اعتراف کی سچائی اور بے دھیانی کی حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاشرہ خوبیوں و خامیوں کا مرکب ہوتا ہے۔ اس کی اکائی فرد ہے جو ان دونوں صفات کا عملی نمونہ ٹھہرتا ہے۔

ایک لفظ ’مجبوری‘ ہے، جو کسی ذی روح کی خوبی کا درجہ تو حاصل نہیں کر سکتا تاہم اسے معاشرتی خامی کہنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ یہ ایک لفظ نہیں، جہان زندگی ہے۔ جس کا تعلق پروردگار کی آزمائش کے زیادہ قریب ہے۔ اس کی بے پناہ جہتیں ہیں اور لامحدود وسعتیں۔

عدیم نے کہا تھا:
تمام عمر کا ہے ساتھ، آب و ماہی کا
پڑے جو وقت، تو پانی نہ جال میں آئے

خدا کی ذات چاہے تو اپنے بندوں کو اس آزمائش سے پناہ میں رکھے اور اگر اس مبتلا کر دے تو کسی انسان کے لیے سہل نہیں کہ سامنے بال کھولے کھڑی مجبوری سے کنی کترا لے۔ پرودگار ہماری حفاظت فرمائے اور مجبوریوں سے ہمارے دامن بچائے رکھے۔

ہمارے یہاں سخنور طبقے کا ”جہاں“ الگ ہے اور دل کشادہ۔ یہ لوگ معاشرتی مجبوریوں کو شاذ ہی خاطر میں لاتے ہیں۔ ببانگ دہل ایک ہی اعلان کرتے ہیں جسے سادہ سی زبان میں ”اعتراف شکست“ کہا جاتا ہے۔ کہنے والے اسے ’مجبوری دل‘ سے بھی یاد کرتے ہیں۔

استاد مومن نے تو اس مجبوری کے موضوع پر مہر ثبت کر دی تھی:
حال دل یار کو لکھوں کیوں کر
ہاتھ، دل سے جدا نہیں ہوتا

غزل کے سکہ رائج الوقت استاد جناب ظفر اقبال بھلا کیوں کسی سے پیچھے رہتے۔ ان کا بقول غالب والا ”کچھ اور“ طرح کا انداز بیاں دیکھیے۔

میں نے خود کو جو سمیٹا، تو اسی لمحے میں
اور بھی چاروں طرف پھیل گئے، چاروں طرف

چاروں طرف افراتفری، نفرت اور بدتہذیبی ہے۔ آگ کو ٹھنڈا کرنے والے ہی اسے ہوا دینے میں مصروف ہیں۔ اس سارے ہیجان کا تعلق عوام کے مسائل اور حقوق سے چنداں نہیں ، خدمت گاروں کی اقتدار کے لیے کھینچا تانی سے ہے۔ ایسی ”خوش نصیبی“ بھی اس قوم کے لیے نہایت اہم ہے کہ ”سب“ انگریزی والے ایک پیج پر ہیں۔ بدقسمتی سے عوام کو اس پیج کے فیوض و برکات تک رسائی کے لیے مزید انتظار کا سامنا ہے۔

وزیراعظم کو اپوزیشن کی طرف سے کوئی بھی مشکل پیش آئے ، اگلے دن اخبارات میں ایک ہی صف میں ’محمود و ایاز‘ کھڑے ملتے ہیں اور ”ترقی“ کے خلاف سوچ والوں کو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ تاریخ میں بھٹو صاحب کا ذکر اکثر ملتا ہے کہ وہ اس پیج کو کھانے کی میز تک لانے میں پیش پیش ریے تھے۔ اس سے آگے کی تاریخ سے ہم سب واقف ہیں۔

عوام مہنگائی و بیروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں، پیٹرول، بجلی اور گیس کے نرخ قابو سے باہر ہیں۔ یوں تو آٹا اور چینی کو جان بوجھ کر مہنگا کر کے قوم کو بے حال کرنے والے کا تعین ہو بھی گیا تھا مگر بات وہی کہ ”کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک۔“ عوام کی چیخ پکار سے کسی کو کیا فرق پڑتا ہے۔ چاہے کوئی اپنا فسانہ سناتا پھرے، چاہے کوئی اپنی تصویر دکھاتا پھرے۔

سیینٹ کو ایوان بالا کہا جاتا ہے ، اسے اپنے مرتبے اور عزت کے اعتبار سے ارفع بھی ہونا چاہیے۔ اس ایوان میں پہلے مرحلے میں چار سالہ مدت پوری کرنے والے ممبران کا چناؤ کیا گیا تو سب سے زیادہ توجہ وفاق کی نشست کے لیے سربکف یوسف رضا گیلانی اور حفیظ شیخ کے ناموں کو حاصل رہی۔ اس کی وجہ نشست کا وفاق سے تعلق ہونا نہیں تھا بلکہ پی ڈی ایم کے امیدوار کا ”براہ راست“ حکومتی امیدوار سے مقابلہ تھا اور خبر گرم تھی کہ گیلانی صاحب جیت کی صورت میں چیئرمین سینیٹ کے متوقع امیدوار ہیں۔

ذرا چند ماہ پہلے اسی ایوان بالا کے فلور پر رچی بسی تحریک عدم اعتماد کو یاد کریں جب بلوچستان کے شورش زدہ علاقے سے تعلق رکھنے والے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی صاحب کو طاقتور طبقے کی منشا کے عین مطابق ایک درجن بھر ووٹ زیادہ مل گئے تھے ۔ یوں وہ ایوان بالا کے چیئرمین برقرار رہے تھے۔ ہمارے معاشرے کی یادداشت کچھ زیادہ ٹھیک نہیں، اگر یاد ہو تو مرحوم بزنجو صاحب نے پہلے سے طے شدہ کھیل کی ساری حقیقت بیان کر دی تھی۔ اور اس ”بے ادبی“ پر ان کا نام معزز عدالتوں تک کی زینت بن گیا تھا۔ اس دفعہ گیلانی صاحب سینیٹر تو بن گے مگر بلوچستان میں برپا امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے یار لوگوں نے سنجرانی صاحب کو بطور چیئرمین دوام بخشا۔

بات بلوچستان کے علاقے میں برپا یورش تک محدود نہیں ، اس آگ کے شعلے ایوانوں تک پہنچ چکے ہیں۔ ذرا ایوان کے اندر اور باہر کے مناظر کا جائزہ لیں ،آپ کو ایک جیسی شدت اور حدت محسوس ہو گی۔ پی ڈی ایم کے امیداوار کو ”زائد“ ووٹ پڑے تو حکومت وقت نے آئندہ کے لیے مضبوط حکمت عملی کو ترتیب دیتے ہوئے ”اپنے“ امیدوار کو، جو عددی اعتبار سے نسبتاً کمزور تھے، ریاست کا امیدوار قرار دے دیا اور شبلی فراز نے یہ کہہ کر سارے منظر کی دھند اڑا دی کہ حکومت اپنے امیدوار کی فتح کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کرے گی۔ بات ایوان کے جس بھی فریق کی ہو یہ دونوں حالات کے مطابق ”اپنی نبیڑنے“ میں مشغول رہتے ہیں۔

مرکز میں حکومت آنے سے پہلے عمران خان سسٹم کو تبدیل کرنا چاہتے تھے ، اس میں تو خیر وہی گلاس توڑا بارہ آنے والا معاملہ ہے، انہوں نے خود کو رائج الوقت سسٹم کے مطابق انگریزی والا ایڈجسٹ کر لیا۔ حزب اختلاف کو غیر ضروری فائدہ پہنچے تو وہ خوش اور حکومت کا ”ریاستی“ امیدوار جیتے تو عمران کابینہ خوشی سے نہال۔ اور قانون سازی کے لیے شور زیادہ اور ارادے کم۔ توجہ کا مرکز یہ بھی رہا کہ پولنگ بوتھ پر کیمرے نصب کر دیے گے یا کیمروں کے عین سامنے پولنگ بوتھ قائم کرنا تھا۔

اس حماقت پر برپا ہونے والا تماشا بھی ساری دنیا نے براہ راست ملاحظہ فرمایا۔ ذمہ دار لوگوں کے اذہان میں یقیناً ہو گا کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط میں طے شدہ باتوں پر عمل درآمد کے ساتھ سنجیدگی کا پہلو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔ جس کی توقعات ایف اے ٹی ایف والے کرتے نظر آتے ہیں۔ گو کہ ان شرائط کو پورا کرنے میں ریاست مصروف ہے مگر جمہوری رویے کسی بھی ریاست کے طرز حکمرانی کا سب سے بڑا آئینہ ہوتے ہیں۔ صرف باتوں سے کردار کی تشکیل سازی نہیں ہو سکتی، عمل کر کے دکھانا پڑتا ہے۔

آپ ریاستی امیدوار کی فتح کا جشن ضرور منائیں اور اپوزیشن کو بھی مشکل میں ڈالتے رہیں۔ لیکن اپنے کچھ لمحے عوام کی خوشیوں کے لیے بھی وقف کریں۔ ایوان کی فتح اسی وقت ہو سکتی ہے جب عوام کی زندگی کامیابی سے ہم کنار ہو جائے۔ جب ان سے کیے گے وعدے حقیقت کا روپ دھار لیں۔

یہ تاریخ کا جبر بھی ہے اور سبق بھی کہ بڑے لوگوں کی مجبوریاں بھی بڑی ہوتی ہیں اور خسارے بھی۔ یہ لوگ ان خساروں کا اعتراف اپنی آپ بیتیوں میں تو کرتے ہیں مگر ہزیمت اور شکست کے خوف سے اپنی عملی زندگیوں میں نہیں۔ حالانکہ اعتراف کسی شکست کا ہی کیوں نہ ہو، کر لیا جائے تو کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ کرے یہ طبقہ ”اعتراف“ کی سچائی اور بے دھیانی کی حقیقت سے واقف ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply