اہم تنصیبات پر حملہ


ہماری بیگم کو خوبصورت چیزیں جمع کرنے کا شوق ہے اور پھر ان خوبصورت چیزوں کو جان سے لگا کر رکھنے کا بھی شوق ہے۔ شامت اعمال اگر کسی بچے سے ان کی کوئی پسندیدہ چیز ٹوٹ جائے تو سمجھو اس کا جیون نرک ہو گیا اور اگر نصیب دشمناں یہ گناہ خود ان سے سرزد ہو گیا تو دنوں یاسیت کا شکار رہیں گی۔ حزن وملال کی تصویر بنی رہیں گی۔ ہم نے سمجھایا کہ مومن کو زیب نہیں دیتا کہ دنیاوی چیزوں سے اتنا دل لگائے ، پٹ سے بولیں۔ ”دل تو میرا آپ سے بھی لگا ہے۔“

ہم ایک مرنجاں مرنج آدمی ہیں۔ عورت پر ہاتھ اٹھانا گناہ عظیم سمجھتے ہیں۔ جب کبھی بیگم ہماری جان کو آ جاتی ہیں تو پھر ان کی کمزوری تو ہم جانتے ہیں لہٰذا ”اہم تنصیبات پر حملہ“ ۔ بیڈروم کا حسین لیمپ، ڈرائنگ روم میں ملتانی نیلی گل کاری والا قد آدم گلدان، دالان کی مزین حائطی میز (console table) ، یا پھر کچن میں شفاف کانچ کی چینک اور سرخ سیرامک کی ہانڈی وغیرہ وغیرہ۔

اس روز بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ہم ”ذرا“ دیر سے گھر آئے تھے۔ یہی کوئی رات کے ایک بجے۔ دوستوں یاروں میں کبھی کبھی وقت کا کہاں پتہ چلتا ہے۔ فون کرنے کا بھی خیال نہیں آیا بلکہ یہ بھی نہ دیکھا کہ چارج ختم ہو گیا ہے۔ بیگم فون کھڑکاتی رہیں۔ ”آپ کے مطلوبہ نمبر سے رابطہ ممکن نہیں۔“ کا زمزمہ سن کر بھناتی رہیں اور جانے کیا کیا اندیشے بنتی رہیں۔

پہلی دستک پر دروازہ کھولا۔ ہمیں زندہ پا کر ایک ثانیہ کے لئے ان کے چہرے پر سکون لہرایا اور پھر ہماری جان کو آ گئیں ( بھلا جان لینے کا کریڈٹ وہ حضرت عزرائیل کو کاہے لینے دیتیں)  ۔ وہ بے نقط سنائیں کہ اللہ دے اور بندہ لے۔ آتش فشاں کا لاوا ایسا سوختہ کن نہ ہو گا جیسے ان کی زبان ہمیں بھسم کیے دیتی تھی۔ آخر کار ہماری غالب مردم حس جاگ اٹھی اور ہم نے الٹی میٹم دے دیا۔

”بیگم، دشنام طرازی کو لگام دیجیے ورنہ اگر ہم مقابلے پر اتر آئے تو اچھا نہ ہو گا“
”کیا کریں گے آپ“

”کیا کریں گے“ ایک لمحے کو ہم سٹپٹائے پھر بجلی کی طرح خیال کوندا اور ہم نے قریب رکھا ہوا حسین لیمپ اٹھا کر کہا۔

”ہم اسے توڑ دیں گے“ اسے سر سے بلند کر کے خفیف سا جھٹکا دیا۔ اور بہ یک طرفۃ العین ہدف تباہ۔

بخدا ہمارا تو صرف انہیں دھمکانے اور چپ کرانے کا ارادہ تھا۔ ہمیں قطعی اندازہ نہیں تھا کہ اس ناہنجار لیمپ کی بلوری گردن ٹوٹ کر گر جائے گی۔ لیمپ کا نچلا دھڑ سر بریدہ نعش کی صورت ہمارے ہاتھوں میں دھرا تھا۔ ہماری جان سے پیاری بیگم غش کھا کر بیڈ کے عین وسط میں یوگا کے کسی آسن میں مڑی تڑی پڑی تھیں اور ہم متحیر و مشوش (حیران پریشان) بت کی مانند وہیں کے وہیں ایستادہ تھے۔ چھناکا سن کر دونوں بچے دوڑتے ہوئے آئے۔ صارم نے لیمپ کی نعش ہمارے ہاتھوں سے اتار کر فرش پر رکھی اور ریما اپنی ماں کو ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگی مگر بیگم نے آنکھ کھولی نہ قینچی ہوئے جسم کو سیدھا کیا۔

ہم نے ریما سے کہا ”ذرا رنگین بلوری پتیوں والے گوبلیٹ (goblet) میں پانی لانا ، اس سے پانی چھڑکا جائے تو امید ہے افاقہ ہو گا“ ریما ابھی دروازے تک ہی پہنچی تھیں تو بیگم اٹھ بیٹھیں اور شنا کے بولیں ”ہرگز ہاتھ نہ لگانا اس نازک اب خورے کو سنیچر کہیں کی۔“

قارئین۔ کیا آپ جانتے ہیں سنیچر کس کو کہتے ہیں۔

ہماری لغت میں سنیچر کا اضافہ راجھستانی سسرال سے رشتہ جوڑنے کے بعد ہوا۔ ہماری ایک خواہر نسبتی (سالی صاحبہ) کا لقب سنیچر تھا۔ پوچھنے ہر معلوم ہوا کہ ہفتے کے روز پیدا ہونے والی کو سنیچر کہتے ہیں اور یہ روایت جڑی ہے کہ سنیچر کے ہاتھ میں سوراخ ہوتا ہے ، چیزیں گر جاتی ہیں، ٹوٹ جاتی ہیں۔ سنیچر کا یہ لاحقہ صرف لڑکیوں کے لئے استعمال ہوتے دیکھا کسی صاحبزادے کو سنیچر کا خطاب ملتے نہیں پایا۔ اللہ جانے اس لقب کی تاثیر تھی یا واقعی ان کے ہاتھوں میں دم نہیں تھا کہ ہر مکسور شے کی کڑی ان ہی سے جا ملتی۔ ہمیں تو جیسے چھیڑنے کا بہانہ ہاتھ آ گیا،  خوب نکو بناتے فاریہ کبھی ہنس دیتیں ، کبھی چپ رہتیں۔ انہیں ہماری بولتی بند کرنے کا موقع تب ملا جب ریما ہفتے کے دن پیدا ہوئیں اور فاریہ چہک کر بولیں:

”مبارک ہو دولہا بھائی اب آپ کے گھر میں بھی سنیچر آ گئی۔“

بچپن سے سنیچر سن سن کر ریما، جان بوجھ کر چیزیں توڑتیں یا پھر واقعی اس میں کوئی حقیقت ہے واللہ اعلم بالصواب۔

خیر تو ہم اپنی روداد پر لوٹتے ہیں۔ ہماری ترکیب کارگر ہوئی اور بلوری پتیوں والے گوبلیٹ کی سلامتی کو خطرے میں پا کر بیگم ہوش میں آ گئیں مگر اب حالت یہ تھی کہ غم اور غصے کی آمیزش سے چہرہ ارغوانی ہوا جاتا تھا۔ وہ بیڈ سے اٹھ کر راکنگ چیئر پر ڈھے گئی تھیں اور اس قدر زور زور سے اسے جھلا رہی تھیں گویا اڑن طشتری کو مہمیز کر رہی ہوں۔

ہم نے نہایت گلوگیر ہو کر کہا ”بخدا ہمارا اس تخریب کاری کا کوئی ارادہ نہیں تھا ، ہم تو صرف اپنی گلو خلاصی چاہتے تھے۔ چلیے اچھا بتائیں کہاں سے لیا تھا ہم بالکل ویسا ہی لا دیں گے“

وہ آخری ڈسپلے پیس تھا ”روہانسی آواز میں جواب آیا۔

”ہم کل صبح ہی جا کر دیکھیں گے شاید دوبارہ آ گیا ہو اور اگر نہ ملا تو ہم عمدہ گوند لا کر ایسا جوڑیں گے کہ بال بھی نہ رہے“

اگلے روز ہم نے سارا بازار چھان مارا مگر گوہر مقصود نہ ملا۔ ناچار گلوگن خرید کر لائے اور بڑی عرق ریزی سے ٹوٹے ہوئے لیمپ کو جوڑ دیا لیکن بال بھی نہ رہنے کا دعویٰ پورا نہ کر سکے۔ ہر رات جب لیمپ روشن ہوتا ہے تو کمبخت وہ بال، دیو کی کانی آنکھ کی طرح نمایاں ہو جاتا ہے۔ بیگم اسے ٹکٹکی باندھ کے دیکھتی ہیں، کہتی کچھ نہیں مکر ان کی خاموشی ز فرش تا عرش گونجتی ہے۔

Facebook Comments HS