ول یو میری می

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارے تمھیں پسند کرتی ہوں تبھی تو تم سے ہی کہہ رہی۔

شازیہ نے علی کو مسکراتے ہوئے اپنی دل کی بات کہہ ڈالی، علی چوں کہ اس کے ساتھ ہی پڑھتا تھا شازیہ کی بات سن کر ہنس کرکہا کہ ”یہ بات تم مجھے اکیلے میں کہہ رہی ہو اتنی بہادر ہو تو کیا سب کے سامنے کہہ سکتی ہو؟

یہ سن کر شازیہ نے علی سے بعد میں ملنے کا کہہ کراپنے والدین کی شاندار گاڑی میں سوار ہو کر اپنے گھر کی طرف چلی گئی۔ والدین کی لاڈلی نازوں اور نخروں میں پلی بڑھی پرکشش لڑکی نے اپنی محبت کا اظہار اس شخص کے سامنے کر دیا جسے وہ کافی وقت سے دل ہی دل میں چاہنے لگی تھی لیکن علی کے سوال نے اسے مزید سچی محبت کے ثبوت دینے پر سوچنے پرلگا دیا۔

علی اور شازیہ کی دوستی یونیورسٹی میں ہی ہوئی یہ دوستی کب محبت میں تبدیل ہو گئی دونوں کوعلم ہی نہیں لیکن چوں کہ دونوں ہی پڑھ رہے تھے اورعلی معاشی طور پر اپنے پیروں پر خودمختار بھی نہیں ہوا تھا اسی لیے شازیہ کو شادی کی پیشکش نہیں کرپا رہا تھا، وہ چاہتا تھا کہ شازیہ کو وہ ہرطرح کا آرام دے جو اسے اس کے اپنے والدین کے گھر میں میسر ہے۔ ادھر شازیہ کے گھرمیں آئے دن بہانے بہانے سے شازیہ کی شادی کا ذکر چلتا رہتا کہ لڑکی یونیورسٹی تک پہنچ گئی اب اس کے ہاتھ پیلے کردیے جائیں اور وجہ یہ بنتی کہ فلاں کی بیٹی نے نویں پاس کی تو منگنی ہو گئی، فلاں کزن کالج کے آخری سال میں تھی تب اس کی شادی ہو گئی، کچھ ہمارے اپنے معاشرے کے وہ لوگ جودوسرے گھروں کی باتیں ادھرسے ادھر کرتے پھرتے بہانے بہانے سے شازیہ کی شادی کا ذکر چھیڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑرہے تھے، شادی تو ہونی ہی ہے لیکن آئے دن کے ایسے سوالات اور اپنے دل کی کیفیت میں الجھ کر شازیہ نے علی کو اپنی پسند سے آگہاہ کر دیا۔

آج کی عورت با اختیار ہے وہ اپنی زندگی کے فیصلے آسانی سے کر سکتی وہ جو چاہے کر سکتی ہے اس کا جسم ہے اور اس کی مرضی، مرد جو چاہے کرے وہ اس کی آزادی لیکن عورت پرپابندی یہ کیسا اسلام اورانصاف وغیرہ وغیرہ جیسے ٹیلی وژن اور سوشل میڈیا پر مارچ کے پہلے ہفتے سے شروع ہوجانے والے ”عورت مارچ“ کے نام سے پروگراموں کا سلسلہ جاری تھا جسے تمام ملک کی عوام کو باقاعدگی کے ساتھ دکھایا اورسنایا جا رہا اور شازیہ بھی ان پروگراموں کو دیکھ اور سن رہی تھی۔

ہاں نغمہ! میں نے علی کو بتا دیا کہ میں اسے پسند کرتی ہوں، شازیہ نے اپنی ہم عمرسہیلی سے موبائل پر بات کرتے ہوئے کہا۔

جواب کیا دیا اس نے؟ نغمہ نے یہ بات سن کر انتہائی جوش میں پوچھا۔
اسے شاید یقین نہیں آیا، شازیہ نے نغمہ کو بتایا۔
کیوں؟ نغمہ نے حیرت سے پوچھا۔
ہنس کر کہہ رہا تھا کہ کیا یہ بات سب کے سامنے بول سکتی ہو؟ شازیہ نے دبے لہجے میں جواب دیا۔

لیکن تم دونوں تو کافی وقت سے ایک دوسرے کے ساتھ ہو۔ نغمہ نے بات بڑھاتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا، پھر ایسی بات کیوں بولی؟

اسے میرے بولڈ اسٹیٹمنٹ پرمزید کنفرمیشن چاہیے، شازیہ نے جواب دیا۔
اب تم مزید کیسے اسے یقین دلاؤ گی؟ نغمہ نے پھرپوچھا۔

وہ لڑکا ہے نہ اور یہ بات کہ ”مجھے تم پسند ہو“ ہمارے یہاں لڑکیاں کہاں بولتی ہیں؟ تمھیں یاد ہے کہ پچھلے سال فرزانہ کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ وہ دوسرے ڈیپارمنٹ والے خالد کو پسند کرتی تھی لیکن اس کے والدین نے اس سے پوچھے بغیر اس کا رشتہ طے کر دیا کہ اگلے مہینے تمھاری شادی ہے اور لڑکا کینیڈا میں رہتا ہے، پڑھائی اور پسند دونوں ختم۔

ہاں یار یہ تو المیہ ہے اس پاکستانی سوسائٹی اور فیملی سسٹم کا بس ملک سے باہر کا رشتہ آتے ہی لڑکی اور لڑکے والے ایسے مچلتے ہیں کہ جیسے ان کی اولاد کی لاٹری نکل پڑی ہے۔ نغمہ نے شازیہ کواپنا جواب دیا،

خیر، تم اپنا سوچو کیا واقعی میں علی بھی تم کو پسند کرتا ہے یا نہیں؟

ارے کرتا ہے بھئی بس کہنے میں ڈر رہا، شازیہ نے تسلی دیتے جواب دیا، اب آگے دیکھومیں کرتی کیا ہوں پھر بعد میں دیکھا جائے گا، میں پتھروں کے دور کی عورت نہیں جو ڈرتی رہوں، پھریہ دونوں ہی ہنسنے لگیں۔

آج شازیہ یونیورسٹی ذرا دیر سے پہنچی، علی نے شازیہ کو دیکھتے ہی دیر سے آنے کی وجہ پوچھی، باقی سارے دوست اورسہیلیاں بھی ان کے قریب ہی کھڑے تھے شازیہ نے اچانک انگریزی فلموں کے ہیرو کی طرح اس کی کاپی کرتے ہوئے بہت رومانٹک اندازمیں ایک پیر زمین پر اور دوسرا گھٹنے کے بل ٹکا کرایک پھولوں کا گلدستہ علی کے سامنے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ”علی! ول یو میری می“ ۔

علی کے ساتھ موجود گراؤنڈ میں تمام لڑکے لڑکیاں اوراساتذہ یہ بات سن اور دیکھ کراپنے اپنے موبائل میں وڈیوز اور تصاویر ریکارڈ کرنے، داد دینے اورسیٹیاں مارنے میں مصروف تھے، اپنے جذباتوں میں چور دنیا سے بے فکرعلی اور شازیہ نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور شازیہ کی آنکھوں میں خوشی سے آنسوبھی نکل آئے لیکن ساتھ ہی ان دونوں کی خبریں یونیورسٹی کے اعلی حکام تک پہنچ گئی اوردیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک کے سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر دوڑنے لگی، اس کے بعد دونوں کو ہی یونیورسٹی سے عزت کے ساتھ خارج کر دیا گیا۔

ان دونوں کوصرف اپنی چاہ تک پہچنے کی خواہش تھی وہ انہیں مل گئی لیکن انسانوں اورخصوصاً اسلامی معاشرے میں پیدا اور پلنے والے اپنی غرض میں اندھے اپنے اور دوسروں کے والدین کی اہمیت و عزت اوران تمام لڑکے لڑکیوں کے مستقبل سے بھی کھیل گئے جنہیں اسی معاشرے میں اعلی تعلیم اورعزت حاصل کرنے میں ہزار جدوجہد کرنی پڑرہی ہوتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان جو کہ اسلامی نظام والا معاشرہ کہلاتا ہے جس نظام میں ہر رشتے کو جوڑنے کا درس دینے کے ساتھ اس نے مسلمان مرد وعورت کو کچھ شرائط جو کہ ہمارے اپنے فائدے کے لیے ہیں جہاں اپنی تعلیم اور پسند نہ پسند کے فیصلے نکاح کرنے پررکھے ہیں اوراس کے ساتھ عورت کو اپنے گھروں میں ملکہ بن کررہنے کے حقوق بھی دے کربھیجا ہے لیکن اب وہ غیرمسلم معاشرے کی ایسی پیدا کردہ بدحال آزادی کے چکرمیں پھنس رہی جہاں اس کی اوراس کے اپنوں کی کوئی اہمیت، حیثیت اورعزت شمار نہیں کی جاتی۔

جس معاشرے میں صرف اپنی اپنی ذات کی خوشی وتسکین مطلوب اورحلال و حرام میں فرق معلوم نہ رہے پھرمعاشرے کو تباہی کے دلدل میں گرکرغرق ہونے سے کوئی روک ہی نہیں سکتا۔

پتھر مار کے چوراہے پر اک انساں کو مار دیا
سب نے مل کر پھر یہ سوچا اس نے غلطی کیا کی تھی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply