ڈپریشن، سٹریس اور لاک ڈاؤن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جوں جوں زندگی ایک ہاتھ میں سمٹتی جا رہی ہے اصل میں زندگی کی ڈور ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔ آنکھوں کے وژن کو ہر چیز میسر ہونے لگی تو سوچ، احساس کا وژن تنگ ہوتا گیا۔ محبت، دوستیاں ظاہری طور پہ ساتھ ساتھ نظر آنے لگیں تو تنہائی اور بڑھنے لگی۔ پہلے صرف اپنی باتیں ہوا کرتی تھیں ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ ہر چیز تک پہنچ بھی محدود تھی۔ ایک طرف یہ سب لامحدود ہوا تو بہت کچھ اندر دبتا رہ گیا۔ اپنی باتیں بیچ میں دب گئیں۔ ہم بس دیکھتے چلے جانے میں مصروف ہیں اور کبھی کبھی لگتا ہے اس دور کی حقیقتیں شاید یہی رہ گئی ہیں۔

اس ڈیجیٹل دور کے سٹریس، ہیجان کے عالم سے نبرد آزما ہوتے ہوتے ہم کورونائی تباہ کاریوں کے دور میں چلے آئے۔ جن بزرگوں نے پہلے جنگ یا وبا کا دور دیکھا ہو گا، ان کا خوف تو ہم سے سوا ہی ہو گا لیکن میرا نو سالہ بیٹا مجھ سے کہتا ہے ”ہماری زندگی کتنی عجیب ہے ہم نے کورونا کی وبا اور اس سے پھیلنے والی اموات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہ بھی اتنی سی عمر میں“ میں نے کہا لیکن یہ سب تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ دیکھا تو کہنے لگا ”مگر آپ نے اتنی چھوٹی سی عمر میں اتنی اموات تو نہیں دیکھی تھیں ناں“ اس کی بات سب کے ایسا لگا جیسے کوئی انتہائی بھیڑ میں تنہا کھڑا گھبرا رہا ہو۔

ایک دوست نے فون کر کے بتایا کہ اسے بہت سٹریس ہے ، اس کی بہت طبیعت خراب رہتی ہے۔ اچھی خاصی خوبصورت /جوان لڑکی۔ میں نے پوچھا کہ کس چیز کا سٹریس۔ کہنے لگی موت کا۔ ”مجھے لگتا ہے میں بیٹھے بیٹھے مر جاؤں گی“ اتنی جواں عمری میں ایسی باتیں نہیں کرتے” میں نے ہنستے ہوئے کہا لیکن اس کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ یہ اردگرد واقع ہونے والی اموات نے ہر انسان کو کسی نہ کسی طرح ڈسٹرب کیا ہے۔ اس کا نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا اور وہ بہت مشکل حالات سے دوچار تھی۔

لیکن دیکھا جائے تو یہ مسئلہ ان ملکوں میں زیادہ پیش آ رہا ہے جن نے زیادہ سخت پالیسیاں ترتیب دیں۔ اگر یہاں کینیڈا کی بات کی جائے تو یہاں پر زیادہ تر آبادی دنیا بھر سے امیگریشن پہ آئے ہوئے لوگوں کی ہے۔ جن کے یہاں پر کوئی خاص رشتے دار ہوتے ہیں نہ ہی پرانے دوست احباب۔

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہم بہترین طرز زندگی میں ایک خلائی اور مشینی مخلوق کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مجھ جیسے لوگوں کے لئے تنہائی اور کنارہ کشی بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ خلائی اور مشینی ہونے پہ بھی کوئی اعتراض نہیں مجھے لیکن میں بھی تنگ پڑ جاتی ہوں۔ ہر کسی کو اپنے اردگرد اپنے پسندیدہ لوگ چاہئیں اور ہم دیارغیر والوں کی مجبوریاں کہ ایسا ہو نہیں پاتا۔ اور یہ بات بہت کم لوگ سہہ پاتے ہیں۔ اسی لئے ان ملکوں میں ڈپریشن/سٹریس چہروں تک سے عیاں ہونے لگتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کو ضروری ہدایات دے کر تھوڑا ریلیف بھی دے۔ ویکسین کی فراہمی تیز تر ہونی چاہیے۔ بہت سارے مسائل ہیں اور یہ تمام تر پبلک مقامات پہ سناٹا اور بھی جان لیوا ہے۔

پچھلے سال نیاگرا فال پہ ڈرائیو کرتے بارہا دل کانپنے لگتا تھا سڑکوں کا خالی پن دیکھ کر کہ یہاں سے تو گاڑی گزارنی مشکل ہو جاتی ہے اور کجا ہر سگنل پہ ہم اکیلے کھڑے ہوتے ہیں ، مجھے وحشت کا اصل معنی اس دن سمجھ آیا جب ایک سرخ اشارے پہ کھڑے میں نے نیاگرافال کی بے انتہا پر رونق سڑک کو سیاہ بادلوں سے ڈھکے ہوئے دیکھا۔ چند لمحوں کے لئے مجھے ہر چیز صرف سیاہ ہی لگتی رہی۔ یہ شاعری والی وحشت سے بالکل ہٹ کے تھی کہ اس میں کرب تھا، بے بسی تھی اور جا بجا بکھری ہوئی موت تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply