بچوں میں تمباکو نوشی کا رجحان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کا شمار دنیا کے ان 15 ممالک میں ہوتا ہے۔ جہاں تمباکو کی پیداوار اور استعمال سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ ستر ہزار سے زائد افراد تمباکو نوشی کے باعث مر جاتے ہیں۔

ایک سروے کے مطابق تمباکو نوشی کا شکار 13 فیصد سے زائد ایسے بچے ہیں، جن کی عمریں 13 سے 15 سال کے درمیان ہیں جبکہ 6 فیصد خواتین سگریٹ پینے کی عادی ہیں۔

روزانہ کی بنیاد پر 1200 بچے تمباکو نوشی کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ کئی دہائیوں سے اشتہارات میں دیکھتے آ رہے ہیں اور سگریٹ پیکٹ پر پڑھتے آ رہے ہیں کہ تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔ اس کے باوجود ہر سال سگریٹ نوشی کی شرح بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ 6 سال سے 15 سال کے بچے اس عادت کا شکار ہو رہے ہیں۔ بات فیشن سے شروع ہوتی ہوئی عادت بنتی جا رہی ہے اور یہی عادت آہستہ آہستہ موذی مرض کا شکار بنا دیتی ہے۔

بچوں کا اس لت کی جانب راغب زیادہ تشویش ناک ہے۔ خاص طور پر اسٹریٹ چائیلڈ جن کو سمجھانے والا کوئی نہیں، جن کی تربیت یا آگاہی کے لیے سرکاری سطح پر کوئی پلیٹ فارم نہیں، وہ بچے جن کی زندگیوں میں پہلے ہی خوشیوں کی کمی ہوتی ہے، جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے ہی نشے اور سگریٹ نوشی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اشتہارات میں سگریٹ نوشی کرنے والے کو ہیرو بنا کر کر پیش کرنا، دکانوں پر سب سے نمایاں جگہ پر سگریٹ کے پیکٹ رکھنا، سوشل میڈیا پر سگریٹ نوشی کرتے ہوئے فل ایکشن میں تصاویر لگانا، یہاں سگریٹ پینا منع ہے، کا بورڈ لگا ہونے کے باوجود اسی مقام پر سگریٹ نوشی کرنا، گھروں میں بڑوں کا بچوں کے سامنے سگریٹ پینا، بچوں سے سگریٹ منگوانا، پھر یہ شکایت کرنا کہ بچے سگریٹ پینا شروع ہو گئے ہیں، بچوں کو کیسے روکیں۔ یہ بذات خود بڑوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

شیشہ پینا بھی تمباکو نوشی کی ایک شکل ہے جو بدقسمتی سے نوجوانوں کو سب سے زیادہ متوجہ کر رہی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق ایک گھنٹہ شیشہ پینا 200 سگریٹ پینے کے برابر ہے۔ کیونکہ سگریٹ تین سے پانچ منٹ میں ختم ہو جاتی ہے جبکہ شیشہ پینے کا سیشن تقریباً ایک گھنٹہ چلتا رہتا ہے۔ جس میں بھاری ٹاکسک پھیپھڑوں میں جذب ہو جاتی ہے۔

’’سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے‘‘ ، کئی سالوں سے یہ سنتے اور پڑھتے آ رہے ہیں ، اس ایک جملے سے ہم اپنی نوجوان نسل اور کم عمر بچوں کو اس لت سے نہیں بچا سکتے۔ اگر اپنے معماروں کو اس لت سے دور رکھنا ہے تو انفرادی اور اجتماعی کوششوں کے ساتھ ساتھ سرکاری سطح پر سخت اقدامات اور پائیدار قانون سازی کی اشد ضرورت ہے۔ تمباکو نوشی کر کے نہ صرف سگریٹ نوشی کرنے والا اپنی صحت سے کھیل رہا ہوتا ہے بلکہ اس کے اس عمل سے اردگرد کے لوگوں کی صحت بھی متاثر ہو رہی ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *