بے درو دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مدت ہوئی اس نے ہونٹوں پہ قفل لگایا اور تکلم کو خیر باد کہہ دیا،
میں نے تجسس سے پوچھا
وہ کیونکر؟
بولی
کیونکہ وہ اپنی ذات کے غار حرا میں رہنے لگا۔
میں نے کہا واہ
یہ تو خوب کہا
ذات کا غار حرا
جب تم خامشی کا چلہ کاٹ چکو تو توقف کے بعد میں نے پوچھا
” اگر تمہیں موقع ملے تو تم کس سے بات کرنا پسند کرو گی؟“
کہنے لگی،
دیواروں سے!
کس کی دیواروں سے؟
میں قلعے کی دیواروں سے پوچھوں گی
یہاں کون کون رہتا رہا
ان دیواروں نے کس کس دشمن کے خلاف اسے پناہ دی؟
کتنے شب خون مارنے والے نراس لوٹ گئے؟
کتنی کنیزیں یہاں لائی گئیں اور کتنے غلام یہاں سربسر رہے؟
قلعے کی دیواروں نے کیا کیا تیر کھائے؟ کس کس کے خلاف نبرد آزما رہیں؟
کون سے شاہی فرمان یہاں سے جاری ہوتے رہے؟
میں نے کہا
اور اور کس سے پوچھو گی اور کیا؟ میں تمہاری خامشی کی کوکھ میں پلنے والے سوالوں تک رسائی چاہتی ہوں۔
بولی
میں سرشام سو جانے والے مفلس کے چراغ سے پوچھوں گی کہ
روشنی دھواں دھواں کیسے ہوئی؟
وہ بولی میں پوچھوں گی، شمع کی لو سے کہ کتنے رنگ بدلے اس نے سحر ہونے تک!
اور کس سے کیا پوچھو گی؟
کس سے کلام کرو گی؟
میں بازار میں بکنے والے کھلونوں کی دکانوں میں پڑے کھلونوں سے پوچھوں گی کہ
قیمت لگنے کا بھی کوئی غم ہوتا ہے کیا؟
سودا کرنے والے سودائی تو نہیں ہوتے!
اور ریلوے سٹیشن کے بینچ سے سوال کروں گی جس پر ریزگاری گننے والی بھکارن نے اپنے چولے پر پڑے
چھید نہیں گنے اور بہت سے چھید رفو کے بنا رہ گئے۔
اور وہاں سے چلتے چلتے میدانوں کی

مٹی سے پوچھوں گی کہ وہ کیسے گل و گلزار ہوئی پھر مٹی برتنے والے ہاتھوں سے ہاتھ ملاؤں گی یہ پوچھنے کے لیے کہ

کیا پورا موسم محنت کے بعد ملنے والی اجرت سے گزر اوقات ہو جاتی ہے یا خوشیاں ایسے ہی روٹھی رہتی ہیں جیسے چوبارے پر بسنت

اور شہر کی دیواروں سے جانوں گی کیا اس پہ لکھی گئی نامہربان تحریریں اسے پسند ہیں؟
کیا وہ جواب دیں گی؟

ہاں وہ جواب دیں گی اس نے وثوق سے کہا اگر اس شہر میں رہنے والیاں اپنے اپنے ماتھوں پر لکھی جانے والی نامہربان تحریروں کے تحریرنامے پر راضی ہیں تو ہم بھی ان تحریروں پر شاکر ہیں۔

سنو۔ اور بتاؤ
اور میں شادی گھروں کی دیواروں سے

شاموں کو جن کے ماتھے پر پیلے پھول کھلتے ہیں راتوں کوشہنائی بجتی ہے اور اگلی صبح دیواروں پر تقریب نہ ہو نے کی صورت میں برتا جانے والا سامان لاوارث مال کی طرح الٹا پڑا رہتا ہے بے اعتنائی کی مکھیاں جس پر بھنبھنایا کرتی ہیں۔ گزرتے گزرتے کسی ہسپتال میں بنے

زچہ خانے کے وارڈ کی دیواروں سے جو دن رات تخلیق کار کے درد زہ والی چیخیں سنتی ہیں۔

قید خانوں کی دیواروں سے جہاں زندگی نئے مفہوم کھولتی ہے اور کال کوٹھڑی کی کالی چھت سے جسے اگلے دن جھول جانے والا دیر تک حیرانی پریشانی پشیمانی سے گھورے جاتا ہے، جب صبح اس نے زندگی کو آخری بار گلے مل کررخصت کرنا ہوتا ہے۔

ایسی ہی ایک موت کا منظر لکھنے کے بعد ۔ مدت ہوئی اس نے ہونٹوں پہ قفل لگایا اور تکلم کو خیر باد کہہ دیا۔

میں نے سوچا۔
بے درو دیوار سا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply