سکون کا سانس محال ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف کے ترجمان شبلی فراز گویا سکرپٹ سے ہٹ گئے۔ چند ماہ پہلے چلاّ چلاّ کر اُن کا گلا بیٹھ گیا تھاکہ چیئرمین سینٹ، صادق سنجرانی کے خلاف پی ڈی ایم کی عدم اعتماد کی تحریک کے لیے ہونے والی خفیہ رائے شماری میں سینٹرز نے اپنے ”ضمیر“ کی آواز سنی تھی۔ اسی آواز کے جادو نے تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنایاتھا۔ اب جب سینٹ الیکشن کے موقع پر کچھ پی ٹی آئی اراکین قومی اسمبلی نے اپنی پارٹی کے امیدوار حفیظ شیخ کی بجائے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دے دیا وہ ایک بار پھر بار پھر چلاّ رہے ہیں۔ اب ”ضمیر کی آواز“ کی جگہ ”بدعنوانی“ نے لے لی ہے۔ وہ خفیہ رائے شماری کی جگہ کھلی رائے شماری چاہتے تھے تاکہ اب ضمیر کی آواز نہ سنی جاسکے۔

درحقیقت شبلی فراز پر یک لخت سیاسی موقع پرستی کے اسرار منکشف ہوئے ہیں۔ کہا کہ حکومت بھی حزب اختلاف کو شکست دینے کے لیے ”تمام طریقے“ استعمال کرے گی جیسے اس نے حکومت کو شکست دی تھی۔ بازاری سیاست کا ایک اور موڑ مرتے ہوئے اچانک اُن پر اپنے شہرت یافتہ والد کی اخلاقیات منکشف ہوئی ہوں۔ ”اگر میں یوسف رضا گیلانی کے بیٹے جیسے رویہ اپناتا تو میرے والد صاحب مجھے عاق کردیتے۔“بجا فرمایا۔ لیکن یہ اور بات ہے کہ حزب اختلاف اور آزاد میڈیا نے اُن پر بار ہاالزام لگایا ہے کہ موصوف ”ہزماسٹر ز وائس“ بنتے ہوئے احمد فراز کے زندگی بھر اپنائے گئے ترقی پسند اور اسٹبلشمنٹ مخالف نظریے کی توہین کررہے ہیں۔

عمران خان بھی اسی حمام میں ہیں۔ فرمایا کہ وہ اُن اراکین قومی اسمبلی کے نام جانتے ہیں جنہوں نے آصف زداری کے ہاتھ ووٹ فروخت کیے۔ لیکن اُن کے خلاف بدعنوانی کی پاداش میں کارروائی کرنے کی بجائے اُن کی لغزش کو معاف کردیا بلکہ نہایت خندہ پیشانی سے قومی اسمبلی میں ان سے اعتماد کا ووٹ بھی لیا۔ راولپنڈی کے شیخ رشید کا کہنا ہے کہ عمران خان اُن کے نام جانتے ہیں،اور وہ اُن کے خلاف کارروائی کریں گے۔ لیکن مستقبل کے کھلاڑی، فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اُن کا لیڈر یہ نام نہیں جانتا، اس لیے اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔

علی حیدر گیلانی کے خلاف کیا گیا تحریک انصاف کا خفیہ آپریشن ایک اورپہلو ہمارے سامنے لاتا ہے۔ تحریک انصاف نے یوسف رضا گیلانی اور اُن کے بیٹے کوبدعنوانی کی پاداش میں نااہل قرار دینے کے لیے ا لیکشن کمیشن آف پاکستان میں درخواست دی کیوں کہ وہ ووٹ خریدنے کی کوشش کررہے تھے لیکن اپنے اراکین قومی اسمبلی سے کوئی باز پرس نہ کی جو ووٹ بیچنے کی کوشش کررہے تھے۔ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی درخواست فوراً ہی مسترد کردی۔ درحقیقت جب الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کو پانچ سالوں سے التوا میں ڈالے رکھا اور عمران خان کو نااہل نہ کیا تو الیکشن کمیشن آزاد تھا لیکن جب اس نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت کے مطابق سینٹ کے انتخابات میں خفیہ رائے شماری پر آئینی موقف اختیار کیاتو یہ تیزو تنقید کا نشانہ بننے لگا۔

اقتدار کی اس لڑائی میں اسٹبلشمنٹ نے پی ڈی ایم کے ساتھ داؤ کھیلا ہے۔ ”ڈیل“ یا ”مفاہمت“ یہ تھی کہ تحریک انصاف اور پی ڈی ایم کے درمیان ہونے والے موجودہ ٹکراؤ میں اسٹبلشمنٹ ”غیر جانبدار“ رہے گی بشرطیکہ پی ڈی ایم کے راہ نما اس کی اعلیٰ قیادت کانام لے کر تنقید نہ کریں۔ ضمنی انتخابات تک پی ڈی ایم نے وعدے کا پاس کیا، گرچہ بعض مواقع پر دکھائی دے رہا تھا کہ اسٹبلشمنٹ غیر جانبدار نہیں۔ لیکن اب پی ڈی ایم کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ثبوت موجود ہے کہ اسٹبلشمنٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے لیے بارہ مارچ، بروز جمعہ ہونے والے انتخابات میں مداخلت کررہی ہے۔ پی ڈی ایم کے پاس 53 ووٹ ہیں جب کہ تحریک انصاف اور اس کے حامیوں کے پاس 47 ووٹ ہیں۔ اب اگر پی ڈی ایم کے امیدوار ہارگئے تو اسٹبلشمنٹ مخالف جذبات ایک بار پھر منہ زور ہوجائیں گے۔ اسٹبلشمنٹ نے شہباز شریف کے ساتھ دھوکا کیا۔ اُنہیں پاکستان مسلم لیگ ن میں سائیڈ لائن کردیا۔ اب وہ آصف زرداری کے ساتھ داؤ کھیلتے ہوئے اُنہیں بھی پی ڈی ایم میں سائیڈ لائن کرنا چاہتی ہے۔ ان حالات میں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کا اسٹبلشمنٹ مخالف بیانیہ پہلے سے بھی زیادہ توانا ہوکر ابھرے گااور ہمیں یقین کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت کو مزید عدم استحکام سے دوچار کرنے کرنے کے لیے اپنی قوتوں کو متحرک کریں گے۔

اسٹبلشمنٹ کے لیے اپنے آپشنز پر نظر ثانی کرنے سے انکار کے دو سنگین مضمرات ہوں گے۔ عمران خان کی نااہل، نالائق اور بدعنوان حکومت کے ساتھ جڑے رہنے سے یہ پاکستانیوں کی اکثریت کی تنقید کی زد میں آتی جارہی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس کے ہوم گراؤنڈ پنجاب میں ایسا ہورہا ہے جو تحریک انصاف سے تنگ آچکاہے۔ یہ تاثر بھی اپنی جگہ پر موجود ہے کہ ذاتی عزائم نے ادارے کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن ادارے کے ساتھ ساتھ افراد کا نام لے کر تنقید کررہے ہیں۔ اُنہیں یقین ہے کہ معاشرے میں مجموعی طور پر اُن کے موقف کی خاطر خواہ حمایت موجود ہے۔ تاہم یہ بڑھتا ہوا رجحان ریاست اور معاشرے کے لیے اچھا نہیں۔

اسٹبلشمنٹ کے غلط فیصلوں کا دوسرا نقصان معیشت کی تباہی کی صورت نکلا ہے۔ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معیشت غیر یقینی پن کا شکار ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری اور معاشی شرح نمو میں گراوٹ کا سامنا ہے۔ معیشت کی ممکنہ بحالی کے تمام تر دعووں کے باوجود حقائق بہت پریشان کن ہیں۔ کرنسی کی قدر میں یک لخت بہت زیادہ کمی کے باوجود برآمدات رک چکی ہیں۔ مسلسل دوسرے سال محصولات اپنے ہدف سے کم جمع ہوئے ہیں۔ قرضہ بجٹ کو مفلوج کررہا ہے۔ آئی ایم ایف اورمہنگائی، بے روزگاری اور سود کی بلند شرح نے پنجے جما لیے ہیں۔ درحقیقت اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے چکر میں تحریک انصاف کی حکومت نے کوویڈ 19 کی غلط مینجمنٹ کی۔ اب جبکہ وبا کی تیسری لہر تیز ہوچکی اور متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، اس نے نیا لاک ڈاؤن لگاتے ہوئے سکول اور کارو بار بند کردیے ہیں۔ ویکسین کی فراہمی انتہائی سست، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ آئی ایم ایف کی تازہ ترین پیش گوئی اورعدم استحکام اور غیریقینی پن کی وجہ سے 2021 کے مالی سال کے دوران معاشی شرح نمو صرف 1.1 فیصد تک رہے گی۔ سٹاک مارکیٹ میں آنے والا بھونچال اس عدم استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے پتہ چلا ہے کہ سرمایہ کاران حالات کو معیشت کے لیے سازگار نہیں پاتے ہیں۔

یہ سب مسائل اپنی جگہ پر، اب اسٹبلشمنٹ کو دھشت گردی کی نئی لہر کا سامنا ہے۔ امریکا کی طرف سے دباؤ بھی ہے کہ کابل سے فوجوں کی واپسی کے لیے طالبان کو مزید تعاون کے لیے قائل کیا جائے۔ امریکا چاہتا ہے کہ اس کی واپسی سے غنی انتظامیہ کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اسٹبلشمنٹ کی تشویش کا پتہ اس سے چلتا ہے کہ امریکا افغان مسلے میں بھارت کو شامل کررہا ہے جب کہ اسلام آباد پر ایف اے ٹی ایف کی تلوار لٹکائی ہوئی ہے۔

معیشت اور سیاست پر داخلی اور بیرونی دباؤ میں آنے والے مہینوں میں کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس وقت قومی اتفاق رائے یا سیاسی استحکام کی ضرورت تھی۔ اس کی بجائے ہم غیرمقبول حکومت اور پرعزم حزب اختلاف، اور حزب اختلاف اور تیزی سے اپنی ساکھ کھونے والی اسٹبلشمنٹ کے درمیان محاذ آرائی دیکھ رہے ہیں۔ اگر معیشت میں کچھ جان ہوتی تو ہم ایسے سیاسی طوفانوں کا مقابلہ کرسکتے تھے۔ لیکن ا س وقت معیشت سیاست کی قیدی بن چکی ہے۔ اس لیے سیاسی سمت تبدیل کیے بغیر سکون کا سانس محال ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نجم سیٹھی

بشکریہ: روز نامہ جنگ

najam-sethi has 34 posts and counting.See all posts by najam-sethi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *