جامعہ نمل کی پگڈنڈیوں پر علم کی خوشبو
انٹر کے پیپر دینے کے بعد ، ایک سال کے دورانیے میں گھر والوں سے درجنوں جھگڑے ہوئے، ان کے لیے کبھی میں مستقبل کا ڈاکٹر تھا تو کبھی فزیسٹ، جب کہ میں رہا لٹریچر کا شیدائی۔ پانچ جامعات کی تردید، کبھی من پسند فیلڈ نہ ملی تو کبھی یونیورسٹی اور گھر کے درمیان فاصلہ انکار کا موجب بنا۔ آخر کار لٹریچر کا خواب لیے دیوانے کو جامعہ نمل نے پناہ دے ہی دی۔
یہ درست ہے کہ جب انسان کا وقت برا چل رہا ہو تو وہ ماضی پرست بن جاتا ہے۔ ہماری اکثریت غریب ہے ، اسی لیے ماضی پرست بھی ہے۔ والدین سمجھتے ہیں کہ ان کا دور یعنی ماضی اچھا تھا جب ڈاکٹر اور انجینئر پیدا ہوتے، کام کرتے، پیسے کماتے، کامیاب ہوتے اور مر جاتے تھے جب کہ آج کے بچے یہ سمجھ چکے ہیں کہ کامیابی معیشت میں کم اور سکون دل میں زیادہ ہے۔ لیکن یہ بات ہر کوئی سمجھنے سے قاصر ہے۔ والدین بچوں کا بھلا سوچتے ہوئے ان پر اپنی مرضیاں تھوپتے ہیں، یہ نہیں سوچتے کہ اس میں ان کا واقعی ان کا بھلا ہے بھی یا نہیں۔
ایسا کرنا درست بھی ہے اور غلط بھی۔ درست ایسے کہ ہمارے بچے اتنے تربیت یافتہ تو ہیں نہیں کہ مستقبل کے لیے اپنا کوئی فیصلہ لے سکیں اور وہ بھی درست فیصلہ۔ ایسا کرنا غلط ان بچوں کے لیے ہوتا ہے جو اپنی عمر کے مطابق میچور اور باشعور ہوتے ہیں۔ جنہیں سوچنے اور پرکھنے کا علم ہوتا ہے کہ کون سا قدم ان کے لیے فائدہ مند ہے اور کون سا بے فائدہ۔
میں نے خود کو دوسری فہرست میں رکھا، اپنے موقف کے لیے جنگ لڑی اور اپنا فیصلہ خود لیا۔ لٹریچر کا شیدائی بچپن سے تھا، عرصہ دراز سے میری تنہائی کا ساتھی مطالعہ اور فراغت کا ساتھی قلم اور کاغذ رہا ہے۔ دل کی باتیں اپنے بڑوں کو سمجھانا مشکل ضرور ہوتا ہے مگر ناممکن تو نہیں، یہی سوچتے ہوئے میں نے گھر والوں کو بڑے مدلل بیان سے قائل کیا اور مستقبل کی طرف گامزن ہوا۔
فروری کی بائیس تاریخ کو صبح آٹھ بجے جامعہ نمل میں اورینٹیشن سیشن تھا۔ اس سیشن میں طالب علموں کو، جو کہ مختلف جگہوں سے پڑھ کر آئے ہوتے ہیں، یونیورسٹی کے ماحول سے جان پہچان کرائی جاتی ہے، چوں کہ یونیورسٹی سکول اور کالج کی نسبت بڑی ہوتی ہے ، اس لیے بتایا جاتا ہے کہ فلاں ڈپارٹمنٹ کدھر ہے اور فلاں دفتر کدھر، جی پی اے ( Grade point average) ، سی جی پی اے (Cumulative Grade point average) اور کالج و یونیورسٹی ایجوکیشن میں کیا فرق ہے، اس پر گفتگو کی جاتی ہے۔
اورینٹیشن سیشن کے لیے گاؤں سے صبح پانچ بجے کی گاڑی سے نکلا۔ یہ وہ وقت تھا جب میں جاگ رہا تھا یا پھر پھر گاؤں کے مرغ۔ نو بجے اسلام آباد پہنچا، لیٹ سہی مگر پہنچ گیا۔ اورینٹیشن سیشن جناح آڈیٹوریم میں تھا۔ آڈیٹوریم کی طرف گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آڈیٹوریم جس بلاک میں ہے وہ بلاک ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام واحد ایسے پاکستانی ہیں جنہیں ویک نیوکلیئر فورس اور الیکٹرو میگنیٹک فورس کو اکٹھا کرنے (الیکٹرو ویک یونیفیکیشن تھیوری) کے اعزاز میں نوبل پرائز ملا۔ ان کی یہ تحقیق ہگز بوسون پارٹیکلز ( 2012 ) کی دریافت کا موجب بنی جسے ان ذرات کی فہرست میں رکھا جاتا ہے جو کہ اس کائنات کی تخلیق کا اہم حصہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ انہیں ان کے عقیدے کی وجہ سے اہل وطن اچھا نہ سمجھتے تھے، جس کی وجہ سے انہیں ملک چھوڑنا پڑا۔
یونیورسٹی کا ایک بلاک اس ہیرو کے نام پر ہونا یونیورسٹی کے روشن خیال ماحول کی علامت ہے جس میں لوگوں کے کام کو دیکھا جاتا ہے، مذہب یا عقیدے کو نہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ اگر آپ معاشرے کو امن پسندی کی طرف لانا چاہتے ہیں تو آپ کو تعلیم عام کرنا ہو گی۔ علم پسند لوگ اتنے نفیس ہوتے ہیں کہ انہیں جنگ کی دھول سے زیادہ امن کی ٹھنڈی ہواؤں سے پیار ہوتا ہے، انہیں انسان کے خون کی بو سے خوف آتا ہے تب ہی تو وہ سیاہی کی خوشبو کو سونگھتے اور اس سے حظ اٹھاتے ہیں۔ انہیں کیا لگے کہ فلاں ہمارے مذہب کا ہے یا فلاں ہماری تہذیب کا نہیں، ہم تو انسان کی پہچان اس کے کردار اور معاشرے میں اس کی شراکت سے کرتے ہیں۔ یہی تو ترقی پسند معاشرے کی علامت ہے۔
انسان اپنی چھوٹی سی عمر میں کیا کیا خواب دیکھتا ہے۔ میں نے بھی ایک خواب دیکھا ہے، ایسا خواب جس میں دنیا میں ہر سو امن ہو، کسی کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ یہ میری آواز نہیں ، میرے خوابوں کی آواز ہے۔ مجھ جیسے کئی نوجوانوں کی آواز ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ آرٹسٹ کو اس کے مذہب سے زیادہ اس کے آرٹ سے پہچانا جانا چاہیے۔
یونیورسٹی نے اس آرٹسٹ کو یاد رکھا، یہ عمل قابل تعریف ہے۔
یونیورسٹی کا دورہ ختم ہوا تو دیوانے نے تیس روپے کا میٹرو کا ٹکٹ خریدا اور پورے اسلام آباد کی سیر کی۔ دور سے فیصل مسجد، سینٹورس مال اور شکر پڑیاں کا نظارہ لیا۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ میٹرو کا ایک سٹیشن ”فیض احمد فیض“ کے نام پہ رکھا گیا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک روحانی منظر تھا۔ سٹیشن پہ کانوں میں فیض کے نام کی آواز کیا پڑی کہ گلوں میں رنگ بھر آئے اور فضاء میں بہار کھل اٹھی۔ میٹرو سے اترا اور گاؤں کی طرف چل دیا۔
اور آج انگریزی ادب کے ڈیپارٹمنٹ کے نیچے لان میں بیٹھا صد برگ کے پھولوں کی خوشبو میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں اور یہ مشاہدہ کر رہا ہوں کہ
نمل کی پگڈنڈیوں پر
محبت کو کوئی خطرہ نہیں ہے


