ہم آزادی سے فرار کیوں چاہتے ہیں؟
ایک کمزور معاشرہ ایسی ذہنی پیچیدگیوں اور بیماریوں کو جنم دیتا ہے جو اس معاشرے کی پہچان بن جاتی ہیں۔ کیونکہ ذہن خود الجھا ہوا ہوتا ہے، اس لئے وہ اپنی اس کیفیت کی تشخیص نہیں کر پاتا۔ اور اگر کرنے کی کوشش کرے بھی تو جلد ہی تھک جاتا ہے۔ اس لئے یہ ذہن اپنی بیماریوں کو اچھا سا نام دے کر اپنی نرگسیت زدہ معاشرے کی محرومیوں کی مغالطوں سے تشفی کرتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیا عمل ہے جو ہمیں صحت سے دور بھاگنے اور بیماری کو گلے لگائے رکھنے پر مجبور کرتا ہے؟
اس سوال کا جواب پانے کے لئے ہمیں نظری طور پر واضح ہونا پڑے گا اور پھر اس بیماری کے مظاہر کو روزمرہ کی زندگی اور معمول کے معاملات اور اعمال میں ڈھونڈنا ہو گا۔ یہ اس لئے ضروری ہے کہ ابنارمل رویے ابنارمل حالات میں ظاہر نہیں ہوتے بلکہ یہ روزمرہ کے معاملات میں آشکار ہوتے ہیں جس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ہم نے ابنارمیلٹی کو نارملائز کر دیا ہوتا ہے۔
نظری طور پر ایسے رویوں کو سمجھنے میں فرنچ فلاسفر جیکس لاکاں کے نظریات بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ لاکاں کا دعوٰی ہے کہ لاشعور کی ساخت، زبان کی طرح ہوتی ہے اور زبان کی طرح ہی اس ساخت کے مظاہر ہماری روزمرہ کی حرکات اور زبان میں ظاہر ہوتے ہیں۔ چونکہ ہماری زندگی خود زبان کے اردگرد بنی ہوئی ہے ، اسی لیے ہماری زبان ہی ہماری روح کی نمائندگی کرتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں زبان روح کا لباس ہے۔ ہم اس لباس کا مطالعہ کریں تو روح کے خدوخال خود بخود ظاہر ہوں گے ۔ جب ہم اپنے معاشرے کے افراد کا جائزہ لیتے ہیں تو تین چیزیں نمایاں ہو کر سامنے آتی ہیں۔ خوف، احساس کمتری یا محرومی اور حقیقت سے فرار۔
ہمارے معاشرتی رویوں پر نظر ڈالیں تو ہر طرف خوف دکھائی دیتا ہے خصوصاً ہماری شخصیت میں یہ خوف نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ خوف جدیدیت کی پیداوار ہے کیونکہ اس نے جنم لیتے ہی ہمیں اپنے پرانے اعتقادات اور تیقنات سے محروم کر دیا ہے۔
ہماری جدیدیت کی تاریخ خوف سے ہی معمور ہے۔ جدیدیت کی وجہ ہمارے پیروں تلے پرانے کائناتی نقطۂ نظر کی زمین ہی غائب ہو گئی ، ہم وجودی خوف و وحشت میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ مثال کے طور پر جب لاؤڈسپیکر آیا تو ہمیں اس سے خطرہ لاحق ہو گیا، پرنٹنگ پریس آیا تو پھر خطرے نے گھیرا، ریڈیو اور ٹی وی پرخطر لگے، سائنسی ایجادات اور فلسفیانہ افکار سے خطرہ تو ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ غرض ہر نئی شے جیسے ڈش اینٹینا، سینما، موبائل فون، انٹرنیٹ اور دیگر نئی اشیاء سے ہمیشہ ہی خطرہ محسوس کیا ہے کہ کہیں یہ ہماری اعلیٰ اقدارکو متاثر نہ کر دیں۔ اب حد تو یہ ہو گئی ہے کہ ہمارے مولویوں کو صوفے سے ڈر لگنے لگا ہے۔
ہمارا یہ خوف صرف اشیاء تک ہی محدود نہیں بلکہ پدرسری معاشرے میں عورت کے مضبوط ہونے سے سارے ثقافتی ڈھانچے کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ یہ خوف اس لئے شدت سے جنم لیتا ہے کیونکہ ہم نے اپنی ذات کو ایک ڈبے میں بند کر دیا ہے۔ اس لئے ہمیں نئی چیزوں کی تفہیم نہیں ہوتی۔ اور جب کچھ بھی پلے نہیں پڑتا تو آسان حل کے طور پر ہر نئی چیز اور سوچ کو خطرہ قرار دینا ہوتا ہے۔
دو ہفتے پہلے میں نے ہم سب میں ایک مضمون ”میں پاگل خانے میں کیوں رہتا ہوں؟“ لکھا تھا جس میں ، مَیں نے قوم کی اجتماعی تحلیل نفسی کے لئے صوفے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ مگر اب ہمارا پاگل پن انتہا کی نئی حدوں کو چھو رہا ہے اور اس کے نتیجے میں اپنی علاج کی سہولت کو ہی تباہ کر رہا رہا ہے۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک شیئر ہوئی ویڈیو میں مولانا عبدالعزیز صوفے کو جلا رہے ہیں کیونکہ ان کے بقول یہ اسلام کے ظہور کے وقت نہیں تھا۔ اب مولانا کے پاس آج کے زمانے کے متعلق بولنے کو کچھ نہیں ہے تو صوفے پر حملہ آور ہوئے اور صوفے پر بیٹھنا بدعت قرار پایا۔
صوفہ بھی حیران ہے کہ کس قسم کی مخلوق سے واسطہ پڑا ہے۔ ویسے پرانے زمانے میں موبائل فون بھی نہیں ہوتے تھے جن سے مولانا ویڈیو بنا رہے ہیں۔ عہد طفلی میں پھنسے ہوئے ذہن کے پاس جب کچھ نیا کہنے اور کرنے کو نہ ہو تو اپنے آپ کو تباہ کرنا ہی اس کا ’تخلیقی عمل‘ بن جاتا ہے۔
کمال کی بات یہ ہے کہ وہ معاشرے جہاں یہ نئی ایجادات اور افکار جنم لیتے ہیں ان کو کبھی بھی ان نئی اختراعات سے خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے نے ہی کیوں خود ساختہ طور پر تمام خطرات کا ٹھیکہ اٹھایا ہوا ہے؟
اس سوال کا سادہ جواب یہ ہے کہ ہم نے مادی جدیدیت اپنا کر فکری جدیدیت کو مسترد کر دیا ہے۔ روایتی و قبائلی ذہن کے ساتھ جب ٹیکنالوجی کا ملاپ ہو تو یہ معاشرے کے لئے بہت تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گاڑی ہمارے گھر میں آ گئی ہے مگر روڈ پر گاڑی چلانے کے اخلاق و قوانین سے ہم عاری ہیں۔ حج کرنے میں سب سے پہلے نمبر پر ہیں، مگر ساتھ ہی پورن سرچ کرنے میں بھی سب سے آگے ہیں۔ یہ خوف ہی ہے جس کی وجہ سے عورت کو عوامی مقامات پر کام کرتے دیکھ کر ہماری غیرت کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
عورت، اب ہمارے لئے انسان یا جمال کی علامت نہیں رہی بلکہ مردانہ جلال کے لئے خوف کی ایک علامت بن گئی ہے۔ ہم اتنے کمزور ہو گئے ہیں کہ عورت کے سر سے دوپٹہ سرکنے پر ہمارا ایمان برباد ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ عام آدمی کو اکثر یہ کہتے ہوئے سنا جاتا ہے کہ عورت کا قہقہہ جنت کی مضبوط دیواروں میں دراڑیں پیدا کرتا ہے اور انہی دراڑوں سے ہی شیطان مردوں کے بہشت میں داخل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اپنی عاقبت کو بچانے کی خاطر عورت کی ذات اور اس کا منہ بند رکھنا لازمی ہے۔
خوف میں محصور ایسا معاشرہ کبھی بھی جدیدیت و مابعد جدیدیت کے چیلنجوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس طرح کے معاشرے کو خوف اندر سے دیمک کی طرح کتر کر کمزور کر دیتا ہے جس کی وجہ سے معاشرہ ایک ایسا ذہن تشکیل دیتا ہے جو کسی بھی مضبوط سوچ کا سامنا نہیں کر سکتا ہے۔ وہ اپنے لئے ہنرک ابسن کے ڈرامے وائلڈ ڈک (Wild Duck) کے مرکزی کردار ہلمارکی طرح ایک جھوٹی زندگی (life lie) تشکیل دیتا اور جھوٹی حقیقت گھڑتا ہے اور اسی کے خول میں بند ہو کر اپنی زندگی کو معنی دیتا ہے۔
ابسن کے ڈرامے کا کردار ہلمار ایک کمزور اور ناکام شخص ہے جو خود کو اپنی اصلی حقیقت اور ضمیر سے بچانے کے لئے ایک جھوٹی حقیقت تخلیق کر کے اس میں قید کر دیتا ہے تاکہ وہ وجودی یاس و حزن سے بچ سکے۔ بالکل اسی طرح ہمارے کمزور معاشرے نے وجود کو جھوٹ سے بنائے ہوئے خول میں مقید کیا ہوا ہے۔ اسی لئے نہ تو باہر سے کوئی نئی سوچ اس خول میں سرایت کر سکتی ہے اور نہ ہی اندر مقید لوگ باہر کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ اور ایک مخصوص سوچ پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ذہن میں صرف وہی سوچ راسخ ہو جاتی ہے جو اندر ہی ہوتی ہے۔ یوں راسخ اعتقادی جنم لیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ضمیر اس لئے موجود نہیں کہ ہم نے ایک جھوٹی زمین آباد کی ہے، اور جھوٹ کی اس غلیظ زمین پر ضمیر کا خوبصورت گلاب کبھی نہیں کھل سکتا ہے۔
ہمارے جیسے کمزور معاشرے میں طاقت کے اظہار کے سوتے ہمارے لاشعور میں چھپے کمزوری کے شدید احساس سے پھوٹتے ہیں۔ ہماری جھوٹی طاقت کا زور صرف کمزور پر چلتا ہے۔ مضبوط کے سامنے یہ خوف مسکینیت میں بدل جاتا ہے۔ ہمارے روزمرہ کے معاملات میں دوسرے کو یہ یاد دلانا کہ ”تم نہیں جانتے میں کون ہوں؟“ بنیادی طور پر اس کمزور انسان کی چیخ و پکار ہے جو اپنی ذات و شخصیت کھو چکا ہے اور کھوکھلے دعوؤں سے اپنی شناخت بنانے کے لئے واویلا کر رہا ہے۔
اس شخص کے اندر ہمت و طاقت نہیں ہوتی ہے، اس لئے طاقت کا بھرم دکھاتا ہے۔ گاڑی یا گیٹ پر کسی ایسوسی ایشن کا صدر، گورنمنٹ کنٹریکٹر، پریس ، ڈاکٹر، انجینئر، ایڈووکیٹ، آرمی، پولیس وغیرہ کی پلیٹ یا سٹیکر لگا کے اپنی شخصیت کو مضبوط بنانے کے کوشش کرتا ہے۔ باہر کی چیزوں سے اپنی شخصیت کو جوڑنے کا یہ رجحان ہمارے معاشرتی نفسیات میں موجود ایک بہت بڑی بیماری کی علامت ہے جسے ہم غیر ذات میں تبدیل ہونے کا عمل کہہ سکتے ہیں۔ اس عمل کے دوران ہماری ذات کے اندرونی سرچشمے سوکھ جاتے ہیں کیونکہ ہم نے ساری توجہ بیرونی سر چشموں سے اپنی ذات کی تعمیر کرنے پر مرکوز کی ہے۔ یوں ہماری شخصیت اندورنی خوبیوں سے کم اور بیرونی بہروپی رویوں سے زیادہ تشکیل پا رہی ہوتی ہے۔
علم نفسیات کا کہنا ہے کہ انسان اندر سے جو ہوتا ہے وہی اس کی اصل ذات یا سیلف (self) ہوتی ہے اور باہر جیسا نظر آتا ہے وہ پرسونا/ شخصیت (persona) ہوتی ہے۔ یہ دونوں مل کر انسان کی تکمیل کرتے ہیں۔ شخصیت ہمیں معاشرتی معاملات کو سرانجام دینے کے قابل بناتی ہے۔ پرسونا ایک طرح کا نقاب ہے جو ہم روزمرہ زندگی میں درجنوں بار اپناتے ہیں اور اتارتے ہیں۔
مثال کے طور پر میں گھر سے نکلتا ہوں تو اپنے ڈرائیور کے سامنے مالک کا نقاب پہنتا ہوں، آفس داخل ہو کے اپنے اسسٹنٹ کے سامنے افسر کا روپ دھار لیتا ہوں اور اپنے سپروائزر کے سامنے اسسٹنٹ کا نقاب اوڑھ لیتا ہوں مگر جب دوستوں کے سامنے موجود ہوتا ہوں تو ان میں سے کوئی نقاب کام نہیں آتا۔اس لئے عہدے سے متعلق جتنے نقاب ہیں ان کو اتار پھینک دیتا ہوں۔
انسان کی ذات اندر سے کھوکھلی تب ہونے لگتی ہے جب وہ باہر کے نقاب کو اندر کی ذات پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ اس عمل میں ہوتا یوں ہے کہ باہر کا نقاب آہستہ آہستہ ہمارے اندر سرایت کر جاتا ہے۔ ہم نقاب کے تقاضے پورے کرنے میں اتنے محو ہو جاتے ہیں کہ اپنی ذات کو یکسر بھول جاتے ہیں۔ اس بھولپن کو معروف جرمن فلاسفر مارٹن ہائڈیگر ذات سے غفلت یا ذات کی گمنامی کا نام دیتا ہے۔
ذات کی گمنامی کو سمجھنے کے بعد اب ہم روزمرہ کی زندگی میں اس کے مظاہر اور نتائج کا جائزہ عملی مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔
چونکہ ہمارے اپنے اندر کچھ نہیں ہوتا ہے اس لئے ہم نے اپنی شخصیت باہر کے چیزوں اور اشیاء کے نام نہ صرف گروی رکھ دی ہے بلکہ وہ چیزیں ہمیں نام اور برانڈ دیتی ہیں۔ آج گاڑی، بنگلہ، بنک بیلنس، عہدہ، تنخواہ، تعلیم اور طاقت ہی ہمارا تعارف ہیں۔ ان سب کے بیچ ہم کہیں نہیں ملتے ہیں۔ اب ہمارا نام نہیں بلکہ برانڈ کا نام ہماری پہچان بناتا ہے۔ ایک دفعہ میں نے اٹالین برانڈ کے مہنگے جوتے پہنے ایک۔ضیافت پر چلا گیا۔ ہر ایک میرے چہرے کی بجائے میرے جوتوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔
میں نے ہر ایک کو محفل میں جوتوں کی تعریف کرتے دیکھا مگر کسی نے میری ذات کے متعلق بات نہیں کی۔ مجھے یہ دیکھ کر معلوم ہوا کہ میری ذات کو میرے جوتے نگل گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے اپنی ذات کی اندر کی خوبیوں سے قدر بڑھانے کی بجائے باہر کی مہنگی چیزوں کے ذریعے اپنی قدر بڑھانے کی کوشش کی۔ اس واقعے سے یہ سبق حاصل ہوا کہ اپنے سے قیمتی چیز نہیں پہنی چاہیے۔
اسی طرح ہمارے ہاں ایک کسان کے بیٹے سے سکول کے ٹیچر نے کلاس میں باپ کا نام پوچھا۔ طالب علم نے باپ کے نام کی بجائے اپنے ماموں جو کہ افسر تھے کا نام بتایا جس پر استاد نے طیش میں آ کر کہا کہ باپ مر گیا ہے کیا جو ماموں کا نام لے رہے ہو۔ یوں اس کیس میں طالب علم اور اس کے والد، دونوں کی ذات کو اس کے ماموں کا عہدہ نگل گیا۔
تیسری مثال اتھارٹی کی ہے۔ ہمارے گاؤں میں ایک صوبیدار فوج سے ریٹائرڈ ہو کر آیا۔ اب اس کے پاس اتھارٹی تو نہیں رہی تھی مگر اس کا خمار موجود تھا۔ چنانچہ ایک دن اس کی بیوی نے اس کے نام کے ساتھ صوبیدار صاحب کا سابقہ استعمال کیے بغیر اس کا سیدھا سیدھا نام لے لیا۔ پھر کیا تھا صوبیدار صاحب طیش میں آ گئے اور بیوی کو تھپڑ رسید کرتے ہوئے بولا: ”میرے چالیس سال کی نوکری میں میرے ماتحتوں نے آج تک میرا نام نہیں لیا۔انھوں نے ہمیشہ میرے نام کے ساتھ صوبیدار صاحب پکارا ہے اور تمہاری جرأت کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے ہیں ابھی اور مجھے خالی نام سے پکار رہی ہو!“
یہ دیکھنا مشکل نہیں کہ اس کیس میں اتھارٹی کے نقاب نے شوہر کی ذات پر قبضہ کیا ہوا ہے جس سے وہ خود کو چھڑا نہیں پا رہا۔ بالکل اسی طرح اب قارئین اپنی زندگی، تجربے اور معاشرتی تناظر میں سے ایسی مثالیں تلاش کر کے اپنی وجودی حالت کی بہتر فہم حاصل کر سکتے ہیں۔
مندرجہ بالا انفرادی مثالیں ان افراد کی ہیں جو اندر سے کمزور ہونے کی بناء پر باہر سے اپنی ذات کی تکمیل کر رہے تھے۔ ایسے رویوں کا تجزیہ کرتے ہوئے سوئس نفسیات دان کارل ژونگ اہم بات کہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے آفس یا ٹائٹل میں بے حد جاذبیت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے زیادہ تر مرد محض معاشرے میں ڈھکوسلے اور دکھاوے کے سوا کچھ نہیں ہوتے ہیں۔ ایسا مرد ایک طرح کا چھلکا ہوتا ہے جس کے اندر لوگ شخصیت تلاش کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسے چھلکے کے اندر سوائے ایک قابل رحم مخلوق کے کچھ نہیں ہوتا۔ چونکہ یہ انسان اندر سے بہت کمزور ہوتا ہے، اس لئے آفس کا عہدہ اس کی ذاتی محرومیوں اور کمزوریوں کا مداوا کرتا ہے۔ ژونگ کا یہ مشاہدہ بہت حد تک ہمارے لاشعور میں کارفرما عوامل اور عناصر کو بہترین طریقے سے بیان کرتا ہے۔
اب ہم اس نظری نکتے کا معاشرے کے اوپر اطلاق کر کے دیکھتے ہیں کہ اس کے کیا عمرانی مضمرات ہو سکتے ہیں۔ کمزور معاشرے کی سب سے بڑی کمزوری اس کا کمزور ہونا ہی ہے۔ یہی کمزوری تمام معاشرتی بیماریوں کی جڑ ہے۔ معاشرے میں تبدیلی لانا مشکل اسی وجہ سے ہے کیونکہ جب آپ اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو لوگ آپ پر ان کی جڑیں کاٹنے کا الزام لگاتے ہیں۔
وہ لوگ جو آپ کو ثقافتی جڑوں سے جوڑے رکھنے پر مجبور کرتے ہیں وہ دراصل کھوکھلے درخت کو کلچر اور اقدار کا نام دے کر حفاظت کرتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ انہیں اپنے متعلق سوچنے اور فیصلہ کرنے کی آزادی ملے کیونکہ کمزور کے لئے آزادی ایک خوفناک کیفیت ہے۔ آزادی ہمیں خود عملی اور اپنی زندگی کی معنی پیدا کرنے کے لئے موقع فراہم کرتی ہے مگر جب ہم اپنے اندر جھانکتے ہیں تو اپنے اندر اپنے سوا ہر کوئی نظر آتا ہے۔ ہمارے اندر ایک ہجوم بھرا ہوا ہے۔ واحد چیز جو ہم میں نظر نہیں آتی، وہ ہم خود ہیں۔ حتیٰ کہ ہماری ذات میں ہم نہیں لوگ بول رہے ہوتے ہیں بلکہ لوگ بول رہے ہوتے۔ ہیں۔ یوں ہماری ذات مستعار کی زندگی گزار کر نابود ہو جاتی ہے۔ اس بے ذات وجودی حالت کی وجہ سے ہم وجودی وحشت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وجود کے اس خوف سے بچنے کے لئے ہم کبھی دوسری شخصیات، چیزوں، ہیروز، ریاست، قومیت، مذہب اور ماورائی مخلوقات میں پناہ لیتے ہیں۔
اس سوال کا جواب پانے کے لیے کہ آخر ہم آزادی سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں، ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آزادی انسان کے لئے اس لئے ایک خوفناک وجودی صورتحال ہے، کیونکہ وہ اسے دلاسوں کی آرام دہ بہشت سے نکال کر وجودی حقیقت کے جہنم میں پھینک دیتی ہے۔ اس لئے ہم ہر لمحہ اپنے آپ سے فرار چاہتے ہیں تاکہ ہم حقیقت کی تپش سے بچ سکیں اور جھوٹ کی ٹھنڈی جنت میں پناہ لے سکیں۔ یہ سارے جھوٹے آدرش، کوششیں اور جعلی اعمال انسان اپنی ذات کو اس آزادی سے بچانے کے لئے کرتا ہے جو اسے خود سے سوچنے اور فیصلہ کرنے کے قابل بنا دیتی ہے۔
یوں ایسا معاشرہ اور شخصیت دائمی طور پر عہد طفلی میں رہتا ہے۔ بعض اوقات یہ وجودی بے بسی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ہم رجعت کر کے ایک ایسے ماحول میں رہنے خواہش کرتے ہیں جس میں رحم مادر کی طرح محفوظ اور آرام دہ ماحول ہو۔ اسی لئے تو ہم آگے بڑھنے سے اور اپنے زمانے کو دیکھنے سے ڈرتے ہیں اور ماضی کی طرف رجعت کرتے ہیں اور اس میں پناہ ڈھونڈ کر حال کا حل نکالتے ہیں۔ ایسے ہی رویوں سے ہی رجعت پسندی جنم لیتی ہے۔
ہماری مثال اس نوزائیدہ بچے کی سی ہے جو پیدا ہونے کے بعد عمر کے ہر حصے میں پیدائشی ناف (umbilical cord) سے خود کو الگ کرنا نہیں چاہتا کہ وہ کہیں بھوکا نہ مر جائے۔
یہی وجہ ہے کہ ہم پچھلے 700 سالوں سے فکری اعتبار سے عہد طفلی میں ہی جی رہے ہیں۔ اگر ہمیں دنیاوی و روحانی طور پر مضبوط اور فکری طور پر بالغ ہونا ہے تو اس ناف کو کاٹنا پڑے گا۔ ورنہ ہمارا ذہن کسی اور خوراک کو ہضم کرنے کا قابل نہیں رہے گا اور ہم اکیسویں صدی بھی ذہنی عہد طفلی میں گزاریں گے۔


