آزاد کشمیر کے سٹیٹس میں تبدیلی کے خدشات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


مسئلہ کشمیر کے اس پار ”بڑے مفاد کار“ کون رہے ہیں؟ ان پچھلے ستر سال میں، کن عناصر نے اس مسئلہ کے بل پر اور اس کی آڑ میں اپنی آئندہ نسلوں تک کی فلاح کا سامان کر لیا ہے، لہذا ان کو کچھ فرق نہیں پڑتا بلکہ ان کی اکثریت تو مسئلہ کشمیر کی لاش تک کی فروخت کے لیے اپنے آپ کو، خریداروں، کے سامنے رضامند، فروخت کنندہ بنا کر پیش کر رہے ہیں، تاکہ جہاں تک ہو سکے مسئلہ کشمیر کی لاش تک فروخت کر کے مزید کچھ قیمت و مفادات حاصل کئیے جا سکیں۔

آزاد کشمیر کے متوقع، سٹیٹس میں تبدیلی کے معاملے پر ان کی مجرمانہ خاموشی ان کی نیت کی گواہ ہے، اور حیرت انگیز طور پر جنہوں نے سب سے زیادہ متاثر ہونا ہے، یعنی آزاد کشمیر کے عوام، ان پر بھی قبرستان جیسی خاموشی طاری ہے، رہے خود کو ”قوم پرست“ کہلانے والے وہ اس صورتحال پر اس کے مضمرات اور اثرات سمجھے بغیر اس خوشی میں تالیاں بجا رہے ہیں کہ آزاد کشمیر کے لیڈر تو بے روزگار ہو جائیں گے۔ دراصل، مسئلہ تو آزاد کشمیر کے عام باشندوں اور عوام کا ہے جو مسئلہ کشمیر کا حصہ ہونے کی وجہ سے پانچ ہزار مربع میل کے رقبے میں نوکریوں اور حصے سے بہت زیادہ مراعات کی شکل میں جائز مفادات حاصل کرنے کے عادی بن چکے ہیں، اب ان کو اپنے اپنے ملحقہ علاقوں میں اپنے اصل قبائل کے بڑے حصوں کے ساتھ ضم کیا جائے گا، تو وہاں ان کے بارے میں کیا کوئی تخصیص ہوگی؟

جو آج چند ہزار ووٹ پر ممبر اسمبلی بن کر کسی حد تک اپنے ووٹرز کے تعمیر و ترقی و بہبود کے کام کرتے رہے، کیا یہ حضرات اپنے اصل قبائل کے غالب حصے میں رہ کر یہی تخصیصی درجہ اور حیثیت حاصل کر پائیں گے؟ لہذا حقیقت یہ ہے کہ اس تشخص کے خاتمے اور انضمام کی وجہ سے لیڈرز کی بہ نسبت، آزاد کشمیر کے عوام زیادہ متاثر اور مشکلات کا شکار ہوں گے۔ لہذا چند حلقوں اور افراد کی طرف سے اظہار اطمینان اور خوشی کچھ قبل از وقت ہے۔

آنے والا وقت بہت کچھ ایسا سامنے لائے گا، جس کا شاید تصور کرنا بھی آج کے حالات میں مشکل ہے۔ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ، یہ مدنظر رکھا جانا ضروری ہے، کہ اس موجودہ صورتحال کے تسلسل کا آغاز ظاہری طور پر کب سے اور کہاں سے ہوتا دکھائی دیتا ہے، بظاہر اس صورتحال کا آغاز بھارت اور امریکہ کے درمیان سڑیٹیجک پارٹنر شپ کے قیام کے بعد سے ہوتا ہے، اور کشمیر کے معاملے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حارحانہ اقدامات کا آغاز بھی اسی بھارت امریکہ پارٹنر شپ سے ہوتا ہے اور شواہد سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کو بھی بعد میں کچھ ”خدشات“ کا شکار کر کے ”اکتفا“ کر لینے پر مجبور کر دیا گیا، جن خدشات کی طرف محترم وزیر اعظم پاکستان کئی تقاریر میں اشارہ کر چکے ہیں، کہ بھارت کوئی بہانہ بنا کر آزاد کشمیر پر جنگ مسلط کر سکتا ہے، لہذا ایک طرف نریندر مودی نے اجیت دوگل ڈاکٹرائن کے تحت مقبوضہ کشمیر میں طاقت کے غیر انسانی اور ظامانہ اقدامات کی مدد سے بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی درجے کا خاتمہ کر دیا، اور اس کے ساتھ ساتھ طویل مدتی اقدام اور پیش بندی کے طور پر مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں کو اس اکائی سے علیحدہ کرنے اور وہاں مسلم آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کا کام تیزی سے شروع کر دیا گیا، اس عمل کے دوران مقبوضہ کشمیر کی تمام مقبول لیڈر شپ کو مسلسل جیلوں میں رکھا گیا ہے، اور وادی کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقوں کو تاریخ کے طویل ترین کرفیو کے ذریعے کسی بھی پرامن احتجاج سے بھی روک دیا گیا ہے۔

دوسری طرف امریکی خواہش اور شاید سرپرستی میں ٹریک ٹو ڈائیلاگ کا ”خفیہ“ آغاز کیا گیا جن کو پاکستانی اور کشمیری عوام سے بوجوہ پوشیدہ رکھا گیا اور یہ پوشیدگی ہی ان ”مذاکر ات“ کی نوعیت، کے بارے میں کچھ اندازہ لگانے میں مدد دیتی ہے۔ ابھی تک تو عوام کے سامنے اتنا ہی آ سکا ہے کہ پاکستان اور بھارت دو ہزار تین کے امن معاہدے کی ”سختی“ سے پابندی کریں گے، لیکن اس ”نیک کام“ کے قیام کا اعلان چند پراسرار وجوہات سے دونوں ممالک کے ملٹری آپریشنز کے سربراھان سے کروانا بہتر خیال کیا گیا، شاید اگر ان اقدامات کو ٹریک ٹو مذاکر ات کے حوالے سے مشتہر کیا جاتا تو اس مسئلہ یعنی مسئلہ کشمیر کے بارے میں وہیں زیر کار چند مہلک اقدامات جو کہ ممکنہ طور پر ”پائپ لائن“ میں ہیں، کی طرف بھی عوام یا میڈیا کی توجہ چلی جاتی، جو کہ ان اقدامات کے نفاذ کے بارے میں عوام میں کسی مخالفت یا سیاسی مزاحمت کا باعث بھی بن سکتا تھا۔ کشمیر کے حریت پسند اور عوام مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ راے شماری کے ذریعے اپنے حق خود ارادیت کے اظہار کے تسلیم شدہ اور بنیادی انسانی حق کے ذکر یا نفاذ کے بجائے، کسی خفیہ مفاہمت کے تحت آزاد کشمیر کے ممکنہ ادغام کے اقدام کو انتہائی پرتشویش نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply