ہمارا تصورِ ذات کیسے بنتا ہے(آخری قسط)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ذکر کر چکے ہیں کہ ذات کو لاحق خطرات سے نپٹنے کے دو طریقے ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان تکلیف دہ واقعات اور خطرات سے پیدا ہونے والے منفی جذبات سے نمٹا جائے۔

Emotional Focused Coping اور دوسرا طریقہ یہ کہ اس خطرے سے براہ راست دو ہاتھ کیے جائیں جس کو ہم Problem Focused Coping کہہ سکتے ہیں۔ اس آخری قسط میں ہم یہی دیکھیں گے کہ ہم خطرات سے براہ راست کس طرح نپٹ سکتے ہیں اور عمومی طور پہ لوگ کس طرح اس طریقے کو استعمال میں لاتے ہیں۔

زندگی میں اکثر ایسے واقعات اور حادثات درپیش آتے رہتے ہیں جو ہمارے تصور ذات کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں اور جن کی بدولت ہماری ساری محنت جو ہم نے ذات کی تشکیل کے لیے کی ہوتی ہے ، ضائع ہو سکتی ہے۔

مثال کے طور پر آپ کو یقین ہے کہ آپ فلاں نوکری کے لیے سو فیصد تیار ہیں اور یہ کہ آپ کے اندر قابلیت بھی ہے کہ آپ اس نوکری کی ذمہ داری پوری کر سکیں لیکن آپ اس نوکری کے انٹرویو میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ اسی طرح ایک طالب علم اگر کسی بہت اہم امتحان میں کامیاب نہیں ہو پاتا ، جس میں کامیابی کے لیے اس نے بہت محنت کی ہو۔

آپ کی دوستی کسی سے اچانک ختم ہو جاتی ہے جب کہ آپ نے گمان کیا ہوتا ہے کہ یہ دوستی صدیوں چلے گی وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے سبھی وقعات اور حادثات ہمارے تصور ذات کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ آپ خود کو ایک لائق اور ذہین انسان تصور کرتے ہیں لیکن ممکن ہے کہ امتحان میں ناکامی کے بعد آپ خود کو کند ذہن خیال کرنے لگیں۔ تو عام طور پہ اس طرح کی صورت حال میں یا تو ہم غلطی ہونے پہ معافی مانگ لیتے ہیں اور یا پھر کوئی بہانہ تراش لیتے ہیں۔ بہانہ تراشنا ہماری تصور ذات کے لیے ضروری ہے۔

آپ سارے کا سارا ناکامی کا ملبہ کسی دوسرے پہ ڈال دیتے ہیں۔ مثلاً آپ کہیں گے کہ پرچہ بہت مشکل تھا، سوالات کورس کی کتب میں سے نہیں آئے تھے۔ پرچوں کو چیک نہیں کیا گیا وغیرہ وغیرہ۔ یاد رہے اس حوالے سے ہم اگر کامیاب ہو جائیں امتحان میں تو وہ سارا Credit ہماری محنت کو جاتا ہے لیکن ناکامی کی صورت میں وجہ ہماری ناساز طبعیت ہوتی ہے، گھر کی کوئی مجبوری ہوتی ہے یا پھر اساتذہ نے پرچہ مشکل بنایا ہوتا ہے۔

اگر آپ طالب علمی کے زمانے سے گزرے ہیں تو یہ طریقہ تو آپ نے لازمی اختیار کیا ہو گا۔ ہم اسے نفسیات میں Self Handicapping کہتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ آپ جب اپنی کارکردگی کے متعلق شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتے ہیں تو کارکردگی کا مظاہرہ کرنے سے پہلے ہی کوئی عذر پیش کر دیتے ہیں کہ بھئی میری صحت آج اچھی نہیں ہے یا یہ کہ میں تیاری نہ کر سکا اچھی طرح سے۔

ہم تو اکثر یہ کیا کرتے تھے سکول میں کہ امتحان سے پہلے ہی استاد صاحب کو کہہ دینا کہ سرجی! گھر یہ یہ کام تھا جس وجہ سے تیاری اچھی نہ ہو سکی ، باقی آپ ٹیسٹ لے لیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

تیاری تو کر رکھی ہوتی تھی ہم نے۔ اب اگر اچھا ہو گیا Test تو بھی ہم کامیاب ہوئے اور اگر اچھا نہ ہوا تو ہم نے تو پہلے ہی بتا رکھا تھا کہ جناب آج تیاری نہیں ہے۔ یہ طریقہ کار بہت زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ Self Handicapping شعوری کے علاوہ لاشعوری بھی ہو سکتی ہے۔ یعنی آپ کو علم نہیں ہوتا کہ آپ یوں کر رہے ہیں۔ جیسا کہ میں امتحانات کے دنوں میں عام طور پہ بیمار رہتا ہوں، میں چاہتا نہیں ہوں ایسا لیکن بس ہو جاتا ہوں خود ہی۔ یہ تو شکر ہے اللہ کا کہ کامیاب ہو جاتا ہوں ورنہ تو حضرت بہانہ کتنا خوبصورت ہے کہ بھائی صاحب میں بیمار ہو گیا تھا، اسی لیے نمبر کم آئے ہیں۔

اس سے پہلے کہ آپ اس ترکیب کو بے دریغ استعمال کرنا شروع کریں ، ذہن میں رکھیں کہ اس کی بہت بڑی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے ، سب سے پہلے تو یہ کہ اگر آپ اس ترکیب کو استعمال کرتے ہیں تو آپ کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ آپ سوچ رہے ہوتے ہو کہ آپ کے ذمہ تو معاملہ لگنا نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ غلطی کی صورت میں غلطی کی اصلاح کے چانس بہت کم ہو جاتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ خواتین ایسے مردوں کو بالکل بھی پسند نہیں کرتیں جو اس طرح بہانے بناتے ہوں۔ (لو کر لوگل ہن)۔ اس لیے اگر آپ اس ترکیب کو استعمال کرنے کے عادی ہیں تو جلد از جلد اس سے جان چھڑوائیں کیونکہ اس کے فائدے کم ہیں اور نقصان زیادہ۔

یہاں آخری نکتہ نہایت اہمیت کا حامل ہے اور وہ یہ کہ اگر آپ اپنی ناکامی کی ذمہ داری خود قبول کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اگر آپ کوشش کرتے تو کامیاب ہو سکتے تھے یا یوں کہیے کہ صورت حال آپ کے قابو میں تھی تو اس کے آپ پر مثبت اثرات ہوں گے۔ سب سے پہلے تو آپ اپنی غلطیوں اور خامیوں کے متعلق حساس ہو جائیں گے اور ان کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ لوگ جو حالات کو Controllable سمجھتے ہیں وہ پر امید اور باعمل ہوتے ہیں جبکہ حالات کو قابو سے باہر سمجھنے والے لوگ مایوس ہوتے ہیں۔

” ذات“ کو جاننے کا یہ سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ اگر آپ کا اس حوالے سے کوئی سوال ہو یا کسی نکتے کو تفصیل سے سمجھنا ہو تو آپ کمنٹ میں اپنا سوال لکھ سکتے ہیں۔ خدا حافظ!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply