سینیٹ الیکشن: عوام اور ریاست کا مقابلہ اور بے ڈھنگا پن


جب اکاؤنٹبلٹی کا ڈر نہ ہو تو بڑے سے بڑی طاقت کی استعداد مجروح ہوتی ہے۔
یہی کام ماضی میں بھی کیا جا رہا تھا مگر احتیاط برتی جاتی تھی۔ اب اپوزیشن باقی نہیں رہی تو ایروگنس بڑھ گئی ہے۔
اتنے کیمرے برآمد ہونا بے ڈھنگا پن ہے جو اس وقت آتا ہے جب کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔
نتیجہ تو کل ساڑھے آٹھ بجے معلوم ہو گیا تھا کہ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دباؤ پڑ چکا ہے اور ہم اب الیکشن نہیں جیت سکتے۔
کل نواز شریف کی تقریر، صبح مریم کی ٹویٹ، شام کو شاہد خاقان عباسی اور مریم اورنگزیب کی پریس کانفرنس۔
جنگل ہمارا مقدر نہیں ہے۔
اصل طاقت وہ ہوتی ہے جس کا اشارہ ہی بہت ہو۔ جب طاقت کا مظاہرہ کرنا پڑ جائے تو وہ کم ہوتی جاتی ہے۔
اب سیاسی کارکن سڑک کی بجائے سوشل میڈیا پر نکلتے ہیں تو کیا یہ بیکار ہے؟
کیا اب جدوجہد نہیں ہو رہی؟
ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر بات کرنے کے طعنے
کیا اگلے ڈھائی تین سال ایسا ہی ہوتا رہے گا؟

Facebook Comments HS