عدم برداشت کا رویہ
انسانیت کی ایک صفت برداشت ہے، یعنی سہنا، بردباری، مصائب کو جھیلنے کا مادہ، مگر یہ صفت اس دنیا سے دوسری اخلاقی اقدار کی طرح اٹھتی جا رہی ہے۔ جس طرف نگاہ اٹھائیں عدم برداشت کا رویہ اپنی تمام تر بدنمائی کے ساتھ نظر آتا ہے۔
برداشت کی حدوں سے مرا دل گزر گیا
آندھی اٹھی تو ریت کا ٹیلہ بکھر گیا
جب معاشرہ عدم برداشت کے رویے کو قبول کرنا شروع کر دیتا ہے تو معاشرے سے آہستہ آہستہ ایثار، خلوص، محبت اور رواداری ختم ہوتے چلے جاتے ہیں، اس کے بڑے بھیانک نتائج ہوتے ہیں۔
گھریلو ماحول دیکھیں۔ میاں بیوی، اولاد ماں باپ، بہن بھائی، رشتے دار آپس مین ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں، اگر کوئی کچھ کہہ دے تو دس سنانا لازمی ہے، گھریلو ملازمین سے کچھ غلط کام ہو جائے تو مالکوں کی برداشت ہی ختم ہو جاتی ہے اور وہ تشدد تک کر گزرتے ہیں۔ کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد تو سب کو یاد ہو گا جبکہ تشدد کرنے والے سابق ایڈیشنل جج اور ان کی اہلیہ تھیں، کیا ہم سوچ سکتے ہیں کہ ایک پڑھی لکھی معزز شخصیت اس طرح کا رویہ اپنائے گی، یہ عدم برداشت ہی ہے جس کا نتیجہ تشدد کی صورت میں نظر آیا۔
ہمارے دفاتر، فیکٹریوں میں مالکان اور افسران کی جانب سے اپنے عملے کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک کیا کسی مہذب قوم کا ہو سکتا ہے۔ ہر وہ شخص جو ماتحت ہے ، ذلت اور برا رویہ سہتا ہے تو عدم برداشت کا شکار ہو کر وہ اپنے سے کمتر پر ان منفی جذبات کا کھل کر مظاہرہ کرتا ہے۔ یہی عدم برداشت ہے۔
اس عدم برداشت کے مظاہرے ہم چلتے پھرتے، روزمرہ کے معمولات میں مستقل دیکھتے ہیں، ٹریفک جام میں پھنسے لوگوں میں تو یہ عام ہے۔ کسی بائیک والے یا رکشے والے کی ذرا سی غلطی پر جھگڑا کرنا معمول ہے بلکہ کہیں کہیں تو ہاتھا پائی کی نوبت بھی آ جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کا رویہ چھوت کی بیماری کی طرح پھیل چکا ہے۔ ٹی وی ٹاک شوز سے لے کر، اخبارات، سوشل میڈیا تک جابجا غیر شائستہ اور اکھڑ انداز گفتگو، مغلظات سے بھرے ٹویٹ، نازیبا الفاظ سے سجی خبریں عام سی بات ہے۔
مذہبی عدم برداشت نے تو حدیں ہی پار کر لی ہیں۔ اپنے نظریے، اپنے فرقے، اپنے موقف کو حق پر سمجھنا اور دوسرے کو حرف غلط کی طرح مٹا دینا چلن بن چکا ہے ، لغویات بکنے کے ساتھ ساتھ انتہائی اقدام اٹھاتے ہوئے کسی کی جان لینا تو بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ یہ مذہبی عدم برداشت ایک سازش کے تحت عام آدمی کے دماغوں میں بھر دیا گیا ہے۔ سیاست میں عدم برداشت کے نتائج بہت بھیانک ہیں، سیاست دانوں کی ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیاں، رکیک جملے بازیاں، بے ہودہ الزامات تک پہنچ چکی ہیں۔
قومی اسمبلی میں ممبران کی دوران بحث ہاتھا پائی، جوتم پیزار تو عام بات ہے۔ لاہور میں ڈاکٹروں اور وکلاء کے درمیان تشدد سے بھرپور جھگڑے تو سب دیکھ ہی چکے ہیں، اسلام آباد میں تجاوزات ہٹانے پر وکلاء کا جج کے ساتھ بدتمیزی کا کھلے عام مظاہرہ بھی عدم برداشت ہی ہے۔ عدم برداشت کے یہ رویے ہمارے ملک تک محدود نہیں بلکہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ گوروں کا کالوں پر تشدد بھی عدم برداشت کا ہی نتیجہ ہے۔
کارل پوپر آسٹرین برٹش فلاسفر نے بھی یہ بات کہی کہ ”معاشرے میں رواداری برقرار رکھنے کے لیے عدم برداشت کے رویوں کو رد کرنا ہو گا“ ۔ پہلے تو ہمیں یہ جاننا ہے کہ عدم برداشت اور اس کے نتیجے میں تشدد کیسے پیدا ہوتا ہے۔ ماہرین کی رائے میں عدم برداشت ہمارے اندر چھپی ہوئی محرومیوں اور مایوسیوں سے جنم لیتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ معاشی طور پر کمزور ہونا ہے، معاشی بدحالی کی وجہ سے غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور جب وہ اس معاشرے میں اپنے سے زیادہ خوشحال لوگوں کو دیکھتا ہے تو اس سے ایسی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں جن کا محرک عدم برداشت ہوتی ہے۔
یہ غربت ہی ہے جس کی وجہ سے رہزنی، چوری ڈکیتی، چھینا جھپٹی، لوٹ مار کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ دوسری وجہ سیاسی عدم استحکام جس کی وجہ سے سماجی برائیاں اور مسائل جنم لیتے ہیں، سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معیشت تباہ ہو جاتی ہے اور معاشی معاملات بگڑتے چلے جاتے ہیں اور اس سے سماجی، معاشرتی اور معاشی مسائل جنم لیتے ہیں جو عدم برداشت کا سبب بنتے ہیں۔ معاشرے میں اخلاقی اور سماجی اقدار تباہ ہو جاتی ہیں اور نشہ آور اشیاء کا کھلے عام استعمال، گھریلو ناچاقیاں، غیر اخلاقی حرکات کو فروغ ملتا ہے۔ سماجی نا انصافیوں کی بدولت جارحیت کا رویہ پیدا ہوتا ہے جو قتل وغارت گری کا باعث بنتا ہے۔
عدم برداشت کو ختم کرنے کے سب سے پہلے مذہبی روادری پیدا کرنی ہو گی ۔ ہمارے علماء کرام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عام لوگوں کو مذہبی رواداری اور برداشت کا سبق دیں، اسلام کی بنیادی روح کو پھیلائیں، مذہبی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مثبت اقدامات کیے جائیں۔ عدم برداشت کا خاتمہ کرنے کے لیے عام آدمی کو معاشی طور پر مستحکم کیا جائے ، اس کے لیے حکومت کو سخت اقدامات کرنے پڑیں گے، عام آدمی کو روزگار کے مواقع دینے ہوں گے ، تعلیمی نظام کو مضبوط آسان اور قابل عمل بنانا ہو گا۔
زرعی اور صنعتی شعبوں میں ترقی کی رفتار تیز کرنی ہو گی۔ سول سوسائٹی کو بھی آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ اخلاقی معیار کو بڑھایا جا سکے۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ مثبت اور بہتر رپورٹنگ کریں، تشدد کی خبروں کو بڑھا چڑھا کر نہ پیش کریں اور صحافت کے قوانین کی پابندی کریں ، شاید اس قسم کے اقدامات کی وجہ سے معاشرہ عدم برداشت سے نجات نہیں تو کم از کم کسی حد تک بہتر تو ہو سکتا ہے۔


