میں سوشلسٹ ہوں لیکن فیمینزم کی تحریک کی حامی ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


میرا جسم میری مرضی۔ ایک بھرپور آزادی سے لبریز یہ نعرہ بہت سے تنازعات کا شکار رہا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ ایک استحصالی نظام میں جب بھی جسم یا آزادی کی بات ہوتی ہے تو ذہنی پستی کی تان جنسی تعلق پر ہی ٹوٹتی ہے۔ اس کی بہت ہی اہم وجوہات بھی ہیں۔ کھانا کھانا اور جنسی تعلق بنانا محض جبلتیں ہیں جو کہ زندہ رہنے اور نسل بڑھانے کے کام انجام دیتی ہیں، لیکن درحقیقت تسکین کا ذریعہ نہیں ہوتیں۔ یہ محض بنیادی ضرورتیں ہیں۔

انسان کی فطری تسکین اس کی تخلیقی قوتوں میں ہے۔ یہ تخلیقی قوتیں انسان کی ذہنی صلاحیتوں اور محنت میں پوشیدہ ہیں۔ ایک استحصالی معاشی و سماجی نظام میں چونکہ انسانی محنت اس کے اوپر بوجھ کی طرح لاد دی جاتی ہیں، اس کی ذہنی صلاحیتیں چند طاقتور افراد کے ہاتھوں یرغمال ہوتی ہیں اور انسان چند سکوں کے عوض غیر انسانی حد تک اپنی یہ تخلیقی صلاحیتیں جوت دیتا ہے تو وہ اس تھکاوٹ کے باعث اپنی اسی تخلیقی قوت سے بیگانگی اختیار کر کے اس محنت میں آر محسوس کرنے لگتا ہے اور قدرتی نظام کے برعکس حیوانی خصوصیات یعنی بنیادی ضرورتوں مثلاً کھانا کھانے اور جنسی عمل کرنے میں تسکین محسوس کرنے لگتا ہے۔

چونکہ روایتی معاشرے میں انسان جنسی جبلت میں بھی آزاد نہیں ہوتا تو آزادی سے سیدھا مطلب صرف وہ جنسی آزادی کو ہی سمجھنے لگتا ہے۔ اور انسان یہ سمجھنے سے قطعاً قاصر ہوتا ہے کہ جس محنت اور ذہنی صلاحیت میں اس کی اصلی تسکین اور تکمیل ہے جس کو یرغمال کر کے اسے حیوانیت کے قریب کر دیا گیا ہے تو آزادی سے مطلب دراصل اسی محنت اور ذہانت کی آزادی ہے۔ جسم محض ایک گوشت ٹکڑا یا جنسی خواہشات کی آماجگاہ نہیں ہوتا۔ اس میں سوچنے، دریافت کرنے اور ترقی کرنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔

کسی بھی ادارے یا افراد کو کسی دوسرے کی منزل مقصود کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں۔ ہم سب کو بحیثیت انسان، جسم کو صرف جنسی مشین ہی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اسے ایک مکمل وجود کی حیثیت سے آزادی کا حق صرف جنسی خواہشات کے تصور کے تحت نہیں دینا چاہیے بلکہ ان تمام حقوق کا حق دار سمجھنا چاہیے جو بطور انسان کسی بھی فرد کو ملنے چاہئیں۔

جہاں عورت کی آزادی کی بات آتی ہے تو ایک سماجی انتشار کی صورتحال جنم لے لیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عورت آزاد نہیں ہو گی تو کیا اس سے جنم لینے والا مرد آزاد ہو سکتا ہے؟ کیا وہ غلام نہیں کہلائے گا؟ میں بذات خود ہرگز بھی فیمینسٹ نہیں۔ میں ایک سوشلسٹ انسان ہوں اور بحیثیت ایک سوشلسٹ میں انسانوں میں کسی بھی حوالے سے تفریق کی قائل نہیں۔

ایک سوشلسٹ ہر طرح کی منافرت، تفریق اور ظلم کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ سوشلسٹ نظریہ کے تحت انسان محض انسان ہے اور بحیثیت انسان سب انسان برابر ہیں اور انسان کی آزادی صرف استحصالی نظام کے خاتمے میں ہی ممکن ہے مگر اس فیمینزم سے بنیادی اختلاف کے باوجود میں تمام فیمینسٹ ریلیوں کے حق میں ضرور آواز بلند کرنا چاہوں گی کہ یہ ریلیاں بہرحال معاشرتی ناہمواری کے خلاف علم بغاوت تو بلند کر رہی ہیں اور یہ علم بغاوت ہی انقلاب کی اصل بنیاد ہے۔

ہمارے معاشرے میں مرد بھی آزاد نہیں۔ معاشی دباؤ اور پالتو جانوروں کی طرح انسانی معیار سے گر کر محنت کرنا مرد کے حد درجہ استحصال کی طرف واضح اشارہ ہے۔ مگر ہمارے ہاں عورتیں دہرے استحصال کا شکار ہیں۔ ایک استحصال معاشی ہے اور دوسرا معاشرتی۔ اس استحصال کا حل کسی ادارے یا فرد کے پاس نہیں۔ استحصال اس نظام کی جڑوں میں پیوست ہے جس میں ہر جنس سانس لینے پر مجبور ہے۔ یہ انسانوں میں مذہب، نسل، طبقے اور جنسی بنیادوں پر تفریق کو بڑھاوا دیتا ہے۔

ہمارا معاشرہ ایک ایسا پیچیدہ معاشرہ ہے جس میں سرمایہ داری استحصال کے ساتھ دنیا سے متروک شدہ جاگیرداری نظام کی فرسودہ روایات بھی انسانوں پر بدترین انداز میں ظلم ڈھا رہی ہیں۔ جاگیرداری روایات کے شکار اس نظام میں شہری معاشرے عجیب کشمکش کا شکار ہیں جس میں سرمایہ داری ظلم کے ساتھ جاگیردارای آمرانہ رویے نے معاشرے کو مزید بدصورتی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ جاگیردارانہ ان رویوں نے سب سے زیادہ عورت کو روایات کے نام پر دبایا ہے۔ گو کہ اس استحصال سے نجات موجودہ نظام کا مکمل خاتمہ ہی ہے اور اس کا حل کسی ایک ادارے یا فرد کے اختیار میں نہیں مگر فیمینسٹوں کی جدوجہد عورتوں کے حق میں بہت سے ترمیمی ایکٹس کا باعث بن سکتی ہے اور معاشرے میں عورتوں کی بہتر سماجی حیثیت کا سبب بن سکتی ہے۔

گو اس معاشرے کا معاشی نظام بلا تخصیص مرد اور عورت دونوں کا استحصال کرتا ہے جس سے ایک خاص استحصالی معاشرتی نظام جنم لیتا ہے جس میں مرد بھی بحیثیت غلام ہی وجود رکھتا ہے مگر میری معمولی رائے کے مطابق ہم ایک مردانہ معاشرے میں رہتے ہیں جسے صاف الفاظ میں پدرسری نظام کہا جاتا ہے۔ ایسے نظام میں مرد کا باشعور ہونا بہت ضروری ہے۔ اپنے معاشرے کے اگر ہم ان گھروں کا جائزہ لیں جہاں عورت کی سماجی حیثیت قابل رشک ہے تو ہم دیکھیں گے کہ اس گھر کا مرد پہلے باشعور ہوا اور انفرادی طور پر انقلابی تبدیلی کا باعث بنا۔

گویا اس مردانہ بالادستی والے معاشرے میں جہاں مرد بھی یرغمال ہی ہے ، بھلا عورت کیسے آزاد ہو سکتی ہے۔ محض عورت کی آزادی ہی نہیں ہمیں اجتماعی طور پر انسانی آزادی کی تحریک کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جس کی معاشی اور معاشرتی بنیادیں بلا تخصیص عدل پر قائم ہوں۔ جس معاشرے میں کسی مذہب، کسی رنگ، کسی نسل، کسی طبقے، کسی عورت ، کسی مرد کے حقوق کے حوالے تفریق ہی نہیں ہو گی۔

اس تفریق کو نظام قدرت کہنے والے نہ صرف ظالم ہیں بلکہ کم علم بھی ہیں۔ نظام قدرت دیکھنا ہے تو قدرتی آفات کو دیکھیں جو بلاتخصیص سب پہ یکساں آتی ہیں، اگر عورت کم تر ہوتی تو عورت کے بطن میں پایا جانے والا نطفہ پہلے عورت نہیں ہوتا اور مرد کو ایک سپرم سے مکمل انسان بنانے والی ہستی ایک عورت نہ ہوتی۔ نظام قدرت دیکھنا ہے تو جانوروں کو دیکھیں ، جہاں کہیں کوئی امیر غریب، چھوٹا بڑا یا مذکر مؤنث کی بنیاد پر حق تلفی نہیں کرتا بلکہ مادہ کی حیثیت زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے۔

استحصال کو نظام قدرت گرداننے والوں سے گزارش ہے کہ نظام قدرت کا احاطہ سائنسی مطالعہ سے ہی ممکن ہے اور سائنسی بنیادوں پر قدرت نے کوئی تفریق کہیں نہیں برتی۔ ہمیں کسی بھی تبدیلی کے لیے پہلے مکمل طور سے سماجی اور معاشی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ورنہ کسی بھی معاشرتی ناہمواری کے خلاف اٹھنے والی تحریکیں اسی طرح انتشار کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ تنازعات کا بھی شکار ہوتی رہیں گی اور استحصالی قوتیں ہر بار پہلے سے زیادہ اشتعالی عناصر کی مینوفیکچرنگ تیز تر کر دیں گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments