کیا ہم سب بِل گیٹس بن سکتے ہیں؟



موٹیویشنل سپیکرز دن رات اس کوشش میں لگے ہیں کہ ہم سب کو بل گیٹس اور ایلین مسک جتنا امیر و کبیر اور کامیاب بنا دیں۔ ہم سب کے اندر بھی یہ خواہش انگڑائیاں لیتی رہتی ہے کہ ہمیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے کام نہ کرنا پڑے بلکہ ہمارے پاس اتنا کثیر سرمایہ ہو کہ نہ صرف ہماری ضروریات باآسانی پوری ہو جائیں بلکہ ہمارے سارے ارمان بھی پلک جھپکتے ہی تکمیل کے مراحل طے کر لیں۔

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہشیں پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

وہ جن کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے ، ان کی کہانیاں پڑھتے ہوئے چند عوامل ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں اور اسی سبب ان رول ماڈلز کی اندھی پیروی ہمیں حاضر و موجود سے بیزار بھی کر سکتی ہے۔ ان جیسا بننے کی جدوجہد میں ہم وہ نعمتیں جو رحمان و رحیم نے ہمیں عطا کی ہیں ، ہم انہیں گھاس ڈالنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں۔

آج کے سوشل میڈیا کے دور میں جو وائرل ہو گیا وہ من کی مراد پا گیا اور دوسروں کے لئے رول ماڈل بن گیا۔ سب اس کے کامیابی کے فارمولے کی نقل مارتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ نقل کے لئے بھی عقل کا ہونا ضروری ہے۔ ہم کسی کے نقوش پا پر اپنے پاؤں رکھ کر کبھی بھی وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتے ہیں جو اس کے حصے میں آئی ہے۔ کامیابی کی ہر کہانی انوکھی اور نرالی ہوتی ہے اور اس کی کاربن کاپی بننا ممکن نہیں ہے۔

ہم سب میں سے گنتی کے کچھ لوگ اپنے منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتے ہیں کامیابی جنہیں جہیز میں ملتی ہے اور چند خوش نصیبوں کو کامیابی ان کے خسر کی صورت ملتی ہے۔ امریکہ کے ایک صحافی میلکم گلیڈول اپنی کتاب ”آؤٹ لائرز“ میں لکھتے ہیں کہ ”لوگ ذرے سے آفتاب نہیں بنتے ہیں بلکہ آفتاب انکل کی سرپرستی ان کے راستے صاف کرتی ہے۔ درست وقت پر درست جگہ ہونا اور ریس کے نمبر ایک گھوڑے کی پیٹھ پر سواری ان کا دامن اشرفیوں سے بھر دیتی ہے“ ۔

محنتی ہونا انسان کی بہت بڑی خوبی ہے لیکن کولہو کے بیل کو اس کی محنت جنگل کا بادشاہ نہیں بنا سکتی ہے۔ ہمارا ڈی این اے بھی ہماری کامیابیوں کی ڈگری کا تعین کرتا ہے۔ ہم اگر ان تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہیں جو عالمی سطح پر معروف ہیں تو پھر ایسے تعلیمی اداروں سے ڈگری لینے کے بعد ہماری کامیابی کے روشن امکانات ہیں۔ خوش شکل ہونا اور سونے پہ سہاگہ، صنف نازک کے طبقے کا رکن ہونا کامیابی کی بلند و بانگ پروازوں کا مسافر بننے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

مادی کامیابی کے حصول میں آپ کیا ہیں سے زیادہ اہم ہے کہ آپ کون ہیں اور کیا آپ کسی ترپ کے پتے کو جانتے ہیں۔ بازی گر اگر آپ پر مہربان ہے تو پھر آپ دس بھی ہیں تو آپ کو بیس ہی تصور کیا جائے گا۔ اسی طرح مادی کامیابی کے حصول کے لئے ماحول کی بھی خصوصی اہمیت ہے۔ آپ اگر سیلزمین ہیں اور کوئی دفتری سافٹ ویئر ایپ لے کر ایک ایسے دفتر میں پہنچ گئے ہیں جہاں پر کاغذ کی فائلوں کا راج ہے تو پھر ناکامی آپ کو خوش آمدید کہے گی۔ بل گیٹس کی کامیابی میں امریکی ماحول کا بھی قابل قدر حصہ ہے۔ آپ کا ماحول اگر آپ کی پیشکش کا قدر دان ہے تو پھر کامیابی کی دیوی آپ پر مہربان ہو جائے گی اور آپ کا ماحول اگر ناسازگار ہے تو پھر آپ جلد یا بدیر دیواروں سے باتیں کرنا شروع کر دیں گے۔

ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے ”اپنی مدد آپ“ کے موضوعات پر لکھی ہوئی متعدد کتب پڑھ لیں اور ملتے جلتے موضوعات پر ٹریننگز حاصل کر لیں تو کامیاب ہونے کا نادر نسخہ ہمارے ہاتھ آ جائے گا۔ کامیابی کے کلیے جان کر کامیابی کامل جانا یقینی نہیں ہے۔ صرف علم کافی نہیں ہے بلکہ کامیابی کے لئے اہم یہ ہے کہ آپ اس علم کو کیسے بروئے کار لے کر آتے ہیں اور کہاں پر پائے جاتے ہیں اور کس کی اولاد ہیں اور اس وقت پھاٹک پر پہنچ گئے ہیں جب ریل گاڑی نہیں آ رہی تھی اور پھاٹک کھلا تھا۔

ہم سب کامیاب ہونے کے لئے اعلیٰ و ارفع خواب دیکھتے ہیں اور ستاروں پر کمند ڈالنا چاہتے ہیں یقیناً یہ سب بہت خوش آئند ہے اور قابل تحسین ہے لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ممکنہ راستوں میں ایک راستہ جدائی کا بھی ہوتا ہے۔ وہ سب کچھ ہو جانے کا امکان ہمیشہ باقی رہتا ہے جس کے بارے میں سوچا نہ تھا۔ نادیدنی اور انہونی کا بھی اپنا مقام ہے اور کامیابی کی شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے اسے فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

Facebook Comments HS