سلیماں سر بہ زانو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سبا باقی، نہ مہروئے سبا باقی!
سلیماں سر بہ زانو،
اب کہاں سے قاصد فرخندہ پے آئے؟
کہاں سے، کس سبو سے کاسۂ پیری میں مے آئے؟
۔ ن م راشد

میں چھت پر ہوں۔ سگریٹ سلگاتا ہوں۔ دار بقاء میں راشد کو چہل قدمی کرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ اب کہاں سے قاصد فرخندہ پے آئے؟ کہاں سے، کس سبو سے کاسۂ پیری میں مے آئے؟ لوگ مر رہے ہیں۔ یقین و اعتماد کی مے خالی جام و سبو خالی، سڑک ویران، رات کیا کیا ہوا، مجھے کچھ خبر نہیں۔ میں خوف کے طوفان کے درمیان چھت پر ہوں۔ دھویں کا چھلہ بناتا ہوں۔ سامنے والی چھت کو دیکھتا ہوں۔ رخسانہ مجھے گرم پانی کا بھاپ لینے کے لئے کہتی ہیں۔

پھر مجھے گرم گرم کاڑھا پینے کے لئے دیتی ہے۔ اسے احساس ہے کہ ان احتیاط کے بعد وائرس گھر کے کسی شخص پر حملہ نہیں کرے گا۔ میرے اندر بہت دیر سے کچھ چل رہا ہے۔ تازگی محسوس کرنے کے بعد میں گیٹ کھول کر باہر نکلتا ہوں۔ ہمسایہ کے دروازے پر چار پانچ لوگ کھڑے ہیں۔ میں بیتابانہ آگے بڑھتا ہوں۔ رام چندرن میری طرف دیکھتا ہے۔ اس کی آنکھیں نم اور ہونٹ سوکھے ہوئے ہیں۔

نیرا کیسی ہے؟
رام چندرن چپ ہے
میں پھر پوچھتا ہوں۔ نیرا کو پلازما ملا؟
رام چندرن نے نم آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔ راتوں رات چلی گئی
چلی گئی؟ مطلب کہاں؟
اس نے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ گم ہو گئی۔
ایسے کیسے گم ہو گئی۔ میں زور سے کہتا ہوں۔ اور اس کی لاش؟
میں لاش نہیں لایا۔ اسپتال والوں کو پیسے دے دیے۔ کریا کرم کے۔
میں پھر چیخا۔ یعنی اسپتال سے غائب؟ آپ اسے گھر بھی نہیں لائے؟

لا کر کیا کرتا۔ رام چندرن کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ جب یہاں سے گئی تھی، بار بار ایک ہی بات بولتی تھی، میں ابھی مرنا نہیں چاہتی۔

ابھی کچھ دن پہلے وہ چھت پر تھی۔ اب غائب۔ ابھی کچھ دن پہلے میں نے اس کی شرارتیں دیکھی تھیں۔ اب غائب۔ مجھے آسمان پر وہ ہاتھ ہلاتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔

پرانی دلی کا چکر لگتا ہوا نئی سڑک پر آ گیا۔ یہاں ایک قطار سے کتابوں کی دکانیں تھیں۔ مچھلی اور گوشت کی دکانیں بھی تھیں۔ جامع مسجد کے اندر بھی ہر طرح کی دکانیں آراستہ تھیں۔ اس وقت سڑکیں سنسان تھیں۔ چاندنی چوک، ٹاؤن ہال، چاوری بازار۔ کے نہ تھے کوچے، اوراق مصور تھے۔ یہ 1857 کی دلی نہیں تھی۔ مگر شاہراہوں پر ابو الہول کے بت لوٹ رہے تھے۔ پانڈوؤں کے زمانے سے مغل تہذیب تک دلی لٹتی بھی رہی آباد بھی ہوتی رہی۔

یہاں ایک موچی بیٹھتا تھا۔ وہاں سوتی کپڑوں کی دکان تھی۔ اس پارک میں ایک زمانےمیں داستان گو بیٹھا کرتے تھے۔ میں مبارک بیگم مسجد کے پاس آ کر رکا۔ مبارک بیگم اصل میں ایک ہندو تھیں جنھوں نے بعد میں اسلام قبول کر لیا اور ان کا مسلمان نام بی بی مبارک النساء بیگم رکھا گیا لیکن وہ مبارک بیگم کے نام سے ہی مشہور ہوئیں۔ کبھی یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔ شہر سے کتے کہاں چلے گئے؟ آسمان پرندوں سے خالی۔ میں ٹہلتے ہوئے پولیس والوں سے بات کرتا ہوں، انہیں بھی نہیں معلوم کہ وبا سے نجات کب ملے گی۔

میں کافی چل چکا ہوں۔ اور اب تھکن محسوس ہو رہی ہے۔ مگر اتنا چلنے کے باوجود بھی، نیرا کے خیال سے خود کو علیحدہ نہیں کر سکا۔ یہ ایک بالکل نئی دنیا ہے۔ پرانے دستور کسی صحرا میں پھینک دیے گئے ہیں۔ اسپتال میں بلیک ہول بنے ہیں۔ انسان بستر سے اٹھتا ہوا اس بلیک ہول میں سما جاتا ہے۔ سنا ہے، جب کوئی ستارہ اپنی زندگی کے آخری حصے میں ہوتا ہے تو وہ پھٹ جاتا ہے یا پھر بلیک ہول میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ مجھے یاد آیا، خانقاہ میں جب راسپوتین مجھے اس جگہ پر لے گیا تھا، جہاں سے زمین کھودنے کی آواز آ رہی تھی، میں نے بے شمار ستاروں کو گرتے ہوئے دیکھا تھا۔ مجھے اس میں کوئی نئی بات نظر نہیں آئی تھی۔ مگر اب احساس ہوتا ہے کہ راسپوتین مجھے وہاں کیوں لے گیا تھا۔ مچھلیاں مریں گی۔ ستارے گریں گے۔ معصوم پریوں پر آفت آئے گی اور نیرو بانسری بجائے گا۔

بلیک ہول۔ ایک پر اسرار مقام۔ یہ تنہائی مجھے بلیک ہول کے قریب لے آئی ہے۔ کیا لوگ ایسے بھی مرتے ہیں؟ ایک بوڑھا ہے، جس نے اچھے لباس پہن رکھے ہیں۔ لمبا تڑنگا لیکن وہ لنگڑا کر چل رہا ہے۔ میں اس سے پوچھتا ہوں تو وہ اپنے بارے میں بتاتا ہے۔ وہ دمے کا مریض ہے۔ وہ اکیلا رہتا ہے۔ اور اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔ وہ لنگڑاتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔ میں ایک مزدور کو دیکھتا ہوں جو ایک بند دکان کی سیڑھی پر بیٹھا ہے۔ بے یقینی، عدم برداشت اور لایعنیت کے درمیان، وہ جو بوڑھا ہے اور وہ جو مزدور اور ایک تیسرا، جو شہر کے خاموش جنگلوں میں نیرا کی یاد سے باہر نکلنا چاہتا ہے۔ رخسانہ کے لفظوں میں ایک غلیظ سور۔ چلتے چلتے جس پر تکان حاوی ہے۔ اور سورج سر پر آ گیا ہے۔

مغل بادشاہوں کے وقت کی پرانی دلی اور اس وقت کی رونقیں مجھے یاد آ رہی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ پرانی دلی کی گلیاں تنگ ہوتی چلی گئیں مگر رونق میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اب گلیاں سنسان۔ اور مجھے ایک بزرگ عورت کی آواز سنائی دی جو کہہ رہی تھی۔ یہاں کے لوگ چلنا بھول گئے ہیں۔ گھروں میں قید ہیں اور پتہ نہیں، زندہ بھی ہیں کہ نہیں۔ میں نے شالنی کو فون لگایا۔ وہ گہری اداسی کا شکار تھی اور سارا کام گھر سے آن لائن انجام دے رہی تھی۔

اس نے بتایا، میں اب بھی شک کے گھیرے میں ہوں کہ بے مقصد تنہائی کی قید کا راز کیا ہے۔ مجھے 1920 کے وائرس کے بارے میں معلومات حاصل ہیں مگر اس نئے وائرس کے بارے میں، میں اب بھی شک میں مبتلا ہوں۔ میں نے اس سے صدی قبل وائرس کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے کچھ تفصیلات مجھ تک پہنچائی۔ غلط رپورٹنگ کی وجہ سے ہسپانوی فلو مشہور ہوا، اسپین کی پہلی جنگ عظیم سے وائرس نکلا اور پھیلتا گیا۔ وائرس نے دوسرے ممالک میں بہت تباہی پھیلائی، جو اس جنگ میں شکست کھا جانے سے بچنے کے لئے چھپے ہوئے تھے۔

وائرس نے ان کا بھی آسان شکار کیا۔ تباہی میں 5 کروڑ کی ہلاکت سامنے آئی۔ اب کتنے لوگ ہلاک ہو چکے ہیں؟ شالنی نے پوچھا۔ ہمارے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔ ایک گمنام وائرس سب کو ہلاک کر رہا ہے۔ پہلی جنگ عظیم نے جرمنی، برطانیہ، فرانس اور امریکہ کو اطلاعات کی فراہمی سے دور رکھا تھا، عوام میں خوف و ہراس نہ پھیلے مگر یہاں کیا ہو رہا ہے۔ انفلوئنزا پھیلنے سے بہت کم عمر افراد اور بوڑھے افراد ہلاک ہو جاتے ہیں، درمیانی عمر کے لوگ محفوظ ہوتے ہیں، اسی طرح سوائن فلو آیا اور چلا گیا۔

مگر یہ وائرس؟ کیا تم سوچتے ہو کہ یہ وبا ہے؟ یا عالمی سازش؟ میں اب بھی یقین نہیں کر رہی ہوں کہ یہ وبا ہے۔ کیا ساری دنیا نے ایک ساتھ مل کر اس سازش کو جنم دیا ہے؟ عوام اور حکومت کے درمیاں رسہ کشی۔ مطلق العنان حکومتیں، جو آخری سانس تک تخت و تاج چاہتی ہیں جبکہ عوام کا رویہ مختلف ہے۔ میں دیکھ رہی ہوں کہ ہمارے درمیان اندھے، لنگڑے، لولے اور آرام پسندوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ معیشت زیرو، بیروزگاری۔ ایک وائرس کی ضرورت تھی انصار۔

کیا یہ شک و شبہات کے وائرس ہیں ؟
ہاں۔ اور ہمیں گھروں میں، اسپتالوں میں مارا جا رہا ہے۔

میں اس وقت کہاں ہوں، مجھے خود نہیں معلوم۔ ندی کے درمیان بہنے والی پانی کی دھاروں نے خطرناک سرنگیں پیدا کردی ہیں۔ ایک چٹان ہے۔ چٹان کے اندر ان گنت اور لمبی سرنگیں ہیں۔ ان کا پتہ مجھے پانی میں ڈوبنے سے چلا ہے۔ جب انسان خطرناک سرنگوں میں بہہ کر پھنس جاتا ہے تو باہر نکلنا مشکل ہوتا ہے۔ قدیم ہندوستان میں بہت سارے خطرناک، پراسرار راستے رہے ہیں جو اب بھی موجود ہیں۔ قدیم زمانے میں، آج کی طرح یا قرون وسطیٰ کے دور کی طرح سڑکیں نہیں تھیں۔

پیدل چلنا پڑتا تھا، دوسری طرف ہاتھی گھوڑوں کی نقل و حرکت سے راستہ بناتے تھے۔ ابتدا میں جنگلات گھنے اور خطرناک تھے۔ جنگل میں ایک سے زیادہ خطرناک شکاری جانور تھے۔ ان سے بچنے کے لئے انسان ایسی راہیں اختیار کرتے تھے جو محفوظ ہوں۔ بہت سے راستے جو شارٹ کٹ تھے وہ بھی پرخطر تھے۔ سرنگیں، اس وقت بھی انسان تحفظ کے لئے سرنگیں بناتا تھا۔ عام طور پر پہاڑ کھود کر سرنگیں بنائی جاتی تھیں۔ زمین کے اندر بہت ساری سرنگیں تھیں۔

ان میں سے کچھ قدرتی تھیں۔ یہ سرنگیں زمین کے نیچے بہنے والے پانی کے دھارے سے تشکیل دی جاتی تھیں، جسے بعد میں انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ قرون وسطیٰ کے دور میں فرار ہونے اور بچنے کے لئے بہت ساری سرنگیں تعمیر کی گئیں جو آج تک موجود ہیں۔ بہت سارے بادشاہوں نے ان سرنگوں میں اپنا خزانہ پوشیدہ رکھا۔ ان سرنگوں میں سے کچھ ایسی ہیں کہ جس میں ہاتھیوں، گھوڑوں اور سپاہیوں کی ایک پوری فوج آسانی سے، اس طرف سے گزر جاتی تھی۔

میں اندھیری سرنگ میں ہوں۔ اور مجھے خانقاہ کی بوسیدہ دیواریں یاد آ رہی ہیں۔ میں اس شخص کو یاد کر رہا ہوں، جس نے دار بقاء میں، میرا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ میں ن م راشد کو یاد کر رہا ہوں جو بے نیازی کے عالم میں چہل قدمی کرتے ہوئے منتشر، تار تار مستقبل کا نقشہ دیکھ رہے تھے۔ مجھے اس سرنگ سے باہر نکلنا ہے۔ آسمان سے سمندر کی طرف آتا ہوا ایک طوفانی بگولا ہے، جو مجھے خوف زدہ کر رہا ہے۔ پانی کے بگولے کے ساتھ آسمان مکمل تاریکی میں ڈوب گیا ہے ۔ زمین سے آسمان تک بلند بگولے کا منظر اتنا خوف ناک ہے کہ بند سرنگ میں مجھے اپنی سانسیں گھٹتی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں۔

میں رخسانہ سے کہتا ہوں۔ ہاں، میں ہوں، بگولوں کے درمیان، ڈوبتے سورج کے درمیان، اور سرنگ کے اندر۔ اور دنیا سیاست کی ڈولفن مچھلی ہے، جو بظاہر معصوم مگر رقص ہیبت ناک۔ اور ہم رقص دیکھنے پر مجبور۔

دوسری صبح ناشتہ کرنے کے بعد میں گھر سے نکل پڑا۔ مجھے میڈیکل اسٹور سے کچھ دوائیاں بھی لینی تھیں۔ کچھ دور جانے کے بعد مجھے وہ بزرگ دوبارہ نظر آئے، جنہیں میں نے لنگڑاتے ہوئے دیکھا تھا۔ آج وہ سوٹ میں تھے اور ایک بند دکان کے زینے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ بزرگ مجھے دیکھ کر مسکرائے، کہا، اتفاق کہ میں جانے ہی والا تھا۔ کیا آپ میرے گھر چل کر دو کپ چائے تیار کریں گے؟

میں مسکرایا اور ان کے ساتھ چل پڑا۔ وہ لنگڑا کر چل رہے تھے۔ اور ان کا گھر اس مقام سے کافی دور تھا۔ تنگ گلیوں کو عبور کرتے ہوئے میں ان کے ساتھ ایک بوسیدہ گھر کے دروازے تک پہچا۔ دروازہ کھلا تھا۔ یہ میرے لئے تعجب کی بات تھی۔ بزرگ مسکرائے اور بولے۔ چور آیا بھی تو کیا لے جائے گا۔ میں اس کے ساتھ بھی ایک کپ چائے پینا پسند کروں گا۔

ایک وقت تھا، جب پرانی دلی میں بڑی بڑی حویلیاں ہوا کرتی تھیں کچھ حویلیاں وقت کے ساتھ منہدم کر دی گیں۔ یہ گھر مجھے کسی حویلی کا ایک مختصر حصہ معلوم ہو رہا تھا۔ مجھے ٹوٹی پرانی حویلیوں سے والہانہ لگاؤ ہے۔ مغل دور کی چند مشہور حویلیاں بھی اب قصہ پارینہ بن چکی ہیں۔ ایک پرانے زمانے کا صوفہ تھا۔ بزرگ نے مجھے بیٹھنے کے لئے کہا۔ دیواروں پر نہ کوئی پینٹنگ تھی، نہ افراد خانہ کی تصویریں، اندر داخل ہونے کے بعد جو کمرہ تھا، بوڑھے شخص کے لئے سب کچھ یہی کمرہ تھا۔ یہاں ایک بستر تھا جس پر شکن زدہ چادر پری تھی۔ بوڑھے نے اپنا نام راج کشور بتایا اور یہ بھی کہ اس کی دلچسپی مذہب میں نہیں ہے۔ کمرے سے ملحق باورچی خانہ تھا۔ جہاں کھانے پینے کے سامان افراط میں تھے۔ میں نے دو کپ چائے تیار کی اور راج کشور کے سامنے بیٹھ گیا۔

چائے اچھی ہے اور تم شاید کوئی رپورٹر ہو۔
تھا۔ میں نے آہستہ سے کہا۔
خیر۔ میری دلچسپی اس بات میں نہیں کہ تم کون ہو، بوڑھا ہنسا، چائے بہت اچھی تو نہیں مگر پی جا سکتی ہے۔
میں تجسس بھری نظروں سے گھر کی خاموش دیواروں کو دیکھ رہا تھا۔

راج کشور نے قہقہہ لگایا۔ یہاں کچھ بھی نہیں ملے گا۔ جو کچھ ہے میری خاموشی میں دفن ہے۔ میں ہوں اور میری تنہائی۔

راج کشور نے چائے ایک طرف رکھی۔ میری طرف دیکھا اور پوچھا، کیا تم بوڑھے عقاب کے بارے میں کچھ جانتے ہو، اتنا کہہ کر وہ زور سے ہنسا، بوڑھا عقاب، جیسا کہ کبھی میں تھا، مجھے شکار پسند تھا۔ ندی نالے پسند تھے۔ سمندر کی گہرائیاں پسند تھیں۔ میری فطرت میں رومانیت تھی۔ میں حقیقت میں ایک پرواز کرتا ہوا عقاب تھا۔

میں نے بزرگ کی طرف دیکھا۔

راج کشور کی آنکھیں چھت کی طرف دیکھ رہی تھی۔ عقاب بوڑھا ہو جائے تو وہ دوبارہ جوان ہونا چاہتا ہے۔ وہ چٹان پہاڑوں کا سفر کرتا ہے۔ اپنی کند چونچ کو پتھروں سے ٹکراتا ہے۔ وہ اپنے سارے ناخن اس امید میں توڑ ڈالتا ہے کہ وہ جوان ہو رہا ہے۔ بدنصیب عقاب۔

راج کشور مسکرائے۔ خود کو اذیت دینا آسان ہوتا ہے کیا؟ میں نے کئی بار سوچا عقاب بن جاؤں۔ سوچتے سوچتے وائرس آ گیا۔ اب وائرس پکڑنے اسی طرح گلیوں گلیوں کی خاک چھانتا ہوں جیسے کسی زمانے میں مچھلیاں مارا کرتا تھا۔

کیا آپ مرنا چاہتے ہیں؟
بالکل نہیں۔
زندگی سے تھک گئے ہیں؟
بالکل نہیں۔ راج کشور ہنسے
پھر یہ وائرس پکڑنا؟
اوہ۔ راج کشور ہنسے۔ زندگی بھر شکار کا شوقین رہا۔ ایک شکار وائرس کا بھی تمہیں کیا لگتا ہے؟
وائرس؟
ہاں۔ تم اس بارے میں کیا خیالات رکھتے ہو؟
کبھی کبھی لگتا ہے، وائرس ہے اور کبھی کبھی لگتا ہے۔

وائرس نہیں ہے۔ راج کشور دل کھول کر ہنسے۔ کیا پہلے لوگ نہیں مرتے تھے؟ کوئی گننے والا تھا کہ سال میں کتنے مرے۔ بوڑھا عقاب چونچ مارتا ہے۔ سیاست نے بھی چونچ مارنا سیکھ لیا ہے۔

اگر آپ کہیں تو میں بستر پر پاؤں پھیلا لوں؟
ضرور۔

راج کشور نے پاؤں پھیلا لئے۔ ان کی آنکھیں چھت کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ جنگلات، پہاڑوں اور برفیلے ماحول میں شکار۔ بس اب شکار کے واقعات یاد آتے ہیں۔ اس کے سوا کچھ یاد نہیں آتا، اگر آپ کے پاس شکار رائفلیں اور آسالٹ رائفلیں موجود ہیں تو اپنے پسندیدہ ماحول کا انتخاب کریں۔ آہ! پرانے دن، ہرن، جنگلی جانوروں کے شکار کے دن۔ مگر اب کیا ہو رہا ہے۔ شکار، دنیا میں دو ہی قومیں ہیں۔ شکار اور شکاری۔ ہم شکار ہیں اور شکاری نے جال پھیلا رکھا ہے۔ اب دیکھو۔ وائرس کا حکم کیا ہے۔ فاصلہ رکھو، یہ بھی شکار ہے۔ رشتوں کا شکار۔ اور ہم آسانی سے شکار ہوئے جا رہے ہیں۔ راج کشور نے دوبارہ قہقہہ لگایا۔ اس پورے نظام میں جو زندہ ہے، وہ مسخرہ ہے۔ اور مسخرے بھی مارے جا رہے ہیں۔

میں اس جملے پر چونک گیا۔ مجھے ابا حضور کی یاد آئی۔ ایک معمولی مذاق۔

راج کشور نے میری طرف دیکھا۔ اس بار وہ سنجیدہ تھے۔ میری طرح تنہائی کو اپنا شکار کرنے دو۔ تنہائی فرحت بخش ہوتی ہے اور ذرا بھی نہیں ڈراتی۔ ہم بھی خود کو شکاری کی آغوش میں چھوڑ دیتے ہیں۔ لطف آتا ہے۔ ایک دن بستر خالی میرے ساتھ ساتھ تنہائی بھی غائب۔ یہ زندگی ایک غیر ضروری تفریح ہے جو آخر میں تنہائی کی طرف لے جاتی ہے۔

میں پولیس کی گاڑیوں کے سائرن سن رہا تھا۔ میں نے راج کشور کی طرف دیکھا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ دو روز قبل ایک عجیب بات ہوئی۔ میں پاخانہ کرتے ہوئے گر گیا۔ دو منٹ کا وقفہ۔ میں نے دیکھا کہ میں خلا میں ہوں۔ میں نے ایک داڑھی والے کو دیکھا جو ایک کبوتر کی گردن مروڑ رہا تھا۔ یہ خواب کی کیفیت بھی عجیب ہے۔ ہم نیم مردہ ہوتے ہیں۔ ہماری روح برہنہ حالت میں ہوتی ہے۔ برہنہ اور تیرتی ہوئی روح، جو مردہ خانے کا طواف کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

کیا آپ نے کچھ اور بھی دیکھا؟ یاد کیجیے۔

ہاں۔ دھندلا سا ایک آدمی، جس کا ہاتھ ایک بوڑھے نے تھام رکھا ہے۔ مگر وہ آدمی اچانک میری نظروں سے غائب ہو گیا۔ میں اٹھا تو میرے کپڑے ناپاک تھے۔

دھندلا سا ایک آدمی۔ میں نے راج کشور کی طرف دیکھا۔ خلا اور ایک داڑھی والا، ایک دھندلا سا آدمی۔
میں نے اس وقت کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا۔ اور خاموشی سے دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔
کیا راج کشور نے مجھے دیکھا تھا؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ کیا دو آدمیوں کے خواب ایک جیسے ہو سکتے ہیں؟

میں نے وبا اور وائرس کے موسم میں کچھ عجیب و غریب خوابوں کے مطلق پڑھا تھا۔ فلپائن کی ایک نوجوان لڑکی نے خواب میں دیکھا کہ وہ آدھی رات کو ایک ہسپتال میں تھی اور ایک ڈاکٹر اس کے ہاتھ کا آپریشن کر رہا تھا۔ پھر ایک ہاتھ نظر آیا۔ کچھ لمحوں بعد وہ اس عمارت سے، ایک ہاتھ کے ساتھ ہی نکل گئی۔ اس نے دیکھا کہ ڈاکٹر اس کا کٹا ہاتھ پکڑے اس سے کھیلتا ہوا جا رہا تھا۔ اس نے اس ہاتھ کو کاٹنا بھی شروع کر دیا۔ چین میں وائرس حملے کے بعد ایک عورت نے خود کو آگ کے شعلوں اور سانپوں کے درمیان پایا۔

برطانیہ کے ایک نوجوان نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک شیطان کے ساتھ ہے اور شیطان کی داڑھی بڑھی ہوئی ہے۔ پراسرار خواب جو بہت حد تک مستقبل کی تعبیر بھی ہوتے ہیں۔ میں خوابوں کے درمیاں تھا اور خانقاہ اور کلیسا کے مناظر کو یاد کر رہا تھا۔ اکثر خواب کی پرتوں میں گہرا سرخ رنگ ہوتا ہے۔ اس رنگ سے ایک سیڑھی بن جاتی ہے اور سیڑھی کے سہارے ہم خواب کی دنیا کی زمین پر قدم رکھ دیتے ہیں۔

خواب نے کہا، تم چاہو تو تمہیں ابا کے پاس پہچا دوں۔ وہاں کیا ہوگا؟ خواب نے کہا کہ یہ تو دیکھنے کے بعد ہی جانو گے۔ اچھا پہنچا دو۔ میں خواب کے زینے پر کھڑا ہوں اور خواب مجھے زینے سے اوپر کی طرف کھینچتا ہے۔ میں لوہے کی زنگ لگی سلاخوں کو دیکھتا ہوں۔ سلاخوں کے اس پار خلا ہے۔ میں آہستہ سے کہتا ہوں، گہری نیند کے سوا یہاں کوئی کردار نہیں۔ پھر سے دیکھو۔ مجھے کہا جاتا ہے۔ میں دوبارہ سلاخوں کے پار دیکھتا ہوں۔ اور غصے سے کہتا ہوں۔ ایک خلا، اور خلا میں اٹکی ہوئی خاموشی۔ اور خاموشی میں تیرتے ہوئے آسیب۔ آہ! خواب نے جواب دیا۔ تم نے سب دیکھ لیا۔ وہ بھی جو تمہیں نہیں دیکھنا چاہیے تھا۔ تم غور سے دیکھتے تو کچھ مردہ مچھلیاں بھی نظر آتیں۔ آج کے دن کے لئے اتنا خواب کافی ہے۔

اب میں چنار کے عظیم الشان درختوں کے درمیان ہوں۔ تیز بارش میں بھی چنار کے درخت پناہ لینے والوں کو بھیگنے نہیں دیتا۔ مگر میں بھیگ رہا ہوں۔ خطہ کشمیر کا موسم خزاں اتنا دلکش، دل فریب ہوتا ہے کہ چنار کے زرد ہوتے پتے وادی میں موسم بہار کا منظر پیش کرتے ہیں۔ خزاں بھی، بہار بھی۔ مگر اب ان پتوں سے آگ نکل رہی ہے۔ میں شیریں جیلانی سے بات کر رہا ہوں۔ مدتوں بعد اس کا فون آیا ہے۔ وہ بتا رہی ہے کہ صالحہ اب ٹھیک ہے۔

وہ تم سے کچھ باتیں کرنا چاہتی ہے۔ میں صالحہ سے بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ خلا میں تیرتی مردہ مچھلیاں۔ یہ مچھلیاں اس وقت مجھے خوف زدہ کر رہی ہیں۔ وہ کیا بات کرے گی مجھ سے۔ ہیلو۔ میں آہستہ سے کہتا ہوں۔ کشمیری زبان میں، غم و غصہ کی کیفیت ہے، جسے میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ پھر وہ اردو میں بات کرتی ہے۔ مجھے پیسے بھیجنا بند کر دو۔ مجھے اپنے بھائی کے قاتل کا پیسہ نہیں چاہیے۔ پھر کشمیری زبان۔ پھر وہ لمبی سانس لے کر اردو میں کہتی ہے، اب سوچتی ہوں کہ اب تک کشمیر میں جو کچھ ہوا، اس کے ذمہ دار کون تھے؟ وہ تم لوگ تھے۔ غدار، بے رحم اور کشمیر کا سودا کرنے والے۔ تم نے میرے معصوم بھائی کا سودا کیا۔ دراصل تم کشمیر کا سودا کر رہے تھے۔

فون شیریں کے پاس تھا۔ شیریں نے بتایا کہ وہ تم سے سخت ناراض ہے۔ اور تمہاری حقیقت جان گئی ہے۔ اب پیسے بھیجنے کی ضرورت نہیں۔

چنار کے زرد پتے اچانک شارک مچھلی کے جبڑوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ شارک کے منہ میں ہزاروں دانت ہوتے ہیں۔ اس وقت یہ دانت میرے جسم میں پیوست ہیں۔ جسم سے لہو کے فوارے چھوٹ رہے ہیں۔ میری آواز گنگ ہے۔ ایک اجنبی خاموشی اپنی لہروں کے ساتھ مجھے بہا کر لے گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply