سینیٹ چئیرمین انتخاب 2021: صادق سنجرانی کون ہیں؟
پاکستان میں جمعے کو سینیٹ کے چئیرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے سلسلے میں انتخابات منعقد ہوئے جس میں حکومت نے موجودہ چئیرمین صادق سنجرانی کو اسے عہدے کے لیے دوبارہ نامزد کیا اور ان کے ساتھ عہدے ڈپٹی چیئرمین کے لیے قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے مرزا محمد آفریدی کو میدان میں اتارا۔
دوسری جانب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی پی ڈی ایم کے جھنڈے تلے اپوزیشن کے اتحاد نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو بطور چئیرمن امیدوار نامزد کیا جبکہ جمیعت علما اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کو ان کے ڈپٹی چئیرمین کے طور پر پیش کیا۔
ایوان بالا کی قیادت کو چننے کے لیے اس انتخاب میں بالآخر صادق سنجرانی کی جیت ہوئی جس کی مد میں انھیں ایوان بالا میں ڈالے گئے 98 ووٹوں میں سے 48 ووٹ ملے۔ یوسف رضا گیلانی کو 42 ملے جبکہ 7 ووٹ مسترد کر دیے گئے۔
صادق سنجرانی کون ہیں؟
صادق سنجرانی بلوچستان میں اپنی جڑیں ہونے، مقتدرہ کے ساتھ جُڑے ہونے اور مخصوص سیاسی پرورش کی وجہ سے اہم ہیں۔ سیاست میں نسبتاً نوارد ہونے اور کم جانے پہچانے کے باوجود وہ ملک کے تیسرے بڑے اہم عہدے کے لیے منتخب کروائے گئے۔
ان کا تعلق چاغی سے ہے اس علاقے کی عالمی وجہ شہرت پاکستان کا ایٹمی دھماکہ اور سیندک پراجیکٹ رہے ہیں۔
صادق سنجرانی کے والد خان محمد آصف سنجرانی ضلع کونسل چاغی کے رکن ہیں جبکہ ایک بھائی رازق سنجرانی سینڈیک میں ڈائریکٹر جبکہ دوسرے بھائی میر محمد سنجرانی بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری کے مشیر رہ چکے ہیں۔
صادق سنجرانی کی سیاسی اٹھان بھی دلچسپ ہے۔ وہ چاندی اور سونے کی معدنیات والے ضلع چاغی کے علاقہ نو کنڈی میں پیدا ہوئے۔ہائی سکول وہاں سے پاس کیا اور باقی تعلیم اسلام آباد میں ہی حاصل کی اور یہیں تعلقات بڑھائے۔
صادق سنجرانی کا عوامی سیاست سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا بلکہ ان کی پہچان ایک کاروباری شخصیت کی ہے۔ ان کا کاروبار بلوچستان کے علاوہ دبئی میں بھی پھیلا ہوا ہے۔
وہ 1998 میں اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے کوآرڈینیٹر رہے۔ اس کے بعد جب 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو انھیں یوسف رضا گیلانی کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا اور وہ پانچ سال تک اسی منصب پر فائز رہے۔
2018 کے سینیٹ انتخابات میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے چیئرمین کے لیے انوارالحق کاکڑ اور صادق سنجرانی کے نام پیش کیے تھے، جن میں سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے صادق سنجرانی کا نام منظور کیا۔
ان کی نامزدگی کا اعلان کے بعد مسلم لیگ ن کے حال میں انتقال کر جانے والے سینیٹر مشاہداللہ خان کا کہنا تھا کہ صادق کا نام وہاں سے ہی آیا ہے جہاں سے نام آتے ہیں۔
صحافی سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ جب بلوچستان میں پرو سٹیبلشمنٹ سیاستدانوں اور محب وطن سیاسی جماعت کی ضرورت محسوس کی گئی تو وہاں باپ یعنی بلوچستان عوامی پارٹی تشکیل پائی اور صادق سنجرانی اس جماعت کا اہم ترین ستون ہیں۔
غرضیکہ صادق سنجرانی کی پرورش مختلف سیاسی نرسریوں اور حکومتوں میں ہوئی لیکن انھوں نے کسی سیاسی جماعت کے نظریے کو نہیں اپنایا اور وہ اب بھی حب الوطنی ہی کے بنیادی نظریے کے حوالے سے مقتدرہ اور ریاست پاکستان کے حامی ہیں۔
طاقتور حلقوں سے قریبی تعلق ہی وہ پس منظر ہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کو امید ہے کہ صادق سنجرانی دوبارہ سینیٹ کے چیئرمین منتخب ہوں گے۔
یاد رہے کہ اگست 2019 میں اپوزیشن نے صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی مگر منظور نہیں کروا سکے تھے۔



