موٹروے ریپ کیس: مرکزی ملزمان عابد ملہی اور شفقت کو موت، عمر قید اور جرمانے کی سزائیں

عباد الحق - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی ایک خصوصی عدالت نے موٹر وے پر خاتون کو ڈکیتی کے بعد ریپ کا نشانہ بنانے والے دو ملزموں کو موت کی سزا سنا دی ہے۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے کیمپ جیل لاہور میں دونوں ملزموں کی موجودگی میں فیصلہ سنایا۔

دونوں ملزمان کو 50 پچاس ہزار روپے جرمانے کے ساتھ عمر قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق ملزمان اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں اور اُن کے پاس لاہور ہائی کورٹ اور وہاں سے اپیل مسترد ہونے کی صورت میں سپریم کورٹ تک کیس لے جانے کا آپشن موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیے

موٹروے ریپ کیس کا ایک ملزم پولیس کی تحویل میں، تفتیش جاری

موٹروے ریپ کیس: ’پنجاب حکومت کا واحد فوکس ملزمان تک جلد از جلد پہنچنا ہے‘

موٹروے واقعہ اور میڈیا پر ’شناخت پریڈ‘: ’متاثرہ خاتون کی اصل آزمائش تو اب شروع ہو گی‘

گذشتہ برس 9 ستمبر کو لاہور کے قریب موٹر وے پر رات کے وقت دو ملزموں نے ڈکیتی کے بعد بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیا تھا۔ پولیس نے پہلے ایک ملزم شفقت کو گرفتار کیا اور پھر دوسرے ملزم کی گرفتاری ہوئی۔

موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کے مقدمے کا ٹرائل سکیورٹی کی وجہ سے جیل میں کیا گیا۔

اس کے بعد میڈیا پر یہ معاملہ شہ سرخیوں میں رہا اور پنجاب حکومت پر اس حوالے سے کارروائی کے لیے بہت دباؤ تھا۔

موٹروے ریپ

Getty Images
ریپ کیس کے ایک ملزم کو 13 اکتوبر 2020 کو بکتر بند گاڑی میں عدالت سے واپس لے جایا جا رہا ہے

پہلے پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا تھا تاہم دوسرا ملزم متعدد چھاپوں کے باوجود پولیس کی پہنچ سے نکلنے میں کامیاب رہا تھا۔ دوسرے ملزم کو ایک ماہ کے بعد گرفتار کرنے میں پولیس کامیاب ہوئی تھی۔

پولیس نے چار ماہ کی تاخیر سے تین فروری کو مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا جس کے بعد اس پر ٹرائل شروع ہوا۔ عدالت نے متاثرہ خاتون سمیت مقدمے میں تین درجن سے زائد گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے۔

دونوں ملزمان عابد ملہی اور شفقت نے اپنی صفائی میں بیانات ریکارڈ کروائے، جس کے بعد عدالت نے وکلا کے حتمی دلائل سننے اور ان کے مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

موٹروے ریپ کیس کا پس منظر

ستمبر 2020 میں لاہور کے تھانہ گجرپورہ میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ گوجرانوالہ کے رہائشی درخواست دہندہ کی رشتے دار خاتون کی گاڑی کا لاہور کے علاقے گجرپورہ کے قریب جنگل کے قریب پیٹرول ختم ہو گیا تھا اور وہ مدد کے انتظار میں کھڑی تھیں۔

ایف آئی آر کے مطابق درخواست دہندہ کی عزیزہ نے بتایا کہ جب وہ پیٹرول کے انتظار میں کھڑی تھیں تو 30 سے 35 سال کی عمر کے دو مسلح اشخاص آئے، انھیں اور ان کے بچوں کو گاڑی سے نکال کر ان کا ریپ کیا اور ان سے نقدی اور زیور چھین کر فرار ہو گئے۔

ایف آئی آر کے مطابق خاتون سے ریپ کا واقعہ رات تین بجے کے قریب پیش آیا اور متاثرہ خاتون کے رشتے دار نے بدھ کی صبح 10 بجے پولیس سٹیشن گجر پورہ میں مقدمہ درج کروایا۔

مدعی نے پولیس کو بتایا کہ جب وہ اس جگہ پہنچے جہاں پر پیٹرول ختم ہونے کی وجہ سے روک گئی تو انھوں نے دیکھا کہ گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس پر خون کے دھبے تھے، جس کے بعد انھوں نے رشتے دار خاتون کو کرول کے جنگل کی جانب سے بچوں کے ساتھ آتے دیکھا۔

موٹروے پولیس نے کہا تھا کہ جس جگہ خاتون کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا وہ موٹروے پولیس کی حدود میں شامل نہیں ہے۔ ترجمان کے بقول رنگ روڈ موٹروے پولیس کی حدود میں نہیں ہے۔

اس وقت کے سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے موٹروے پر پیش آنے والے ریپ کے واقعے کے بعد متعدد ٹی وی چینلز پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ: ’تین بچوں کی ماں اکیلی رات گئے اپنے گھر سے اپنی گاڑی میں نکلے تو اسے سیدھا راستہ لینا چاہیے ناں؟ اور یہ بھی چیک کرنا چاہیے کہ گاڑی میں پیٹرول پورا ہے بھی یا نہیں۔۔۔‘

اس کے بعد اُنھیںسی سی پی او لاہور کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد انھوں نے معافی مانگ لی تھی تاہم ان کے بیان کا معاملہ پاکستانی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق تک بھی جا پہنچا جہاں انھیں قانون سازوں کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا۔

ملزم کی گرفتاریوں کی کوشش اور پہلی گرفتاری

پیر 14 ستمبر کی شام ٹوئٹر پر تفصیل بتاتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا تھا ‘سیالکوٹ موٹروے کے دلخراش واقعے میں خاتون سے زیادتی میں ملوث شخص گرفتار ہو چکا ہے۔’

ان کے بقول گرفتار شخص کا ‘ڈی این اے بھی میچ کر چکا ہے اور اس نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔’ پنجاب پولیس کے سربراہ انعام غنی نے بھی ٹوئٹر پر ایک پیغام میں بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے ملزم کا تعلق بہاولنگر سے ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل سنیچر 12 ستمبر کو وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کی سربراہی میں اعلیٰ حکام کی پریس کانفرنس میں جن دو ملزمان کی تفصیلات اور تصاویر جاری کی گئی تھیں، گرفتار ملزم ان میں شامل نہیں تھا۔

حکام نے جن دو افراد کی تصاویر اور معلومات جاری کی تھیں ان میں سے ایک نے اتوار 13 ستمبر کی صبح لاہور میں خود کو حکام کے حوالے کر دیا تھا اور خود پر عائد تمام الزامات کی تردید کی تھی۔

اس حوالے سے مزید پڑھیے

موٹروے ریپ کیس کا مرکزی ملزم ہر موڑ پر پولیس سے آگے کیسے

’ہمارے کپڑے نہیں تو ہمارا رویہ، وہ بھی نہیں تو وہ راستہ جو ہم نے لیا۔۔۔‘

پاکستان میں ریپ جیسے جرائم کے لیے کیا مزید قانون سازی کی ضرورت ہے؟

اُس ملزم کا کہنا تھا کہ اس کے جس موبائل نمبر کی بنیاد پر اسے واقعے میں ملوث قرار دیا گیا وہ اس کے زیرِ استعمال نہیں بلکہ اسے اس کے برادرِ نسبتی استعمال کرتے ہیں۔ پیر 14 ستمبر کی صبح مذکورہ برادرِ نسبتی نے بھی شیخوپورہ میں پولیس کو گرفتاری دے دی تھی اور واقعے سے کسی قسم کا تعلق نہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس کے بعد لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سیالکوٹ موٹر وے پر دوران ڈکیتی خاتون سے زیادتی کے ملزم کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ دیتے ہوئے انھیں جیل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18481 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp