کیا آپ کی خواہش اور کام ہم آہنگ ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی گزرے کل کی بات ہے کہ میں نے گاڑی چلاتے ہوئے ایک رکشا پر لکھا ہوا دیکھا:
قسمت کا مارا ہوں، مقدر بھی ہار چکا ہوں /کسی بے وفا کی خاطر رکشا چلا رہا ہوں

یہ شعر جب نظر سے گزرا تو مجھے یہ محسوس ہوا کہ رکشا ڈرائیو کرنے والے ہمارے کپتان رکشا مجبوری کے عالم میں چلا رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رکشا چلانا ان کا شوق اور مشغلہ نہیں ہے بلکہ وہ رکشا اپنی ناگزیر معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے چلا رہے ہیں۔

ہم جب اپنے آس پاس متوجہ ہوتے ہیں تو ہم پر منکشف ہوتا ہے کہ پیدائشی کمہار لوہار بنا ہوا ہے اور معزز لوہار جو لوہے سے فن کے نمونے بنا سکتے تھے ، وہ ہوائی جہاز کے پائلٹ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ جسے جہاں ہونا چاہیے تھا وہ وہاں پر موجود نہیں ہے اور جو جہاں پر موجود ہے ، اسے کہیں اور اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہیے تھا۔ سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا ہے۔

عربی زبان میں ظلم کی یہ تعریف بیان ہوئی ہے کہ ”کسی شخص یا چیز کو اس کی جگہ سے ہٹا دینا“ ۔ دوسرے لفظوں میں کوے کو ہنس کی چال چلنے کے لئے مجبور کرنا اور ہنس کو کوے کا چولا پہنا دینا ظلم ہے۔ جو موسیقار بننا چاہتا تھا وہ اکاؤٹنٹ بنا ہوا ہے اور دو جمع دو چار کرنے والے منشی وہ فیصلے کر رہے ہیں ، جن کے دوررس سماجی و نفسیاتی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ہماری موجودہ دنیا کے سب سے بڑے سٹاک بروکر جناب وارن بفے فرماتے ہیں کہ ”ہر شخص کو اس دائرے میں کام کرنا چاہیے جہاں پر اس کی صلاحیت ہے“ ۔ ہمارے ذہن میں ہر وقت اگر اشعار منظوم ہوتے رہتے ہیں تو پھر ہمیں کسی ادارے کی سربراہی قبول نہیں کرنی چاہیے کیونکہ مینجمنٹ کی رنگ بدلتی چڑیا شعراء کے نفیس شانوں پر براجمان نہیں ہوا کرتی ہے۔

ہمارا غیر انسانی معاشی و سماجی نظام پیدائشی فنکاروں کو بھی مجبور کر دیتا ہے کہ وہ بھی ایڈمینسٹریشن سے متعلق کوئی زیادہ کمائی والی ملازمت تلاش کریں کیونکہ شاعری اور فنون لطیفہ سے کلیتاً وابستگی سے گزر بسر ممکن نہیں ہے۔

خواہش قلبی اور فرض منصبی میں اگر اتصال ہو جائے اور شوق ہی اگر فرض بن جائے تو پھر استاد راحت فتح علی خان بننے میں دیر نہیں لگتی ہے۔ شوق اگر فرض بن جائے تو پھر کام بوجھ محسوس نہیں ہوتا ہے بلکہ ریاض کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جن گلوکاروں کی صدا رس بھری ہے اور گلا سریلا ہے ، وہ شہرت پانے کے بعد اپنے نغمات کے بول بھی خود ہی لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارا اپنا سجاد علی جس کے گیت قلوب کو چھو لیتے ہیں ، جب اپنے نغمات کے بول بھی خود لکھتے ہیں تو کانوں میں رس گھلتے گھلتے یوں لگتا ہے کہ کسی نے کانوں میں اچانک سوئی چبھو دی ہو۔

ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ احسن الخالقین نے ہر شخص کو ایک مخصوص کام کے لیے ہی پیدا کیا ہے اور جب بھی وہ اپنے میدان کے علاوہ دوسرے میدانوں میں بھی گھاس چرنے کے لیے جاتا ہے تو پھر اس کی کارکردگی اوسط درجے پر ہی رک جاتی ہے۔

تانگے کے کوچوان کو ہم جب ہوائی جہاز کے کاک پٹ میں بٹھا دیں گے تو پھر وہ ہوائی جہاز کو بھی چابک مار مار کر چلائے گا اور ہوائی جہاز کے برقی نظام کو گھوڑا سمجھ کر دولتیاں مارے گا اور پھر ایسا کرنے سے ہوائی جہاز ہچکولے کھانا شروع ہو گا اور پھر سارے مسافر لقمہ اجل بننے سے قبل تکبیر تحریمہ کا ورد اپنے ہونٹوں پر جاری کر لیں گے۔

رئیل اسٹیٹ ڈوپلیرز کو ملک ریاض صاحب کے نقوش پا پر چلتے ہوئے تعمیر کے شاہکار بنانے چاہیے اور سینیٹر بن کر اپنا ٹیلنٹ ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ سرخی پاؤڈر لگانے والی وزیر اطلاعات کو ڈراموں میں آنکھوں میں دھول جھونکنے والے کردار ادا کرنے چاہیے۔ اپنی ہی آواز سننے کے عشق میں گرفتار صاحبان اقتدار کو اساتذہ کی خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لئے ملازمت کی درخواست دینی چاہیے۔

ہمیں اپنے سماج میں ہر شعبے کے فنکاروں کو قابل عزت روزگار دینا چاہیے۔ جنگ کے ہیرو بے شک ہوتے ہیں اور امن کا زمانہ بحال کرنے والے بھی ہیرو ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply