نہیں، نہیں، مجھے فیمینسٹ نہ کہیے!
ٹی وی سکرین پہ ایک خود مختار اور با اعتماد عورت کے منہ سے یہ دفاعی الفاظ سن کے ایسا محسوس ہوا کہ ان کا مفہوم کچھ یوں ہو، نہیں، نہیں، مجھے دیوانہ مت کہیے، نہیں، نہیں، مجھے نام و نمود کی کوشش میں نعرے باز عورت مت سمجھیے۔ مجھے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بناتی، فہم و شعور سے عاری ایک کردار مت سمجھیے۔ مجھے پتی ورتا عورتوں کو اکسانے والی باغی عورت مت سمجھیے۔ مجھے مردوں سے نفرت کرتی ہوئی مادر پدر آزاد عورت مت سمجھیے۔
ہمیں لگا کہ کہیں دال میں کالا ضرور ہے جو ہر تعلیم یافتہ، مراعات شدہ، ہر طرح سے خود مختار عورت لفظ فیمینسٹ کو سن کر بدکتے ہوئے ایسے منہ بناتی ہے جیسے قے ہونے کو ہو۔ آخر کیا راز ہے اس لفظ میں؟
کچھ دیر غور و فکر کے بعد سمجھ میں آیا کہ یہ سب ان زہر بجھے القابات کا نتیجہ ہے جو ایک پروپیگنڈا کے تحت معاشرے کے بیشتر طبقات، مردوزن سمیت استہزائیہ لہجے ان خواتین کی طرف اچھالتے ہیں جو عورتوں کے ساتھ معاشرے میں روا زیادتیوں کے خلاف نعرہ حق بلند کرتی ہیں۔
”لبرل آنٹی، فیمنسٹ آنٹی، لنڈے کی لبرل، مغرب زدہ لبرل، بے راہ رو عورت، جنسی آزادی کی شائق“
کیا آپ جانتے ہیں کہ روح میں پنجے گاڑتے ان بچھو نما الفاظ کو سن کر بھی ہم فیمینسٹ ہونے کے دعوے سے دستبردار کیوں نہیں ہوتے؟ کیوں برسوں سے انگلیاں فگار کیے بیٹھے ہیں؟
ہمارا مسئلہ کیا ہے آخر؟ ہم تو تعلیم یافتہ بھی ہیں، معاشی طور پہ خود مختار بھی، انکار کرنا بھی جانتے ہیں اور احتجاج کا حوصلہ بھی ہے، پھر کیا آگ طاہرہ کاظمی کے تن کو سلگائے جاتی ہے کہ الزام و دشنام کا نشانہ بننے کے لئے ہر وقت سر پہ کفن باندھے کھڑی ہے۔
سنیے، ہم مقروض ہیں!
ہم مقروض ہیں، ان گنت بچیوں، لڑکیوں اور عورتوں کے جن کی خاموش آہوں کو ہم ایک زمانے سے سن رہے ہیں، جن کی آواز نکلنے سے پہلے ہی ان کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔
ہمیں قرض اتارنا ہے ان بے شمار بچیوں کا جو ہمارے عہد میں ہمارے ساتھ اس دنیا میں اتاری گئیں لیکن جنہوں نے حسرت بھری نظروں سے ہمیں سکول جاتے دیکھا۔
ہم شرمندہ ہیں ان لڑکیوں سے جن پہ کتابیں پڑھنے کے باب پہ قفل یہ کہہ کے لگا دیا گیا کہ عورتوں کے لئے نام لکھ لینا ہی کافی ہے۔
محلے کی لڑکیوں کی وہ سوال بھری نظریں کیسے بھولیں جو ہمیں بے باکی سے اپنے خیالات کا اظہار اور کبھی سرزنش نہ ہوتے دیکھ کے سر جھکا لیتیں۔
خاندان میں بہت سی لڑکیوں کے چہروں پہ پھیلی حیرت و استعجاب تو ذہن سے محو ہوتا ہی نہیں، جب ہم میڈیکل کالج میں پڑھنے گئے اور ہمیں گھر سے خوشی خوشی ہوسٹل بھیجا گیا۔
ہم یاد کرتے ہیں میڈیکل کالج کے ہوسٹل کے عقب میں رہنے والی مہترانیوں کو جو اپنے جیسی عورتوں کی غلاظت اٹھانے کے لئے ان کے کمروں تک آتی تھیں مگر ان جیسا نہیں بن سکتی تھیں۔
ہم اداس ہوتے ہیں ان بے شمار مریض عورتوں کو یاد کرتے ہوئے جو دور دراز علاقوں سے ہسپتال علاج کے لئے آتی تھیں۔ اور وارڈز میں گھومتی چہکتی پھرتی طالبات کو نقاب کی اوٹ سے چپکے چپکے دیکھ کے سوچتی تھیں یہ عورتیں کس خالق کی مخلوق ہیں؟
ہماری آنکھ نم ہو جاتی ہے ان عورتوں کے چہرے تصور کرتے ہوئے جو پولیس کی تحویل میں ریپ کیس کے بعد اپنا معائنہ کروانے آتی تھیں۔ آنکھوں کی ویرانی، چہرے کی بے چارگی اور وحشت ہم سے پوچھتی تھی، کرسی پہ بیٹھی عورت، تم کون ہو؟
ہمیں شرمندگی ہوتی ہے ان دنوں کی یاد میں جب ہم پاکستان بھر میں جرنیلی سڑک کے ساتھ ساتھ سفر کرتے۔ جہاں کہیں اینٹوں کا بھٹہ نظر آتا، تجسس کے مارے، اینٹیں بنتے دیکھنے کی چاہ میں گاڑی رکوا دیتے۔ خوب یاد ہے کہ وہاں کام کرتی عورتیں آہ بھرتے ہوئے ہمیں دیکھتیں۔
ہمیں وہ دن یاد آتے ہیں جب کپڑوں پہ بیل بوٹوں سے نقش و نگار بنانے والیاں ہمارے بنگلے کے برآمدے میں بیٹھ کر اپنی آنکھوں کی عرق ریزی سے کاڑھے ہوئے کپڑے دکھا کے امید بھری نظروں سے بیگم صاحبہ کی طرف دیکھتی تھیں کہ شاید آج کچھ بھاؤ اچھا لگ جائے اور شام کو گھر کا چولہا جل اٹھے۔ اور ارد گرد بچے ہنڈیا سے اٹھتی خوشبو سونگھ کے ہنستے ہوئے کہیں، آج ہماری اماں کو مزدوری ملی ہے نا۔
ہمیں اماں کے گھر آنے والی ملازمہ کبری کی وہ بیٹی خواب میں آتی ہے جس کی شادی اس نے بڑے ارمانوں سے کی تھی۔ کچھ ہی مہینوں کے بعد جب وہ چولہا پھٹنے سے جھلس کے مر گئی، تب کبری بی بی نے اس خبر کے بعد جس نظر سے ہم بہنوں کو دیکھا تھا، وہ ایک شکوہ ہی تو تھی۔ خدایا میری بچی ہی کیوں؟
اور وہ بچی اقرا، جس کی ماں گھر گھر کام کر کے اپنا اور بچوں کے پیٹ کی آگ بجھاتی۔ وہ جب بھی ہمارے گھر آتی، اگر ہمارا سفید کوٹ کہیں لٹکا ہوا دیکھ لیتی، چپکے سے اس کو آہستگی سے چھوتی، پھر اس پہ آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ پھیرتی۔ اس وقت وہ سفید کوٹ اس کی آرزوؤں کا محور بھی بنتا اور حسرتوں کا مزار بھی۔
جھلستی دوپہر میں پانی بھرے کھیتوں میں جھک کے چاول کی پنیری لگاتی بے زبان عورتیں، جو دور کسی اور دنیا کی عورت کو ڈاکٹر کے روپ میں گاڑی چلاتے دیکھ کر حسرت سے سر جھکاتیں اور پھر سے پنیری گاڑنا شروع کر دیتیں۔
ہسپتال میں جاں بلب عورتیں جو زندگی کی آخری سانسیں لے رہی ہوتیں اور شریک حیات ایک خون کی بوتل کا عطیہ دینے سے انکاری ہوتا۔
خاوندوں سے پٹتی، طلاق کے بعد بے آسرا ہوتی، الزامات کی سنگ باری سہتی، ہر حکم پہ سر جھکاتی، نا انصافی کی چکی میں پستی، وراثت سے محروم ہوتی، کم عمری میں حریص بڈھوں کے ساتھ زندگی بسر کرنے پہ مجبور ہوتیں اور شب و روز مشقت کرتی عورتیں کیا ہم جیسی انسان نہیں تھیں؟ کیا ان کا دل اپنی ناتمام تمناؤں اور آرزوؤں کے لئے تڑپتا نہیں تھا؟ آخر ہمارے لئے زندگی آسان کیوں تھی اور بے شمار کے لئے ایک عذاب کیوں؟
صاحب یہ عورتیں ایک روگ ہیں جو اہل احساس اور درد ہی سمجھ پاتے ہیں۔ جان لیجیے کہ وہ تمام عورتیں جو اس نظام کا ایندھن بنیں یا بن رہی ہیں، اور اپنی آواز اٹھانے سے قاصر ہیں، ان کی ان کہی کو الفاظ کا روپ دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا چھوڑتے وقت مقروض ٹھہریں گے اگر ہم نے ان کے شکستہ خوابوں کو بیان نہ کیا، اگر ہم نے ان کے انسان ہونے کا اعلان نہ کیا، اگر ہم نے ببانگ دہل یہ نہ کہا کہ ہاں ہم فیمینسٹ ہیں!

