نظام کی اجتماعی نماز جنازہ ضروری ہے
اللہ تعالیٰ نے جب نافرمانی کی پاداش میں ابلیس کو ملعون اور مردود قرار دیا تو اس پر لعنت برسانے کو حج کا حصہ بنا دیا ، اب لاکھوں حجاج کرام ہر سال تین مقامات پر شیطانوں کو کنکریاں مار کر لعنت برسانے کے عمل کی تکمیل کرتے ہیں اور اس طرح اس کے ”مزید“ ملعون ہونے کی تجدید بھی ہوتی رہتی ہے۔
ایرانی قوم جب اپنے شاہ (رضاشاہ بہلوی) کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی جو اس خطے میں امریکی استعمار کا سب سے بڑا نمائندہ تھا اور جو سمجھتا تھا کہ اس کی نجات امریکہ کو خوش رکھنے میں ہے تو پوری ایرانی قوم کے لبوں پر ”مرگ بر شاہ“ کا نعرہ آ گیا اور ایران کی فضائیں ”مرگ بر شاہ“ کی پرجوش آوازوں سے گونجنے لگیں۔ جب ایک کلمہ لاکھوں لوگ ادا کر رہے ہوں تو اس کو ایک دعائیہ حیثیت حاصل ہو جاتی ہے اور بارگاہ ایزدی میں اسے سند قبولیت عطا ہوتی ہے۔
دنیا نے دیکھا کہ ”مرگ بر شاہ“ کی دعا اس طرح سنی گئی کہ غیروں کی خاطر اپنی قوم کے بیٹوں کو خاک و خون میں غلطاں کرنے والا فرعون صفت شاہ ملکوں ملکوں پھرتا رہا لیکن کوئی بھی ملک اپنی قوم کے مجرم اس آمر کو پناہ دینے پر تیار نہ ہوا۔ حتیٰ کہ امریکہ نے بھی جس کی خاطر اس نے اپنے ہم وطنوں کو برسہا برس تعذیب کی چکی میں پسوایا ، اس طرح آنکھیں پھیرلیں کہ جیسے اس کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی اور پناہ دی بھی تو کس نے ایک اور آمر، مصر کے انوار السادات نے جہاں وہ بہت کم عرصہ زندہ رہ سکا اور جلد ہی اس کے گناہوں کا حساب لینے کے لئے خالق حقیقی نے اسے اپنے پاس بلا لیا۔
اس کے بعد امریکہ نے ایرانی قوم کو تختۂ مشق بنانے کی کوشش کی تو ایرانی قوم ”مرگ بر امریکہ“ کے نعرے کے ساتھ پلٹ کر حملہ آور ہو گئی اور ایرانی قوم کا ردعمل اس قدر شدید تھا کہ تمام تر تیاریوں کے باوجود امریکہ کو ایران پر حملے کی جرأت نہ ہو سکی۔ ایرانی قوم کے تیور خطرناک دیکھ کر امریکہ کو اپنے ”دیرینہ دوست“ پاکستان کا خیال آیا جہاں اس کے لئے قسمت آزمائی کے لئے کھلا میدان میسر رہا ہے۔ افغانستان میں امریکہ کی جنگ لڑ کر پاکستان کو ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں اور عام شہریوں کی جانوں کا نذرانہ دینا پڑا جبکہ کھربوں ڈالر کی سڑکیں اور انفراسٹرکچر تباہ کروایا مگر امریکہ خوش نہ ہوا۔
حالانکہ ہمارے حکمرانوں نے اقتدار کے لیے امریکہ کی ہر جائز و ناجائز خواہش کی تکمیل کو جزو ایمان بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق سے بڑی محبت ہے اور جب انسانوں پر دوسرے انسانوں کے مظالم حد سے بڑھنے لگیں تو پھر کارکنان قضا و قدر حرکت میں آتے ہیں اور انہونے واقعات کے ذریعے ظالموں کی رسی کھینچ لی جاتی ہے۔ وطن عزیز پاکستان کی صورتحال بھی ایسی ہو چکی ہے کہ ہر شہری کا سکون غارت ہو چکا ہے ، لگتا ہے شیطان نے حکمرانوں اور اپوزیشن کو باؤلا کر دیا ہے۔
دشمن تاک میں ہے اور دہشت گردی کی کمر ٹوٹنے کے بعد پھر جڑتی دکھائی دیتی ہے۔ قوم جو چاہتی ہے وہ ہو نہیں پاتا۔ لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں انصاف ناپید اور ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ والا نظام نافذ ہو گیا ہے۔ مگر پاکستانی قوم کی طرف سے ”مرگ بر شاہ“ قسم کا کوئی نعرہ بلند نہیں ہو رہا حالانکہ خدائی قہر کو آواز دینے کے لئے اب اجتماعی آواز بلند کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس لئے جہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ اس بدبودار نظام سے نجات کے لئے سیاسی جدوجہد کی جائے وہیں اس کے خاتمے کے لئے دعائیہ اہتمام بھی ضروری ہے۔
اس ضمن میں ایک تجویز ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دن اور وقت مقرر کر کے پوری قوم سے اس نظام کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کرنے کی اپیل کریں۔ باقاعدہ جنازے اٹھائے جائیں اور اس نظام کی ایک اجتماعی قبر بنائی جائے جس پر ہر گزرنے والا جوتے برسائے۔
تجویز ہے کہ لاہور اقبال پارک میں مینار پاکستان کے سائے میں اس نظام کی ”مرکزی“ قبر بنائی جائے جہاں جمہوریت کے پرستار لوگ باقاعدہ حاضری دیں اور جوتے ماریں۔ علامتی قبریں ہر شہر میں بنائی جائیں جہاں عوام حسب توفیق ان قبروں کی ”چھترول“ کیا کریں۔
ہمیں پوری توقع ہے کہ جب پوری قوم اس نظام کے جنازے اٹھائے گی اور ”مرگ بر شاہ“ کے نعرے پاکستان کی فضاؤں میں گونجیں گے تو ان شاء اللہ قوم منزل مقصود بہت جلد پا لے گی۔


