چین کی قومی زندگی میں روشن ستارہ: یان فونگ شینگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماہ و سال تو یہی کوئی 1978کے ہی تھے۔ خزاں کا آغاز تھا۔ ا یک مضطرب،دکھ دینے والی اور گھائل کرتی اُداسی شمالی چینی گاؤں شیاؤ گینگ (Xiaogang ) کے درودیوار پر پھیلی ہوئی تھی۔ اس وقت دوپہر ڈھل رہی تھی جب اِس گاؤں کا ایک باسی تیس سالہ یان فونگ شینگ( Yan Hong Chang) اپنے گھر سے باہر نکلا۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ بیجنگ ریڈیو سے چئیرمین ماؤ کی موت کی دو سالہ برسی کی تفصیلات کا بیانیہ جو کوئی پانچویں بار نشر ہو رہا تھا سُنتے ہوئے اُسے محسوس ہوا تھا اُس کا بلڈ پریشر شوٹ کررہا ہے۔ اِس کی زبان سے ماؤ اُس کے جانشین ہوا گوفنگ Hua Guo Fengکے لیے مذمّت اور دکھ میں ڈوبے ہوئے لفظ نکلے۔
گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اِس گوفنگ Hua Guofeng کی تو مت ماری جارہی ہے۔ چلو ثقافتی انقلاب کے اداروں پر اثرات کے خاتمے کے لیے اس کی کاوشوں کو داد دینی پڑتی ہے مگر یہ کیا کہ ماؤ کی چھتر چھاؤں سے نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ بیجنگ کے طاقتی ایوانوں میں بیٹھے ہوؤں کیمونسٹ پارٹی کے بااثر لوگوں کو بھی بس اِسے ہٹانے کی فکر ہے۔ لوگوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟اِن کی غیر مساوی معاشی منصوبہ بندیوں نے ہم غریب کسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔ میری تو آنکھیں چین کے شہرہ آفاق قحط کو پھر سے اِن بیچارے غریب مظلوم لوگوں پر مسلط ہوتا دیکھ رہی ہیں۔


جب وہ گھر آیا اس کا قریبی رشتہ دار وانگ فوچی کمرے میں بیٹھا تھا۔ یان کے بیٹھنے کے ساتھ ہی وانگ فوچی پھٹ پڑا۔
’’اِس عظیم لیپ فارورڈ کی پالیسیوں کو کیا کہوں؟مانتا ہوں قدرتی آفات پر انسان کا زور نہیں پر اس کے علاج اور کچھ چارہ گری کی تو ضرورت تھی۔ اب دیکھو 15سے 45 ملین لوگ بھوک سے مرگئے ہیں۔ ہماری ضروریات ہی کتنی ہیں صرف دن میں دو وقت کا کھانا جو نصیب نہیں۔ ‘‘
یان کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے تھے۔
’’سُنو۔ میرے ذہن میں ایک تجویز ہے۔ آج تم گاؤں کے ہر خاندان کے سرکردہ فرد کو بُلا لاؤ۔ بات کرتے ہیں کہ انہیں مرنا ہے یا زندہ رہنا ہے۔ ‘‘
گاؤں جب تاریکی میں ڈوب گیا۔ یان کے کمرے میں گاؤں کے کوئی بیس کے قریب لوگ جمع تھے۔
یان نے مجمع پر نگاہ ڈالی اور بولنے لگا۔ کتنا وقت گزر گیا ہے؟ ہمارے گاؤں کو کیمون سے (مشترکہ زرعی اراضی کا نظام) وابستہ ہوئے۔ نتائج تو سامنے ہیں۔
پہلی بات تو یہ دیکھنے والی ہے کہ اناج جہاں سٹور کیا گیا وہ علاقے گاؤں سے کتنا دور ہیں۔ کِسی نے ہمارے بارے سوچا تک نہیں۔ اب جو تقسیم کیا گیا اسے بھی خاندان کے ساتھ جوڑدیاگیا۔ اِس کا بھی نہیں خیال رکھا گیا کہ خاندان بڑا ہے یا چھوٹا۔ کھانے والے منہ کتنے ہیں اور کام کرنے والے کتنے۔ اجتمائیت کو کیمونسٹ دنیا کی شاہراہ پربڑی اہمیت حاصل ہے۔ میں مانتا ہوں اِسے ْ۔ مگر دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ یہ اصول ،یہ رویے عام لوگوں کے لیے کِس حد تک سود مند ہیں۔ اب اِس اجتماعی پنے نے تو ہمیں اپنی زمین سے بے دخل کردیا نا۔ زمین کی دیکھ بھال میں جان کو ہلکان کرنا پڑتا ہے تب کہیں دانہ منہ میں جاتا ہے مگر زمین تو سرکار کی ہے۔ انہوں نے آپ کو اناج دینا ہے اتنا ہی جتنا انہوں نے منظور کیا ہے۔ اب اِس تجربے کا نتیجہ تمہارے سامنے ہے۔ سستی ،ہڈحرامی،کام چوری جیسی ساری باتیں ہم میں آگئی ہیں۔ نتیجتاً بھوکوں مرنے لگے ہیں۔
گاؤں میں جیانگ کوئی پچاس کے پیٹے کا آدمی تھا۔ کتابیں پڑھتا تھا۔ دنیا میں کیا ہورہا ہے اس سے بھی کسی حد تک آگاہ تھا۔ اس کی زندگی کا ابتدائی حصّہ اپنے باپ کے ساتھ برصغیر میں بھی گزرا تھا جہاں اس کا باپ کپڑے بیچنے جاتا تھا۔ اس کا باپ سٹالن کے دور میں روس گھوم آیا تھا۔ دنیا دیکھے ہوئے تھا۔ اس نے کہا۔
’’اِن اندھوں کو تو اتنی عقل ہی نہیں کہ یہ روس سے ہی کچھ سیکھ لیتے۔ اس نے بھی یہ اجتماعی فارمنگ کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اپنی زمین ،اپنے ڈھور ڈنگر،اپنے اوزار سب بانٹ لو۔ ارے بھئی اپنا خاندان بھی کبھی نہ کبھی کسی بات پر الجھ پڑتا ہے۔ تو کیا یہاں جھگڑے نہ ہوتے۔ ہوئے اور خوب خوب تماشے لگے۔
ایک عورت کے دس بچے۔ ایک کے پانچ اور ایک کا ایک۔ اب اناج ایک سا تقسیم ہونا ہے۔ ہے نا بندر بانٹ۔ ‘‘


ھواگو نے کہا۔ ’’چچا تم نے باتیں کتنی سچی کی ہیں اب خود دیکھو کہ اچھے سالوں میں ہم اناج کے سلسلے میں کم از کم نو ماہ تک تو خود کفیل تھے۔ چلو باقی کے تین ماہ حکومت مدد کردیتی تھی۔ آلو، چاول اور گوبھی ،کھیروں کی بھی کمی نہ تھی۔ کم از کم اِس قحط سالی کا شکار تو نہ تھے۔
کوئی پینتیس کے ہیر پھیر میں چھن ای نامی نوجوان نے کہا۔ ’’مجھے دیکھو میری عمر آپ سب کے سامنے ہے۔ مہینوں سے ہم دونوں یعنی میں اور میری بہن روزانہ ادھر ادھر جاتے ہیں کہ کھانے کی کوئی چیز مل جائے۔ جب کبھی ہمیں زمین پر گری ہوئی کچھ کجھوریں ہی مل جاتی ہیں تو ہماری خوشی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ کیا ہم ایسے تھے؟
جب بہت سے لوگوں نے اپنے دکھ کو زبان دے دی۔ تب ایکا ایکی یان جو خود اس وقت چار بھوک زدہ بچوں کا باپ تھا بولا۔ ’’ اگر آپ چاہتے ہیں کہ شیاؤ گینگ کے لوگ غربت سے نکل آئیں تو پھر آپ لوگوں نے میری بات سُننی ہے اور جیسے میں کہوں اس پر عمل کرنا ہے۔
’’بولو، کہو ،تمہارے ذہن میں کیا تجویز ہے؟‘‘مجمع میں سے چند نے کہا۔
’’ہم اپنے گاؤں کی اراضی کو ماضی کی طرح آپس میں بانٹ لیں۔ اسی طرح اِسے اپنائیں جیسے یہ سسٹم سے پہلے ہمارے پاس تھی۔ اپنے اپنے مال مویشی جو بچے ہوئے ہیں انہیں بھی۔ زرعی آلات بھی۔ کِسی کو کانوں کان خبر نہ لگنے دیں۔ فصل کاٹنے کے بعد ٹیکس دیں اور باقی اناج خود اپنا اپنا اٹھالیں۔ ‘‘
کمرے میں یکدم سناٹا چھا گیا۔ دیر بعدایک آواز ابھری۔ ’’تم نے اِس کے نتائج پر غور کیا؟‘‘
یان نے کہا۔ ’’بہت کیا۔ دنوں سے کیا مہینوں سے کررہا ہوں۔ مرنا تو ایسے بھی ہے اور ویسے بھی ہے۔ تو پھر ڈر کِس بات کا؟‘‘
منصوبہ انتہائی خطرناک تھا۔ کمرے میں موجود سب لوگ اِس سے آگاہ تھے۔ ثقافتی انقلاب اور کمیونزم کی جڑوں میں زہر ڈالنے والا۔ اس سرمایہ دارانہ روایتی نظام کا ایک اہم حصّہ جس کا طوق چینی معاشرے نے اپنے گلے سے اتار پھینکا تھا۔ وہی نظام منافع خوری اور انفرادی فائدے کی طرف لوٹ جانے والاجس کی ہر سطح پر بھیانک انداز میں مذمت کی جاتی رہی تھی۔ اس حد تک کہ ایسی ہر کاوش بغاوت کے زمرے میں شمار ہوتی تھی۔ اور باغیوں کے لیے ایک ہی راستہ تھا عمر قید یا سزائے موت۔
1956کے اُس واقعے کو بھی دہرایا گیا جو چینی ضلع یونگ جیہ Yong Jiaمیں ہوا تھا۔ ضلع میں قحط پھیلا ہوا تھا۔ لوگوں نے ایسی ہی اصلاحات کی کوشش کی تھی۔ راز فاش ہوگیا۔ تحقیق پر باغی گرفتار ہوئے۔ مزدور کیمپوں میں بھیجے گئے اور کچھ پھاہے لگا دئیے گئے۔
اب یان نے جی داری سے کہا۔ ’’دیکھو ایک تو اِس راز کی حفاظت کرنی ہے۔ دوسرے اگر میں گرفتار ہو جاؤں۔ سزا عمر قید میں بدل جائے یا پھانسی ہوجائے۔ تب میرے بچوں کی دیکھ بھال آپ لوگوں نے کرنی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے یہ خطرہ مول لینا ہے کہ یہ میرے لوگوں کی زندگی اور ان کی بقا کا سوال ہے۔
اب سب لوگ خاموش تھے۔ بقا کی جبلت سب خطرات پر حاوی ہوگئی تھی۔ پڑھے لکھوں نے یان Yan کے منصوبے پر گہری سیاہی سے دستخط کیے اور ان پڑھوں نے انگوٹھے لگائے اور اپنی رضا مندی پر مہر ثبت کی۔
لگن ،عزم، جوش و جذبے سب مل گئے تھے۔ اپنی زمینوں کے ٹکڑوں اور اپنے آلات اور ایک دوسرے کی مدد اور کچھ کر گزرنے کے جذبے پھوٹ پھوٹ کر یوں نکلے کہ سب کچھ گل و گلزار ہوگیا۔ گاؤں نے تو راتوں رات خود کو غربت سے ایک طرح نکال لیا تھا۔ سرکاری لوگوں کے ٹولوں نے یہ سب حیرت سے دیکھا پر کچھ کہا نہیں۔ تاہم اگلے موسم سرما میں یان Yanکو پولیس اسٹیشن بلایا گیا اور تفتیش کی گئی۔ اِس مرحلے کو اس نے بہت سمجھداری اور ذہانت سے نپٹایا۔ اس نے پیداوار کم بتائی۔ مسائل کا ذکر بہت زیادہ کیا اور کامیاب رہا۔ صبح سے شام تک وہاں رہا اور رات ہونے سے قبل رہا ہوکر گھر آگیا۔
تاہم کب تک؟ 1980کے اوائل میں علاقے کے پارٹی سکریٹری وان لی Wan Liنے شیاؤ گینگ کا دورہ کیا اور حیران ہوا۔ مگر کوئی رکاوٹ ،کوئی رخنہ نہیں ڈالا۔ خاموش رہا۔ تاہم آنے والے دنوں میں شہرت اردگرد پھیل رہی تھی اور لوگوں کے گروہ جوق در جوق گاؤں کو دیکھنے آرہے تھے۔ بات نکل گئی تھی۔ کٹڑ لوگوں نے ساتھ ساتھ اعتراضات کا سلسلہ بھی شرو ع کردیا تھا۔
’’یہ تو سراسر اشتراکیت کی راہ سے انحراف کا راستہ ہے۔ یہ تو آزادی سے پہلے والے دور میں جانے کی کوشش ہے۔
یہ بھی مطالبہ ہوا کہ اپنی اِن اصلاحات کو بدل ڈالیں۔ یہ سرمایہ دارنہ نظام کی طرف لے جارہی ہیں۔ ہاں اگر کہیں سے تھپکی ملی تو وہ کسان تھے کہ انہوں نے جان لیا تھا کہ اُن کے ہم عصروں کو اس سے فائدہ ہوا ہے۔ تجربے نے تو آنکھیں کھول دی تھیں کہ پہلے ہی سال 22یوآن سے 400یوآن تک بات چلی گئی تھی۔


یہاں سچی بات ہے اونچے درجے کے سیاست دان اور سخت گیر ماؤ نواز طرز حکمرانی والے لوگ سبھی ڈگمگاتے پھر رہے تھے۔ یان نے تو بصیرت سے سمجھ دار افسروں کو قائل کرکے اپنے لیے راہ نکال لی تھی۔ ٹیکس میں حصّہ ڈالا۔ کیمون ماڈل کی فضول بیورو کریسی کے بغیر۔ مگر اس کے باوجود وہ خطرات کی زد میں تھا۔ مرکزی حکومت سے ہر چوتھے دن اُسے دھمکیاں ملتی تھیں۔ اُس کا کہنا تھا کہ 1986تک وہ ایک دن بھی ڈھنگ سے سویا نہیں تھا۔ اور یہ یقینا ایک انقلابی قدم تھا کہ پورے آٹھ سال بعد 1986میں مرکزی حکومت نے انقلابی فیصلہ کیا۔
House hold Responsiblity Systemکہ اِس پالیسی کا نفاذ پورے دیہاتی علاقوں میں کروا دیا گیا۔ اِس نظام کی پُشت پر جو حکومتی سپورٹ حاصل ہوئی اُس نے تہلکہ مچا دیا۔ فالتو اناج منڈیوں میں بیچنے کا حق دوبارہ کسانوں نے حاصل کرلیا۔
تو قوموں کی زندگیوں میں بس کہیں چند لوگ ہی اٹھتے ہیں جو تبدیلی کی راہ دکھانے کا باعث بن جاتے ہیں۔ 1983میں لوگوں کے کیمون(اجتماعی اشتراکی نظام)کا مکمل خاتمہ کردیا گیا۔ مرکزی حکومت نے زراعت کے لیے انفرادی گھرانوں کے اختیار کو درپردہ منظور کرلیا۔ کھیتی باڑی کا ماڈل جو یان کے ماڈل جیسا تھا۔ اُسے ہر سطح پر روشناس کروادیا۔
اور پھر چین نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ آگے اور آگے۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال،جدید ریسرچ آج ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی کو کھلانے پلانے میں خود کفیل ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ 2018 کا سال یان کے لیے بھی حد درجہ خوشحالی اور بے مثال دولت کا منظر پیش کرتا ہے۔ ایک خاموش طبع اور کسی حد تک تنہا دکھائی دینے والا آدمی جس نے خود کو ہمیشہ قومی سطح پر اپنی پہچان کے حوالوں سے خود کو بہت بے چین اور مضطرب پایا۔ اب بہت پر امید ہوکر کہتا ہے۔
’’میری نسل نے بھوک کو کم کرنے میں بہت مشقت جھیلی۔ انہوں نے ہل چلایا ہمارے بچوں کی نسل نے زراعت کو جدّت کے ساتھ جوڑتے ہوئے اِسے ترقی دی۔ مجھے امید ہے کہ ہمارے پوتے مختلف النوع علوم میں طاق ہوکر اِس ملک کی اور بہتر انداز میں خدمات سرانجام دیں گے۔ نئے افق اور نئی چراگاہیں اُن کی منتظر ہیں۔ ‘‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *