دو ٹکے کا بنگالی” ہم سے آگے نکل گیا”



”دو ٹکے“ کے بنگالی ان دنوں جاہ و حشم سے اپنی پاکستان سے ”آزادی“ کی گولڈن جوبلی منا رہے ہیں۔ 25 مارچ کو یوم قیام بنگلہ دیش کی تقریب میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی مہمان خصوصی ہوں گے۔ ہمارے فیصلہ ساز یہی کر سکتے ہیں کہ لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنس کے تحت بنگلہ دیش کی 50 ویں سالگرہ کی مناسبت سے شیڈول ویبنار کو منسوخ کرا دیا ہے۔ یعنی 50 سال گزر گئے اب بھی پاکستان میں کوئی اس پر لب کشائی یا مغز ماری نہیں کر سکتا کہ بھائی آپ 93 ہزار وردیاں چھوڑ کے کیوں آئے تھے؟ ان 50 برسوں میں ٹکے کے طعنے کھانے والے بنگالی معیشت میں ایشین ٹائیگر بن گئے، ٹکا روپیہ کو پچھاڑتا ہوا آگے نکل گیا، بنگلہ دیش کی جی ڈی پی آپ سے دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی، چٹاگانگ کی تصویریں دیکھو تو پیرس کا گماں گزرتا ہے۔ جبکہ ”ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹو“ کہتے ہوئے آپ نے یہاں سیاست کے سوا کچھ نہیں کیا۔

جتنا نواز شریف اور بینظیر کی حکومتوں کو کرپٹ ثابت کرتے ہویے قابو میں رکھنے کے لیے آپ نے ریاستی مشینری کے ذریعے پروپیگنڈا کیا اس نواز شریف اور بینظیر سے کہیں زیادہ خالدہ ضیا اور حسینہ واجد بدعنوان ہیں جنہوں نے بنگلہ دیش کو بنگال ایشین ٹائیگر بنا ڈالا۔ اور یہ دونوں خواتین موروثی سیاست دان بھی ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں 50 سالوں میں جب ”دو ٹکے“ کے بنگالی ہمارے روپے کو ٹکے سے نیچے دھکیل رہے تھے تو ہم کیا کر رہے تھے۔

80 کی دہائی شروع ہوتے ہی ہم طالبان بنانے اور پالنے میں لگ گئے۔ فوجی حکومت نے باقاعدہ پلاننگ کے تحت ملک کو انتہا پسندی اور جہادی کلچر میں رنگ دیا۔ آج تک ہم اس کی زہر آور فصل کاٹ رہے ہیں۔

71 میں ڈھاکہ دینے کے بعد 84 میں ہمارے ”سیاست میں نہ گھسیٹو ’بھائی خود حکمران تھے اور سیاسی جماعت پیپلز پارٹی توڑنے اور کراچی میں ایم کیو ایم، پنجاب میں سپاہ صحابہ، سپاہ محمد وغیرہ بنانے میں لگے ہوئے تھے، عین اسی وقت ادھر انڈیا نے بنا کسی مزاحمت و مقابلے کے سیاچن پہ قبضہ کر لیا۔

96 میں دو تہائی اکثریت سے وزیر اعظم بننے کے بعد نواز شریف ویژن 2010 دیتا ہے اور انڈیا کے ساتھ جنگ کی بجائے تجارت کرنے واسطے واجپائی کو بلاتا ہے۔ واجپائی فروری 99 میں بس پہ بیٹھ کے بھارت سے لاہور آتا ہے اور جنوبی ایشیا یکایک جنگی ماحول سے نکل آتا ہے۔ لیکن کسی کو یہ ہضم نہیں ہوتا اور مئی 99 میں کارگل کر دیتے ہیں۔ کارگل کے بعد بقول مشاہد حسین سید کورٹ مارشل ہونا تھا یا مارشل لا۔ ہونا تو خیر کورٹ مارشل چاہیے تھا۔ مگر سقوط ڈھاکہ کی حمود الرحمان کمیشن رپورٹ دبانے والے مہاراج کا کورٹ مارشل بھلا کون کر سکتا تھا؟ آپ تو آپ ہیں مہاراج! آپ کی کیا بات ہے؟ مگر پوسٹ ٹروتھ پروپیگنڈے کا شکار اس ملک کے عوام کے بھی کیا کہنے! جب تک یہ قوم بھٹو کے 93 ہزار فوجیوں کو بھارت سے چھڑا کر لانے اور نواز شریف کے 5 جولائی کو بل کلنٹن سے منتیں کر کر کے کارگل سے جان چھڑانے کے احسانات کی قدر شناس نہ ہو گی، (جی ہاں! یہ بھٹو اور نواز شریف کے احسانات ہیں ) تب تک نہ اس ملک میں جمہوری کلچر پروان چڑھے گا نہ بنگلہ دیش کے قیام کے اسباب و محرکات پہ یونیورسٹیوں میں بات ہو سکے گی۔

بنگلہ دیش نے کرنسی سے لے کر کرکٹ تک ہر میدان میں ہمیں چت کر رکھا ہے اور ہم ہیں جنہیں بنگلہ دیش کا نام لینے کے لیے بھی سر کی پرمیشن چاہیے ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب بنگلہ دیش جسے ہم دو ٹکے کا ملک کہتے تھے، مودی کو چیف گیسٹ بنا کر ہمیں دو روپے کی ڈیپ سٹیٹ کہتا ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سکندر علی زرین

سکندر علی زرین کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ ماس کمیونیکیشن کے پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ گزشتہ دس برس سے جیو نیوز سے بطور ایسوسی ایٹ اسائنمنٹ ایڈیٹر منسلک ہیں۔ گلگت بلتستان کے اخبارات کے لیے رپورٹنگ کرتے ہیں اور کالم بھی لکھتے ہیں۔ سیاست، تاریخ، اردو ادب، ابلاغیات ان کے پسندیدہ میدان ہیں

sikander-ali-zareen has 48 posts and counting.See all posts by sikander-ali-zareen