میرے وطن کی انوکھی سیاست اور بھولے عوام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حقیقی معنوں میں سیاست سماج کے ارتقاء کے عمل کا نام ہے لیکن ہمارے یہاں سیاست کے اجارہ داروں نے یہ طے کر رکھا ہے کہ سیاست کو سماج کو پس ماندہ اور جکڑ کر رکھنے کے لیے استعمال کریں گے۔ اس طبقے نے یہ طے کر رکھا ہے کہ پاکستان کی سیاست کو سماج میں بے چینی اور اضطراب کے لیے استعمال کریں گے۔ گزشتہ چند روز میں پاکستان کی سیاست میں جو کچھ ہوا وہ ان تمہیدی جملوں کی تائید کے لیے کافی ہے۔

پاکستان کی سیاست اور سماج پر قابض طبقات کے تضادات سینیٹ کے انتخابات اور پھر چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے مواقع پر جس طرح سامنے آئے ہیں اس سے یہ فائدہ تو ہوا کہ پردوں میں یہ چھپی حقیقت دن بہ دن سامنے آتی جا رہی ہے کہ کس طرح نان ایشوز کو اہم ایشوز بنا کر پورے ملک کو جکڑ کر رکھا دیا جاتا ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا رکھا جاتا ہے اور عوام کو یہ باور کروانے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے کہ غربت، بے روزگاری، مہنگائی میں کمی اور معاشی اور سماجی استحصال کا خاتمہ تو کوئی چیز ہی نہیں ہیں ، اصل مسئلہ حفیظ شیخ اور یوسف رضا گیلانی میں سے کسی ایک کی کامیابی ہے۔

عوام کے ہزاروں ووٹوں سے منتخب ہونے والوں نے دانستہ یا غیر دانستہ غلط طریقے سے سینیٹ کے انتخابات میں ووٹ ڈالے ہیں اور پھر ان غلط ووٹوں پر واویلا مچانا شروع کیا ہے اس پر پھر وہی بات کہ نان ایشوز کو اہم ایشو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یوسف رضا گیلانی منتخب ہوئے تو یہ تأثر پھلینا شروع ہو گیا کہ حکومت اب گئی اور اب گئی۔ سینیٹ کی اس نشست کی شکست کو حکومت کی شکست سے تعبیر کیا گیا اور عمران خان سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا جسے انہوں نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لے کر مسترد کر دیا۔

پی ڈی ایم جسے امید پرستوں نے معاشی بدحالی، خارجی ناکامی اور عوام کے معاشی استحسال کی موجودہ صورتحال میں صبح نو سے تعبیر کر رکھا تھا ، اس میں گزشتہ روز وہ سب کچھ ہو گیا جس کے بارے میں حکومتی ترجمان چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ معاملہ چلنے والا نہیں۔ پی ڈی ایم جس میں پرانے سیاسی حریف پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز ، مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں اس نکتے پر شامل ہوئے تھے کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت گھر بھیج کر ہی دم لیں گے۔ پی ڈی ایم کے قائد مولانا فضل الرحمٰن تو اول دن سے ہی اس اسمبلی میں بیٹھنے کے خلاف تھے اور اس کے لیے انہوں نے 2018ء کے انتخابات کے فوراً بعد ہی آل پارٹیز کانفرنس برپا کر ڈالی تھی۔

انہوں نے اپنے طور پر خوب کوشش کی اور ایک بار اپنے کارکنوں کے ساتھ اسلام آباد میں آ کر دھرنا بھی دے ڈالا جسے یقین دہانیوں اور وعدوں کے بعد انہوں نے ختم کر دیا، جس کا اعتراف انہوں نے چند ماہ قبل ایک نجی ٹی وی چینل کے انٹرویو میں بھی کیا۔ لیکن اس کے باوجود مولانا نے امید کا دامن نہ چھوڑا اور حکومت مخالف تحریک میں شدت کے لیے متحرک رہے۔ پی ڈی ایم نے اپنی تحریک کے مدارج بیان کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ پہلے مرحلے میں پورے ملک میں احتجاجی جلسے منعقد کریں گے، دوسرے مرحلے میں استعفے اور تیسرے مرحلے میں لانگ مارچ کیا جائے گا۔

احتجاجی جلسوں کی حد تک تو پی ڈی ایم کا بھرم کسی حد تک قائم رہا لیکن جب ضمنی اور سینیٹ کے انتخابات کا مرحلہ آیا جن کا پی ڈی ایم شد و مد کے ساتھ بائیکاٹ کا اعلان کر رہی تھی اور پروگرام کے مطابق استعفے دینے جا رہی تھی تو اس موقع پر پیپلزپارٹی استعفوں کی بجائے حکومت کے خاتمے کے لیے سیاسی حل جسے جوڑ توڑ بھی کہا جاسکتا ہے ، پر زور دیتی رہی۔ پی ڈی ایم میں پیپلز پارٹی کے موقف کو تسلیم کیا گیا اور پی ڈی ایم نے ضمنی انتخابات اور سینیٹ کے انتخابات میں بھرپور حصہ لیا۔

اس کے بعد جب لانگ مارچ کا مرحلہ آیا تو مولانا اور مسلم لیگ نون نے مارچ کی افادیت کے لیے پھر استعفوں پر زور دیا جسے آصف علی زرداری نے نواز شریف کی وطن واپسی سے مشروط کر دیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا اول روز سے تأثر تھا کہ پیپلز پارٹی کسی بھی مرحلے پر سندھ حکومت سے دست بردار نہیں ہو گی۔ ہاں اگر یہ سندھ میں اپوزیشن میں ہوتی تو پھر صورت حال مختلف ہوتی۔

ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک جہاں نیم جاگیردارانہ، نیم قبائلی اور نیم سرمایہ دارانہ نظام رائج ہو ، وہاں ایسے ہی ایشوز کو سامنے لا کر عوام کے حقیقی مسائل کو پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ سیاست کو اس نہج پر پہنچا دیا گیا ہے کہ نظریات کی بنیاد پر سیاست کا تصور ہی ختم کر دیا گیا ہے۔ اقبالؔ جس روحانی جمہوریت کی بات کرتے ہیں اس پر سرمایہ دارانہ جمہوریت کا غلبہ ہے۔ جس کا مسئلہ غربت افلاس، مہنگائی اور بے روزگاری ہے ہیں نہیں اور جن کے یہ مسائل ہیں،  وہ اس پر ہی خوش ہیں کہ ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان، ایک واری فیر شیر اور ایک زرداری سب پر بھاری۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply