‏اس شہر خفتگاں میں کوئی تو اذان دے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے پیارے آقا محبوب خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظلم اور برائی کے خاتمے کے لیے ہمیں تین درجاتی فارمولا عطا فرمایا ، اس پر عمل کر کے ہم اپنے معاشروں میں امن و امان اور محبت و آشتی کو فروغ دے سکتے ہیں۔ وہ فارمولا تھا کہ جب معاشرے میں ظلم و زیادتی اور برائی ہوتے دیکھو تو اسے روکو اگر طاقت رکھتے ہو۔ اگر طاقت نہیں رکھتے تو زبان سے اسے برا بھلا کہو۔ اگر یہ بھی نہ کر سکو تو دل میں اس کو برا جانو۔ یہاں دل میں برا جاننے کا جو مفہوم ہمارے معاشرے میں رائج ہے وہ درست نہیں۔ دل میں برا جاننے کا مطلب یہ ہے اس شخص کا جو اس برائی یا ظلم میں ملوث ہے کا سماجی مقاطعہ (سوشل بائیکاٹ) کیا جائے۔

آج ہمارا معاشرہ اسی لیے آلودہ اور تعفن زدہ ہو چکا ہے کہ ہم فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری درجہ پر بھی عمل پیرا نہیں ہیں۔ ہم ظالم کے دست و بازو اور برائی میں برے آدمی کے ممد و معاون ہیں۔ پاکستان میں وہ دن بھی تھے جب گلی محلوں میں رشوت خور سرکاری ملازموں کے گھروں میں اپنے بچوں کو بھیجنے سے پرہیز کیا جاتا تھا جو نامحسوس انداز میں سماجی مقاطعہ ہی تھا۔ صد افسوس یہ رسم بھی جاتی رہی۔

تھا جو نا خوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

آج رشوت خور صاحب عزت، لٹیرے محافظ، رسہ گیر منصف اور ڈاکو مسند نشیں ہیں۔ عوام بجائے سماجی مقاطعے کے ان کے تعریفوں میں رطب اللسان ہیں۔ پاکستان کی چوہتر سالہ تاریخ چیخ چیخ کر لٹی عصمتوں، بے گناہوں کے بہتے خون، سماجی ناانصافیوں، معاشرتی ناہمواریوں، مذہبی اجارہ داریوں، معاشی استحصال اور آمرانہ رویوں کی داستان سنا رہی ہے۔ کیا اسی لیے الگ مملکت کی حاصل کی گئی تھی؟ کیا اس لیے آ گ اور خون کے دریا عبور کیے گئے تھے؟ کیا اس لیے عصمتیں قربان کی تھیں؟ کیا اس لیے تاریخ عالم کی بڑی ہجرت وقوع پذیر ہوئی؟

آج ہم ”نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم“ کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ پاکستان جمہوری ریاست بن سکا نہ اسلامی۔ فلاحی ریاست تو اب دیوانے کا خواب لگتا ہے۔

دنیا جب ستاروں پہ کمندیں ڈال رہی ہے ، مریخ پر زندگی کے آ ثار ڈھونڈنے جا رہے ہیں۔ ہم اپنی نسلوں کو پراگندہ اور منتشر الخیال معاشرہ دے رہے ہیں جہاں دھونس دھاندلی، کرپشن، اقربا پروری، عدم برداشت، رشوت خوری، فرقہ واریت، تکفیریت اور جہالت کا دور دورہ ہے۔ جہاں اوصاف حمیدہ اور اخلاق فاضلہ صرف کتابوں تک محدود ہیں۔ جہاں علم کے نام پر جہالت اور مذہب کے نام پر نفرت تقسیم ہوتی ہے۔ جہاں قلم بکتا ہے اور لفظ کی حرمت پامال ہوتی ہے۔

جہاں انصاف طاقتور کی دہلیز پہ سجدہ ریز ہوتا ہے۔ جہاں قانون کے رکھوالے خود قانون سے کھلواڑ کرتے ہیں۔ جہاں کے آئین کی کل 280 دفعات میں سے صرف 40 عوام کے حقوق اور 240 طرز حکمرانی پر ہوں اور پھر بھی حکومتی رِٹ چراغ لے کر ڈھونڈنی پڑتی ہے۔ جہاں حکمرانوں کے جانوروں کو بھی وہ سہولتیں میسر ہیں جن کا عام آ دمی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جہاں کے حکمرانوں کے اللے تللے دیکھ کر پچھلے زمانوں کے بادشاہ بھی شرما جائیں۔ جہاں کے حالات دیکھ کر شاعر یہ کہنے پہ مجبور ہو جائے۔

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا
(شوق بہرائچی)

ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایسا ملک دے رہے ہیں جہاں نمبروں کی دوڑ میں طالب علم اپنی خداداد صلاحیتوں کا گلا گھونٹ کر ایک روبوٹ بن جاتا ہے۔ جہاں مسیحا قصائی بن کر انسانی اعضاء کی مویشیوں کی طرح خرید و فروخت کرتے ہیں اور معلمی کا پیغمبری پیشہ ہوس پرستوں کی آ ماج گاہ بنا ہوا ہے ۔ جہاں سی جی پی اے  دیوی کی قربان گاہ میں عصمتیں قربان ہوتی ہیں۔ جہاں کا انجنئیر بلند و بالا عمارات کی شکل میں اجتماعی قبریں بناتا ہے۔

جہاں گورستان کے لیے مختص جگہ بھی چائنا کٹنگ کی نذر ہو جاتی ہیں۔ جہاں ”جرم سے نفرت، مجرم سے نہیں“ کے سلوگن کے نیچے وہ اندوہناک اور شرمناک داستانیں رقم ہوتی ہیں کہ شیطان بھی شرما جائے۔ جہاں اہل سیاست اس قدر احساس سے عاری ہیں کہ بھوک سے بلکتے بچوں اور بیماریوں سے تڑپتے انسانوں پر سیاست کی بساط بچھا کر مخالفین کو شہ مات دیتے ہیں۔ جہاں چادر اور چار دیواری کا تقدس بوٹوں تلے روندا جاتا ہے۔ جہاں غداری اور کفر کے فتوے ریوڑیوں کی طرح بٹتے ہیں۔ جہاں تاجر صارف کی دمڑی کے ساتھ چمڑی پر بھی خون آشام نظریں گاڑتا ہے۔ جہاں آزادی نسواں کے نام پر اللہ اور رسول سے آزادی مانگی جاتی ہے۔ جہاں کے مکتبوں میں خاک بازی کی تعلیم دی جاتی ہے اور مدارس میں فرقہ واریت کی۔

لباس تن پہ سلامت ہیں ہاتھ خالی ہیں
ہم ایک ملک خداداد کے سوالی ہیں
نہ ہم میں عقل و فراست نہ حکمت و تدبیر
مگر ہے زعم کہ جمعیت مثالی ہیں
منافقت نے لہو تن میں اتنا گرمایا
کہ گفتگو میں ریا کاریاں سجا لی ہیں
خود اپنے آپ سے کد اس قدر ہمیں ہے کہ اب
روایتیں ہی گلستاں کی پھونک ڈالی ہیں
ہمارے دل ہیں اب آماج گاہ حرص و ہوس
کہ ہم نے سینوں میں تاریکیاں اگا لی ہیں
نشیمنوں کو اجاڑا کچھ اس طرح جیسے
کہ فاختائیں درختوں سے اڑنے والی ہیں
کسی غریب اپاہج فقیر کی محسنؔ
کسی امیر نے بیساکھیاں چرا لی ہیں

(محسن احسان)

یہ ہماری چوہتر برس کی کمائی ہے جو ہم اگلی نسلوں کو منتقل کرنے جا رہے ہیں۔

اے میرے ہم وطنو! خدارا ایک لمحے کے لیے رک کر سوچو۔ تشکیل پاکستان کے مقاصد پر غور کرو۔ ان وعدوں کے ایفاء کی فکر کرو جو ہم نے رب کائنات سے کیے تھے۔ آسمانی جنت کے لیے ارضی جنت کو جہنم نہ بناؤ۔ آنے والی نسلوں کو بہتر معاشرہ اور بہتر پاکستان دینے کا ساماں کرو۔

بہتر معاشرہ کی تشکیل تین درجاتی فرمان نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں مضمر ہے۔ حدیث مبارکہ کے کسی بھی درجے پر عمل ہمارے معاشرے کی کایا پلٹ دے گا۔ لمحۂ موجود میں اس شہر خفتگاں میں اذان دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر یہ لمحے چوک گئے تو پھر زمین کا جواب آسمان دے گا جو بہت ہی کڑا اور عبرت ناک ہوتا ہے۔

‏اس شہر خفتگاں میں کوئی تو اذان دے
ایسا نہ ہو زمیں کا جواب آسمان دے
(حمایت علی شاعر )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *