پاکستانی سیاست اور عوام کی تین قسمیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے سیاسی حالات دن بدن پچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر روز سیاست کو ایک نیا رنگ دیا جاتا ہے۔ ہر روز کسی کا کوئی نہ کوئی اسکینڈل سامنے آ جاتا ہے۔ پھر سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر اس کو خوب روندا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ بندہ اپنے آپ کو بے گناہ اور شریف ثابت کرنے کے لیے اپنی صفائیاں دیتا پھرتا ہے اور ایسے ہی وقت گزرتا رہتا ہے اور یہ چکر چلتا رہتا ہے۔

پاکستانی سیاست اور سیاست دانوں کا یہ برا حال تو اول دن سے ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ آنے والے کچھ دنوں، مہینوں یا سالوں میں حالات بدل جائیں گے تو یہ ناممکن سا لگتا ہے۔ پاکستانی سیاست پر چھائے یہ کالے بادل آسانی سے جانے والے نہیں۔ ان بادلوں نے ہر طرف اندھیرا کیا ہوا ہے اور تقریباً ہر سیاست دان اس اندھیرے میں اپنا فائدہ ڈھونڈھتا ہے۔

ہمارے ہاں سیاست کے اس کھیل کو دیکھنے والے تین قسم کے لوگ ہیں۔ ان سب کی ایک دوسرے سے بالکل مختلف رائے ہوتی ہے۔ اپنے اپنے دائرے میں یہ سب بہت مضبوط ہیں اور انتہا پسند بھی۔ اگر ان کی رائے کے خلاف جائیں تو یہ لوگ بہت برا مان جاتے ہیں۔ اور پھر آپ کی گستاخی کے لحاظ سے آپ کے لیے ایک سزا کی چھڑی بھی لہراتے ہیں۔

ان میں اول نمبر پر وہ لوگ آتے ہیں جو ازل سے کسی ایک سیاسی جماعت کو سپورٹ کرتے آ رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ایسے ہوتے ہیں جن کے باپ دادوں نے بھی انہی جماعتوں کو سپورٹ کیا ہوتا ہے۔ کچھ بھی ہو جائے یہ اپنی سیاسی جماعت کی مخالفت نہیں کرتے اور نہ سنتے ہیں۔ ان لوگوں سے جب بھی بحث کی جاتی ہے تو یہ بڑی عجیب باتیں کرتے ہیں اور ان کی زیادہ تر باتیں غیر منطقی ہوتی ہیں۔ آپ لاکھوں دلائل دیں مگر ان کو فرق نہیں پڑے گا۔یہ ایسا ہی ہو گا جیسے آپ بھینس کے آگے بین بجا رہے ہوں۔

میرے تجربے میں آج تک جب بھی کسی ایسے بھائی یا بہن سے بحث ہوئی تو ہمیشہ بحث، بحث ہی رہی اور میں کبھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچا اور نہ وہ کسی نتیجے پر پہنچے۔ ان جیسے لوگوں کی تعداد پاکستان میں سب سے زیادہ ہے اور اس قسم کے لوگ زیادہ سے زیادہ سازشی نظریات یا افواہیں پھیلاتے ہیں۔

دوسرے نمبر پر وہ لوگ ہیں جو کسی سیاسی جماعت کو تو ایسا کچھ خاص سپورٹ نہیں کرتے۔ لیکن ان کی نظر میں سارے سیاست دان کرپٹ ہوتے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر یہ ہر سیاست دان کو خوب گالیاں دیتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی بھی مواد ملے تو اس کو ذریعۂ ایصال ثواب سمجھ کر آگے شیئر کرتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی سیاست دان کسی منظم ادارے کے خلاف بول دے تو یہ آگ بگولہ ہو جاتے ہیں اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے غدار، چور، ڈاکو، لٹیرا، نمک خرام وغیرہ سب کہہ دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ حکومت اور اداروں سے اپیل بھی کرتے ہیں کہ اس کو جلاوطنی کی سزا دی جائے۔ اس قسم کے لوگ بھی بہت شدت پسند ہوتے ہیں اور ان سے بات کرنا بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔ پہلی قسم کے لوگوں کے مقابلے میں ان کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے۔

تیسری قسم کے لوگ کسی نہ کسی طرح عقل پسند ہوتے ہیں اور ہمیشہ کچھ حوالوں اور منطق کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کی پاکستان میں تعداد بہت ہی کم ہے ۔ ان میں زیادہ تر لوگ کھل کر سامنے نہیں آتے اور خاموش طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ میری جب بھی اس قسم کے لوگوں سے بحث ہوئی تو بہت چیزیں سیکھنے کو ملیں اور ہمیشہ علم میں اضافہ ہوا اور آخر میں کوئی نتیجہ خیز بات بھی نکلتی۔

اب جیسے پاکستان کے حالات ہیں تو اس حساب سے جو تھوڑے بہت لوگ بولتے ہیں ، وہ پاکستان کے ان اداروں پر بھی تنقید کرتے ہیں جو بڑے افضل سمجھے جاتے ہیں۔ اور پھر پہلی دو قسموں کے لوگ ان کو خوب ”ہیٹ کمنٹس“ دیتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو اداروں سمیت ہر اس چیز پر تنقید کرتے ہیں جو ان کو غلط لگے۔ یہ لوگ انفرادی طور پر سیاست دانوں کو پسند کرتے ہیں نہ کہ پوری پوری جماعت کو۔

ان سب کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم ایک عام بات کریں تو پاکستانی لوگ سیاست میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں لیکن صرف ایک تماشائی کی حیثیت سے۔ اگر یہی لوگ تھوڑی سوجھ بوجھ اور جانچ پڑتال کر کے لیڈران کا ساتھ دیں تو یقیناً ہر میدان میں بہتری آنا شروع ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سید عرفان حیدر شیرازی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *