کیا آپ کے ہاتھ، پیر اکثر سن ہو جاتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم میں سے بہت سے لوگ اکثر سنسنی خیز چیزوں کو انجوائے کرتے ہیں، تھرل کو پسند کرتے ہیں۔ اکثر ہم ایسی چیزیں دیکھتے، سنتے اور پڑھتے ہیں جن سے ہمارے بدن میں سنسنی سی دوڑ جاتی ہے۔ یہ سنسنی کیا ہوتی ہے؟ بات سنسنی تک تو ٹھیک ہے لیکن اگر بدن سنسنی کے بجائے سن ہونا شروع ہو جائے تو پھر معاملہ خراب بھی ہو سکتا ہے۔

آج ہم جانیں گے بدن سن ہونے کے حوالے سے۔ سن ہونا کیا ہوتا ہے، کیسے ہوتا ہے، کیوں ہوتا ہے اور کس چیز کی علامت ہو سکتا ہے؟

ہاتھ پاؤں کا سن ہو جانا عام بات ہے ، اس صورت میں سن ہوئے والے حصے میں کچھ محسوس نہیں ہوتا اور سوئیاں چبھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ عام طور پر غلط انداز میں بیٹھنے سے، جیسے آلتی پالتی مار کر بیٹھنے سے ایسا ہو جاتا ہے یا ہم اگر بہت دیر تک ایک ہی انداز میں بیٹھے رہیں یا سوتے رہیں تو ہاتھ یا پیر سن ہو جاتا ہے۔ ایسا ہونا نارمل بات ہے اور ایسا ہر کسی کے ساتھ ہوتا ہے مگر عارضی طور پر ہوتا ہے اور جسم کو حرکت دینے پر ختم ہو جاتا ہے۔

اصل میں ہماری جلد میں جو سینسیشن ہوتی ہے، جو حسیات ہوتی ہیں ، وہ سگنلز کی وجہ سے ہوتی ہیں اور سگنلز لانا اور لے جانا کام ہے اعصاب کا ، جن کو ہم انگریزی میں nerves کہتے ہیں۔

لیکن ان اعصاب کو بھی متحرک رہنے کے لئے، اپنا کام کرنے کے لئے خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم جب غلط انداز میں بیٹھتے ہیں، سوتے ہیں، کھڑے ہوتے ہیں تو اکثر اس حصے کو حس پہنچانے والی نرو دب جاتی ہے یا اس کو پہنچنے والی خون کی سپلائی منقطع ہو جاتی ہے اور نتیجتاً اس حصے کے اعصاب اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ سگنلز آنا جانا بند ہو جاتے ہیں۔ اور ان سے متعلق اعضاء سن ہو جاتے ہیں اور جب ڈاکٹر اس حصے میں پن چبھوتے ہیں تو آپ کو اتنی زیادہ چبھن محسوس نہیں ہوتی۔

یہ تو تھا ذکر نارمل حالت کا جو ہم سب کے ساتھ اکثر پیش آتی ہے۔ تاہم اگر یہ تجربہ بار بار ہونے لگے اور بہت دیر تک ہونے لگے تو پھر یہ ضرور خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات ہاتھوں پیروں یا جسم کے کسی بھی حصے کا زیادہ دیر تک سن ہونا، اچانک سن ہونا کسی چھپی ہوئی خطرناک بیماری یا مرض کی علامت ہو سکتا ہے جیسے فالج۔

جی ہاں، اگر آپ کا ہاتھ اچانک بے حس یا کمزور ہو جائے اور یہ کیفیت چند منٹوں میں دور نہ ہو تو فوری طبی امداد کے لیے رابطہ کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی، اگر اس کے ساتھ بولنے میں مشکل ہو، ایک کی جگہ دو چیزیں نظر آئیں، سوچنا مشکل ہو اور آدھے سر کا درد وغیرہ بھی ہو تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

دوسری وجہ ہے وٹامن کی کمی: ہاتھ پاؤں سن ہونے کی شکایت زیادہ تر عمر رسیدہ لوگوں کو ہوتی ہے یا پھر ان افراد کو اس کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے جو کھانے میں سبزی حد سے زیادہ تناول کرتے ہیں کیونکہ ایسے افراد خون کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور ان کے جسم میں وٹامن بی بارہ کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جو انیمیا یعنی خون کی سپلائی کم ہونے اور اعصابی نظام کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہے۔

کارپل ٹنل سینڈروم: اس عارضے میں ہتھیلی میں موجود اعصاب متاثر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہاتھ اکثر سن رہنے لگتا ہے جبکہ درد، سنسناہٹ، سوئیاں چبھنے، جلن اور کمزوری جیسی علامات بھی سانے آتی ہیں، یہ عارضہ بہت زیادہ کمپیوٹر استعمال کرنے والوں میں ہو سکتا ہے۔

ذیابیطس: ذیابیطس میں اکثر مریض ہاتھ پیر سن ہو جاتے ہیں، ان میں سوئیاں چبھنے یا جھنجھناہٹ کا حساس ہوتا ہے، اس کی وجہ ہائی بلڈ شوگر کے نتیجے میں اعصاب کو پہنچنے والا نقصان ہوتا ہے۔

عضلاتی درد: اگر آپ کو پورے جسم میں درد کے پھیلنے اور دیر تک تھکاوٹ کا احساس ہو اور بہت دیر تک رہے اور عام ادویات سے ٹھیک نہ ہو تو یہ فائبرو مائیلجیا یعنی ریشہ دار عضلاتی درد ہو سکتا ہے جس کے شکار افراد کو ہاتھوں اور بازووں کے سن ہونے اور ان میں سوئیاں چبھنے کا احساس بھی ہوتا ہے۔

 کچھ ادویات بھی اعصاب کو نقصان پہنچاتی ہیں اور یہ تکلیف دوا کے ترک کرنے کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔ ان دواؤں میں ایڈز اور کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات یعنی کیمو تھراپی کی ادویات شامل ہیں۔

چہرے کی جلد کی سوزش

پھر ہے چہرے کی جلد کی سوزش جسے لیوپس کہا جاتا ہے۔ یہ ایک آٹو امیون مرض ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب ہمارا مدافعتی نظام ہمارے اپنے ہی اعضاء اور ٹشوز پر حملہ آور ہو جاتا ہے، اس مرض کی علامات میں ہاتھوں کا سن ہونا بھی شامل ہے۔

تشخیص کیسے ہو گی؟
پہلے خود دیکھیے اور علامات کو دور نہ ہونے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

ہاتھ اور پیر سن ہونے کی صورت میں گھر میں کیا کر سکتے ہیں؟

تنگ کپڑے اور جوتے پہننے سے گریز کریں، اگر بیٹھے بیٹھے پیر یا ٹانگ سن ہو گئی ہو تو اٹھ کر کھڑے ہو جائیں اور ٹانگ کو حرکت دیں تاکہ خون کی روانی صحیح ہو۔

کمر اور گردن کے درد سے بچنے کے لئے بھاری وزن اٹھانے میں احتیاط کریں اور جسم کو ایک ہی انداز میں حرکت دینے سے گریز کریں۔

جو بھی کام کریں اس دوران وقفہ ضرور لیں۔
غلط انداز میں نہ بیٹھیں۔
باقاعدگی سے ورزش کریں۔
اگر آپ کو شوگر کی بیماری ہے تو دوا اور غذا سے اسے کنٹرول کریں اور باقاعدگی سے چیک اپ کرائیں۔

وٹامن بی بارہ کی کمی دور کرنے کے لئے مناسب غذا لیں اور خون ٹیسٹ کروائیں تاکہ جان سکیں کہ آپ کو وٹامن بی بارہ کے سپلیمنٹ کی ضرورت تو نہیں۔

سن ہونے اور فالج میں کیا فرق ہے؟

دیکھیے سن ہونا علامت ہے۔ فالج ایک کنڈیشن ہے، حالت ہے، حادثہ ہے۔
فالج کی صرف ایک ہی علامت نہیں ہوتی اور بہت سی علامت ہو سکتی ہیں جیسے اچانک مسلسل شدید سر درد، آدھے سر کا درد جو اگر مائیگرین نہ ہو۔ مسلسل چکر آنا، ایک کی جگہ دو چیزیں نظر آنا۔سن ہونے کی کیفیت مثلاً چہرے پر، کسی عضو یا کسی عضو یا بدن کے کسی حصے یا ہاتھ پیروں کا سن ہوجانا۔
اعضائی اور بدنی کمزوری، عام طور پر جو جسم کے ایک طرف ہو
توازن یعنی جسم کے بیلنس کا اچانک چلے جانا
غیر واضح گفتگو، بولنے میں مشکل، تھوک گرنا، نگلنے میں دشواری، منہ کا ٹیڑھا پن
نظر کی دھندلاہٹ، دہری بصارت
غنودگی، بے ہوشی یا کوما
اسی طرح چلتے چلتے اچانک گرجانا یا گردن میں درد بھی اس کی نشانی ہو سکتے ہیں۔

فالج سے پہلے اور فالج کے دوران بلڈ پریشر بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور کوئی چیز کھانا پینا یا نگلنا دشوار ہو جاتا ہے۔

عام حالات میں وٹامن بی بارہ کی کمی جسم کے مختلف اعضاء کے سن ہونے کی بڑی وجہ ہے۔ حقیقت میں وٹامن بی 12 متعدد جسمانی افعال کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے اور حیران کن طور پر بیشتر افراد اس کی کمی کی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

کن کن چیزوں میں وٹامن بی بارہ پایا جاتا ہے۔
مچھلی خاص کر سالمن مچھلی، جھینگا، سی فوڈ، بیف کلیجی اور گردے کا گوشت
دودھ، دھی، انڈے، مٹن گوشت، چکن، پنیر، بادام، پستے
سبزیوں میں شملہ مرچ، بروکولی، پالک، کرم کلہ، ٹماٹر، لوکی، مشروم اور گاجر
پھلوں میں آڑو، خربوزہ، خوبانی، آم، پپیتا، ایو کیڈو اور ریسپبیری

ان کے علاوہ اپنی خوراک میں سے کولڈ ڈرنکس، بیکری مصنوعات، فاسٹ فوڈز اور تلی، بھنی اور تیز مصالحہ جات سے تیار غذائیں نکال دیں چینی یعنی شکر اور سفید آٹے سے مکمل پرہیز بھی بہت اہم ہے۔ نہار منہ سیر اور ورزش کو اپنے معمول کا لازمی حصہ بنائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *