بھارت کی سپریم کورٹ میں قرآن مجید کی 26 آیات پر پابندی کی درخواست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہندوستان کے صوبہ اتر پردیش کے ایک مسلمان وسیم رضوی نے بھارت کی سپریم کورٹ میں اپنی طرف سے مفاد عامہ کے لئے یہ دعویٰ پیش کیا ہے کہ قرآن مجید کی چھبیس آیات کو قرآن مجید سے خارج کر دیا جائے۔ دعوے میں یہ بنیاد پیش کی گئی ہے کہ درخوات گزار کے نزدیک ان آیات میں تشدد کی تعلیم دی گئی ہے اور ان کی وجہ سے دہشت گردی پھیل رہی ہے۔ فوری طور پر ممبئی کی رضا اکیڈمی نے سپریم کورٹ میں درخواست دی کہ اس درخواست کو فوری طور پر رد کیا جائے اور درخواست گزار کے خلاف مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی پاداش میں کارروائی جائے۔

اس کے علاوہ بھارت کی بہت سی مسلمان تنظیموں نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے۔ اور 16 مارچ کو اتر پردیش میں درخواست گزار کے خلاف ایک ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی ہے۔ اس کے جواب میں درخواست گزار نے ایک ویڈیو جاری کی ہے کہ وہ آخری سانس تک اپنے موقف پر قائم رہے گا اور اس درخواست کو واپس نہیں لیا جائے گا۔ اور انٹرویو میں کہا ہے کہ ان آیات میں یہ نظریہ پیش کیا گیا ہے تم دوسرے دھرم کے لوگوں سے الگ ہو اور تمہیں کافروں کا قتل کرنے کی چھوٹ دی گئی ہے۔

بہت سے اہل علم اس قسم کے استدلال کو غلط ثابت کرنے کے لئے قلم اٹھایا ہے اور اس درخواست کی مذمت میں بہت کچھ کہا اور لکھا ہے۔ اس کالم کا مقصد ان دلائل کو دہرانا نہیں ہے۔ ہندوستان کے میڈیا کا ایک حصہ اس درخواست کو بڑھا چڑھا کر اور مزے لے کرپیش کر رہا ہے۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ایک ایسی مذہبی کتاب کی عبارت کو جو کہ چودہ سو سال سے دنیا بھر میں معروف ہے ، ایک ملک کی سپریم کورٹ کس طرح تبدیل کر سکتی ہے؟

اس کالم میں دو سوالوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایک دیوانے کی تنہا کوشش ہے یا ایک روش کا حصہ ہے؟

دوسرا سوال یہ کہ کیا ایسا مقدمہ باقی مذہبی کتب کے خلاف بھی قائم کیا جا سکتا ہے کہ نہیں؟

پہلے سوال کے متعلق عرض ہے کہ 1985 میں بھی بھارت میں ایک ہندو چندمال چوپرا نے کلکتہ ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی کہ قرآن مجید پر پابندی لگا دینی چاہیے۔ اور اس شخص نے درخواست دی تھی کہ اس سے معاشرے میں دشمنیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ اس کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش میں فسادات شروع ہو گئے تھے۔ کلکتہ عدالت کی سوچ ملاحظہ ہو، اس درخواست پر سماعت بھی شروع کر دی۔ اس بناء پر مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ نے مطالبہ کیا تھا کہ اس جج کے خلاف کارروائی چاہیے۔ بہرحال یہ پٹیشن کو خارج کر دی گئی لیکن یہ ایک خطرناک مثال قائم ہو گئی۔

وسیم رضوی کے موقف کو مان لیں تو پھر جس مذہبی کتاب میں بظاہر تشدد کی تعلیم پائی جاتی ہو یا کسی شخص کے استدلال کے مطابق ان میں تشدد کی تعلیم موجود ہو تو پھر ملک کی سپریم کورٹ کو اس میں ترمیم کر دینی چاہیے۔ اس فارمولے کے تحت سب سے پہلے ہندو مت کی مقدس کتب یعنی ویدوں اور منو دھرم شاستر کا جائزہ لیتے ہیں۔ یقینی طور پر مختلف لوگ ان الفاظ سے مختلف استدلال کریں گے۔ اس کالم میں اصل عبارتیں درج کی جائیں گی تاکہ پڑھنے والے اپنی رائے قائم کر سکیں۔

ہندو مذہب کی مقدس کتاب یجر وید میں لکھا ہے:

”اے سخت ڈنڈا دینے والے راج پرش! آپ دھرم کے مخالف دشمنوں کو آگ میں جلا ڈالیں۔ اے جاہ و جلال والے پرش! وہ جو ہمارے دشمنوں کو حوصلہ دیتا ہے، آپ اس کو الٹا لٹکا کر خشک لکڑی کی مانند جلائیں۔“

[یجر وید تیرہواں ادھیائے منتر 12 ]

مطلب واضح ہے یعنی جو آپ کے دھرم کا مخالف ہے ، اس کو آگ میں زندہ جلا دینا چاہیے۔ اس سے اگلے منتر میں یہ عبارت اس طرح جاری رہتی ہے

” اے تیج ودوان پرش! آپ نیک اوصاف سے موصوف ہوں۔ دھرم کے مطابق چلیں۔ دشٹ دشمنوں کو تاڑنا کیجیے۔ اور ہمارے ودوانوں [یعنی دانشمندوں ] نے جو جو اشیاء بنائی ہیں۔ ان کو آپ شہرت دیں اور سکھ کو بڑھائیں۔ تیز رو دشمن کے کھانے پینے یا دیگر کام کاج کے مقامات کو اچھی طرح اجاڑیں اور ان کو اپنی تمام طاقت سے ماریں۔“

[یجر وید تیرہواں ادھیائے منتر 13 ]

اس بارے میں کہ دشمنوں سے کیا سلوک کرنا چاہیے یہ بیان کیا گیا ہے:

”ہم لوگ جس سے دشمنی کریں اور جو ہمارے سے دشمنی کرے اس کو ہم شیر وغیرہ کے منہ میں ڈال دیں۔ راجہ بھی اس کو شیر کے منہ میں ڈال دے۔“

[یجر وید پندرہواں ادھیائے منتر 17 ]

اس کے بعد یجر وید میں سپہ سالار کو ہدایات دیتے ہوئے یہ بیان کیا گیا ہے:

” ہم لوگ جس دشٹ [ یعنی بدکار] سے دویش [یعنی نفرت ]کریں۔ اور جو ہم سے دویش کرے اس کو ہم لوگ خونخوار جانوروں کے منہ میں ڈال دیں۔“

[یجر وید پندرہواں ادھیائے منتر 19 ]

اور دانشمند انسان کو مخاطب کر کے یہ کہا گیا ہے دشمنوں کے اعضاء کاٹنے سے راج کو حاصل کیا جاتا ہے اور پھر یہ ہدایت دی گئی ہے:

” اے اعلیٰ جاہ و جلال کی خواہش کرنے والے انسان تو بھی اس کو حاصل کر کے ایشور کی پوجا اور اشیاء کو حاصل کرنے والی اعلیٰ سے اعلیٰ ترکیبوں کا استعمال کر۔ جس طرح بھی دشمنوں کو ہلاک کیا جا سکے۔ اسی قسم کے کاموں کو کر کے سدا ہی راحت سے زندگی بسر کر۔“

[یجر وید۔ پہلا ادھیائے منتر 18 ]

عالموں کو ان الفاظ میں نصیحت کی گئی ہے:

”اے عالم انسان جس طرح تو روشنی سے معمور ہے۔ اسی طرح تو دشمنوں کو ہلاک کرنے والا ہو۔ اسی طرح تو ابھمانی [یعنی شیخی خورے ]دشمنوں کو ہلاک کرنے والا ہو۔“

[یجر وید۔ پانچواں ادھیائے منتر 24 ]

یہ تو وید سے چند مثالیں تھیں۔ ہندو مت کے مقدس قوانین منودھرم شاستر میں درج ہیں۔ اس میں بین الاقوامی تعلقات کے بارے میں بادشاہ کو یہ ہدایت دی گئی ہے:

”لیکن جب وہ دیکھے کہ اس کے عوام طمانیت میں ہیں اور وہ خود طاقت میں برتر تو دشمن کے خلاف جنگ چھیڑ دے۔

جب دیکھے کہ اس کی فوج خوش باش اور مضبوط ہے اور یہ کہ دشمن اس کے الٹ تو فوراً دشمن پر چڑھ دوڑے۔ جب رتھوں لادو جانوروں اور عددی اعتبار سے کمزور ہو تو نہایت محتاط ہو کر خاموش بیٹھے اور رفتہ رفتہ دشمنوں سے مفاہمت کرتا چلا جائے۔ ”

[منو دھرم شاستر اردو ترجمہ از ارشد رازی ص 160 ]

مختلف لوگ ان حوالوں کی ایسی تشریح کریں گے جس سے امن کی جگہ فساد نہ پیدا ہو اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔ اس عاجز کا سوال یہ ہے کہ کیا وسیم رضوی اور ان کے ہمنوا بھارت کی سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کرنے کا تکلف کریں گے کہ مندرجہ بالا منتروں کو وید سے نکال دیا جائے کیونکہ ان میں ہمیں تشدد کی تعلیم نظر آتی ہے۔ اس میں دوسرے دھرم کے لوگوں کو زندہ جلانے کی تعلیم دی گئی ہے۔ یا پھر یہ التجا کریں کہ منودھرم شاستر پر پابندی لگا دی جائے کیونکہ اس میں حکمرانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ طاقت حاصل ہوتے ہی ہمسایہ ملک پر حملہ کر کے دنیا کا امن برباد کر دو۔

اگر وہ یہ ہمت کریں تو امید ہے جلد ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر عدالت اس لغو درخواست پر کارروائی شروع کرے تو بھارت کے مسلمان سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن پیش کر دیں کہ اگر بھارت کی عدالت عظمیٰ وسیم رضوی کی درخواست کے ساتھ وید اور منودھرم کے ان حوالوں پر بھی غور کر لے تو بار بار کارروائی کا تکلف نہیں کرنا پڑے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی لغو اور فتنہ پرور حرکات سے سوائے فسادات کے اور کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ دلیل سے اظہار خیال کرنا ایک مختلف چیز ہے لیکن سپریم کورٹ میں استدعا کر کے ایک مذہب کی مقدس کتاب پر پابندی لگانا بالکل مختلف بات ہے۔ بہتر ہو گا اگر یہ سلسلہ ابھی روک دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply