنی مہربان ہوئی کہ بوس و کنار کے بعد اس کے ساتھ سو گئی۔ اس عورت نے اسے بتایا کہ تم ایک شریف النفس انسان ہو اور ایک اچھے عاشق ہو۔ اس رات میرے مریض نے خود اپنے آپ کو حیران کر دیا تھا۔

وہ رومانوی رشتہ چھ ہفتے قائم رہا۔ وہ چھ ہفتے اس مریض کے چوبیس برسوں کے بہترین چالیس دن تھے۔ اس ایک عورت نے وہ کرامت دکھائی جو کئی نرسیں ڈاکٹر ماہر نفسیات اور ادویہ نہ دکھا سکے۔

اور پھر وہ اسے چھوڑ کر چلی گئی اور میرے مریض کا دل ٹوٹ گیا۔
آرزو اور آرزو کے بعد خون آرزر
ایک مصرعہ میں ہے ساری داستان زندگی

ایک دن وہ عورت اسے راستے میں ملی تو میرے مریض نے اظہار محبت کیا لیکن وہ خاموش رہی۔ میرا مریض جب اس کے پیچھے چلتا رہا تو پتہ چلا کہ وہ ایک ٹریلر میں رہتی ہے۔

اگلے ہفتے میرے مریض نے اس ٹریلر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک اجنبی مرد باہر نکلا۔ میرے مریض نے اس عورت کا پوچھا تو وہ مرد کہنے لگا وہ شاپنگ کرنے گئی ہے۔

اگلے چند ہفتوں میں میرا مریض اتنا اداس اور دکھی ہوا کہ میں نے اسے دوبارہ ہسپتال میں داخل کر دیا جہاں ایک اور ماہر نفسیات نے اس کا علاج کرنے کی کوشش کی۔ چند ہفتوں کے علاج کے بعد وہ ہسپتال سے چھٹی لے کر اپنے والدین سے ملنے گیا جو ہسپتال سے دو سو میل دور رہتے تھے۔

چند دنوں کے بعد اس کے والدین اسے گھر اکیلا چھوڑ کر اپنے رشتہ داروں سے ملنے گئے۔ جب واپس آئے تو انہیں بیٹا نہیں اس کی لاش ملی۔ اس نے خود کشی کر لی تھی۔

اس مریض کی خود کشی کے بعد میں کافی عرصے تک سوچتا رہا کہ کیا اس کے جنسی تجربات کا کوئی تعلق تشدد اور خودکشی سے تھا؟ پھر مجھے ایک فلم یاد آئی جس کا نام EQUUS تھا۔ اس فلم میں رچرڈ برٹن ایک ماہر نفسیات کا کردار ادا کرتا ہے اور ایک نوجوان کا علاج کرتا ہے جو اپنا ذہنی توازن کھو چکا ہوتا ہے اور اس نے اصطبل کے چھ گھوڑوں کو ایک چاقو سے اندھا کر دیا ہوتا ہے۔ جب فلم میں کہانی کے پردے اٹھتے ہیں تو ہم پر یہ راز منکشف ہوتا ہے کہ وہ حادثہ اس واقعہ کے بعد رونما ہوتا ہے جب وہ نوجوان اس اصطبل کے مالک کی بیٹی کے ساتھ جنسی لذت سے آشنا ہوتا ہے۔ وہ نوجوان ایک ایسی دیوانگی کا شکار ہوا تھا جسے میں جنسی دیوانگی SEXUAL PSYCHOSIS کا نام دیتا ہوں۔

میرے مریض نے میرے ذہن میں بہت سے سوال ابھارے اور میں غمزدہ ہو گیا۔

آج مجھے اس عورت کی یاد آ رہی ہے جو کئی سال پیشتر مجھ سے علاج کروانے آتی تھی۔ اگرچہ باقی نرسوں اور ڈاکٹروں کے لیے اس کا علاج ایک کار زیاں تھا لیکن میں نے اس سے بہت کچھ سیکھا تھا۔

میں آج ایک پیشہ ورانہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنے مریضوں سے تحمل اور بردباری اور صبر کے بہت سے سبق سیکھے ہیں۔

اپنے دکھوں کو برداشت کرنا اور مسکراتے رہنا آسان کام نہیں ہے۔ میرے مریض جتنے دکھ سہتے ہیں ، میں ان کا دسواں حصہ بھی نہیں سہہ سکتا۔

میں اپنے مریضوں کے حوصلے اور استقامت کی دل کی گہرائیوں سے داد دیتا ہوں۔

ہم سب اپنے کندھے پر اپنی ایک صلیب اٹھائے پھرتے ہیں۔ بعض صلیبیں وقت کے ساتھ ساتھ بہت بھاری ہو جاتی ہیں۔

۔ ۔ ۔

اب کئی برسوں سے میں اپنے کلینک میں کام کرتا ہوں اور اپنے مریضوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنے دوستوں کا ایک حلقہ بنائیں۔ ایسے دوست جن کی قربت سے دکھ آدھے اور سکھ دگنے ہو جائیں۔

اب کئی برسوں سے میرے کسی مریض نے خود کشی نہیں کی لیکن پھر بھی کبھی کبھار پرانے مریضوں کی یاد افسردہ کر دیتی ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail